علی الاستقامت اورواقعۂ کربلا

حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو کوئی علم نہیں تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو کوفہ والوں نے دھوکہ دے دیا ہے اور انہیںؓ شہید کیا گیا ہے ۔اِس کے بر عکس آپ ؓ کوفہ کے سفر کی تیاریاں مکمل کر کے اپنے اہل و عیال اور خاندان کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب اہل عراق کی طرف سے حضرت حسین ؓ کو مسلسل اور متواتر خطوط آنے لگے اور اُن کے اور آپ ؓدرمیان بار بار ایلچی آنے لگے تو حضرت مسلم بن عقیلؓ کا خط بھی آیا کہ آپ ؓ اپنے اہل و عیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ آجائیں ۔ اِسی دوران میں حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کرنے کا وقوعہ ہوگیا اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اِس کا کچھ علم نہیں تھا بلکہ آپؓ کوفہ کی طرف روانہ ہونے اور اُن کے پاس پہنچنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے ۔آپؓ کی مکۂ مکرمہ سے روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو شہید کیا گیا ۔جب آپؓ کی کوفہ روانگی کا لوگوں کو علم ہوا تو وہ آپ پر رحم کھانے لگے اور کوفہ جانے سے روکنے لگے لیکن آپؓ کوفہ روانہ ہو گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید کی طرف سے عمرو بن سعید بن عاص حجاز کا گورنر تھا ۔اُس کے آدمیوں نے حضرت حسین بن علی ؓ اور اُن کے اہل و عیال اور خاندان کو کوفہ روانہ ہونے سے روکا ۔بحث و تکرار ہوئی اور لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نہیں رُکے اورآگے بڑھتے ہی رہے ۔ 
حضرت حسین ؓ مکۂ مکرمہ سے کوفہ کی طرف اپنے اہل بیت اور خاندان کو لے کر روانہ ہو گئے ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ سے باہر آکر کچھ دور پہنچے تھے تو حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق ؓ وہاں تیزی سے پہنچے اور آپؓ کو روکنے کی کوشش کرنے لگے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروقؓ مکۂ مکرمہ میں تھے جب آپ ؓکو اطلاع ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں تو آپ تیزی سے سفر کر کے تین دن کی مسافت پر اُن سے جا کر ملے اور فرمایا : ’’ اے آل رسولؓ ! آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟‘‘ حضرت حسین ؓ نے فرمایا : ’’ ملک عراق جا رہا ہوں اور یہ اُن کے خطوط اور بیعت ہے ۔‘‘ اتنا فرما کر حضرت حسین ؓ نے کوفہ سے آئے خطوط بتائے ۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ؓ نے فرمایا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میں آپ کو ایک حدیث بتاتا ہوں ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میںجبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ‘‘ تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا کو نہیں چاہا اور آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں ۔اﷲ کی قسم ! آپ میں سے کوئی بھی ایک شخص بھی کبھی دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا اور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس سے ہٹا کر اُس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے بہتر ہے ۔‘‘ ( حضرت حسین بن علی ؓ اور حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروقؓ جانتے تھے کہ وہاں جا کر شہید کر دیئے جائیں گے اور اﷲ تعالیٰ کا ارادہ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پورے ہوں گے ) حضرت حسین ؓ نے واپس مکۂ مکرمہ آنے سے انکار کر دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق  نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو گلے سے لگا لیا اور رونے لگے اور روتے روتے فرمایا : ’’ اے شہید رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ 
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے ’’استقامت‘‘ کی راہ اپنائی ۔اُس وقت ایک ’’رخصت‘‘ کی راہ تھی کہ نہ تو مخالفت کی جائے اور نہ ہی حمایت کی جائے ۔دوسری ’’استقامت ‘‘ کی راہ تھی کہ ’’حق‘‘ پر جم جائے۔حضرت حسین ؓ جانتے تھے کہ استقامت کی راہ پر جان جانے کا زیادہ اندیشہ ہے، اِس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ نے استقامت کی راہ کو اپنایا کیونکہ آپ ؓجانتے تھے کہ ’’رخصت‘‘ کی راہ اپنا کر دنیا ملے گی اور ’’استقامت‘‘ کی راہ اپنا کر آخرت ملے گی ۔اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی اپنے نانا جان صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح ’’آخرت‘‘ کو ہی چنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسیب بن عتبہ فزاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کو معزول کرنے کی دعوت دی اور عرض کیا : ’’ ہمیں آپ ؓاور آپ ؓ کے بھائی کی رائے کا علم ہے ۔‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ مجھے اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے بھائی رضی اﷲ عنہ کو جنگ سے رکنے کو پسند کرنے کی وجہ سے اُن کی نیت کے مطابق اجر دے گا اور مجھے ظالمین کے ساتھ جہاد کو پسند کرنے کی وجہ سے میری نیت کے مطابق مجھے اجر دے گا ۔‘‘
