علی گڈھ مسلم یونیورسٹی معاملہ

سرینگر // علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء نے یونیورسٹی کیمپس چھوڑنے کے فیصلے کو اُس وقت ترک کر دیا جب دو کشمیری طلبہ کی معطلی کے احکامات واپس لئے گے ۔ منگل کی شام کو یونیورسٹی کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے وسیم ایوب ملک اور عبدالحسیب میر پر لگائے گے الزامات کو رد کر دیا تھا اور اس دوران کہا گیا کہ اُن کے خلاف کسی بھی قسم کے غیر قانونی حرکت کے ثبوت نہیں ملے ہیں جس کے بعد بدھ کو یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ نے کیمپس کو چھوڑنے کے فیصلے کو ترک کیا ۔دو کشمیری طلبہ کی معطلی کے فیصلے کو رد کرنے پرمسلم یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹ صدر مشکور احمد عثمانی نے بتایا کہ دو کشمیری طلباء کی معطلی کو رد کرنے کا فیصلہ یونیورسٹی اور کشمیر طلبہ کیلئے ایک خوش آئندہ قدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک دشمن کارروائیوں کے خلاف ہیں اور ہم کس بھی صورت میں اس کو کالج میں ہونے کی اجازت نہیں دیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی طلبہ کو ہراساں کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے چاہئے وہ کشمیر سے ہو یا پھر کسی اور جگہ سے ۔ سجاد سبحان راتھر سابق سٹوڈین صدر اے ایم یو نے بھی اس معاملے پر منگل کو یونیورسٹی کے احاطے میں پرامن احتجاج کرتے ہوئے کشمیری طلبہ کیلئے انصاف کیلئے مانگ کی اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ ہم یونیورسٹی میں اپنے مستقبل کو سنوارنے آئے ہیں برائے کرم ہمارے ہاتھوں سے قلم مت چھینو ۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکند کارجو نے کشمیر طلبہ سے اپیل کی تھی کہ وہ جذبات میں آکر اپنے مستقبل کو تباہ نہ کریں ۔انہوں نے اس دوران کشمیری طلبہ سے کہا تھا کہ اگر انہیںاُن سے کس مدد کی ضرورت ہے تو وہ ہمیشہ اُن کیلئے دستیاب رہیں گے مسلم یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے اس معاملے میں سنجیدہ قرار دیتے  ہوئے یوپی پولیس اور حکومت سے بات کی تھی ۔