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اُن کے اہل و عیال اور اونٹوں کو چلانے والے اور خدام بھی ساتھ تھے، جب مقام ’’تنعیم‘‘ پر پہنچے تو سب کو اجازت دے دی کہ جو چاہے ساتھ چل سکتا ہے اور جو چاہے واپس جا سکتا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ جب مقام ’’تنعیم‘‘ پر پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو ملک یمن سے آرہا تھا ۔یمن کے گورنر بحیر بن ریسان نے یزید کے پاس اہل قافلہ کے ہاتھ درس اور ریشمی قمیص روانہ کئے تھے (درس زعفران سے مشابہ ایک خوشبو دار چیز ہے)یہاں پر حضرت حسین ؓ نے اونٹ والوں سے کہا: ’’ میں کسی پر جبر نہیں کروں گا ۔تم میں سے جو کوئی میرے ساتھ ملک عراق چلے گا ،میں اسے وہاں تک کا کرایہ دوں گا اور اچھی طرح سے پیش آؤں گا اور جو کوئی یہیں سے واپس جانا چاہے گا، اُسے یہیں تک کا کرایہ دوں گا اور وہ واپس جا سکتا ہے ۔‘‘ اُن میں سے جو واپس جانے لگے تو انہیں پوری اجرت دی اور جو ساتھ چلے تو انہیں اجرت بھی دی اور لباس بھی دیا ۔
حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مقام تنعیم سے آگے بڑھے تو مقام ’’صفاح‘‘ پر ملک عراق سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ فرزوق بن غالب ملا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : فرزوق بن غالب بیان کرتا ہے کہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے مکۂ مکرمہ جا رہا تھا ۔یہ حج کے دن تھے اور  ۶۰ ؁ ہجری کا واقعہ ہے کہ میں جب حرم کے قریب پہنچنے لگا تو دیکھا کہ مکۂ مکرمہ سے ایک قافلہ آرہا ہے ۔میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ تلواریں اور ڈھالوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔میں آپ ؓ کے پاس گیا اور عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ آپ حج کو چھوڑ کر جارہے ہیں ؟‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں جلدی نہیں کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا ۔‘‘ پھر مجھ سے دریافت فرمایا : ’’ تم کون شخص ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ ملک عراق سے آرہا ہوں ۔‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ جن لوگوں کے درمیان سے تم آرہے ہو اُن کا حال مجھ سے بیان کرو ۔‘‘ میں عرض کیا : ’’ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنو اُمیہ کے ساتھ اور حکم اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ تم نے سچ کہا ۔‘‘ اِس کے بعد میں نے کچھ باتیں اعمال حج کے بارے میںدریافت کیں وہ سب آپ رضی اﷲ عنہ نے بتا دیں ۔
 حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا مکۂ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہونے ایک سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ (حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے تین بیٹوں کے نام علی اکبر ، علی اوسط اور علی اصغر ہیں۔علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہوگئے تھے ، علی اوسط کا نام یا لقب زین العابدین ہے)بیان کرتے ہیں : ’’ جب ہم لوگ مکۂ مکرمہ سے نکلے تو حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار ؓ نے اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ ایک خط حضرت حسین ؓ کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا : ’’ میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھتے ہی واپس چلے آیئے ۔مجھے خوف ہے کہ آپ جہاں جا رہے ہیں وہاں آپ ؓ اور اہل بیت ہلاک نہ ہو جائیں ۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ہلاک ہوئے تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا ۔اہل ہدایت کے رہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ رضی اﷲ عنہ کی ہی ذات ہے ۔روانگی میں جلدی نہ کریں اِس خط کے پیچھے میں بھی آ رہا ہوں ۔،والسلام ۔‘
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)