علیحدہ ضلع کی مانگ ،نوشہرہ ،کالاکوٹ اور سندر بنی کی آبادی سراپا احتجاج

راجوری //حکومت کی طرف سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہ آتے دیکھ کر نوشہرہ کے لوگوںنے آج سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیاہے جبکہ سندر بنی اور کالاکوٹ میں بھی پچھلے تین روز سے ہڑتال کی جارہی ہے ۔نوشہرہ میں سترہویں روز بھی لوگوںنے بازار اور تجارتی سرگرمیاں بند رکھیں اور اس دوران بس اسٹینڈ پر دھرنا دیاگیا ۔دھرنے میں شامل لوگوںنے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایاکہ ان کے علاقے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیاجارہاہے ۔ انہوںنے کچھ دیر کیلئے گاڑیوں کی آمدورفت بھی بند کردی تاہم بعد میں ٹریفک بحال ہوگئی ۔بعدمیں مقامی لوگوں اور بیوپار منڈل کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران یہ فیصلہ لیاگیاکہ وہ آج یعنی پیر سے بھوک ہڑتال کریںگے جسے تب تک جاری رکھاجائے گاجب تک کہ حکومت ان کے مطالبے کو پور انہ کرے ۔انہوںنے کہاکہ علاقے کو علیحدہ ضلع کادرجہ دیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ہر ایک علاقے کے تئیں الگ سلوک کرتی ہے اور ان کے علاقے کو نظرانداز کیاجارہاہے ۔ادھرضلع درجہ کیلئے سند ربنی اور کالاکوٹ میں بھی ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ سندر بنی کے لوگوںنے مکمل بند کرنے کا اعلان کیا اور اس دوران احتجاج بھی کیاجائے گا۔مقامی لوگوں کی مانگ ہے کہ نئے ضلع کا دفتر سندر بنی میں قائم کیاجائے ۔اسی طرح سے کالاکوٹ میں بھی تین روزہ بند کال کے تحت تمام تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں اور لوگوںنے حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنادیا ۔ مقامی لوگوں کی مانگ تھی کہ علیحدہ ضلع قائم کیاجائے جس کا صدر دفتر کالاکوٹ میں ہو ۔کالاکوٹ میں دھرنے پر بیٹھے لوگوںسے خطاب کرتے ہوئے ٹرائبل ویلفیئر سوسائٹی چیئرمین ڈاکٹر ایم کے وقار نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ عوام کالاکوٹ کواحتجاج پر مجبور نہ کرے بلکہ عوام کے مطالبے اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے ضلع کا درجہ دیاجائے ۔وقار نے کہا کہ ریاستی سرکار کالاکوٹ کو قطعی نظر اندازنہیں کرسکتی کیونکہ یہاں کی آبادی بدھل اور کوٹرنکہ سے کئی گناہ زیادہ ہے اور رقبہ کے لحاظ سے بھی کالاکوٹ ضلع درجہ کا مستحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار اگر واقعی عوامی مفادات اوربہتر مستقبل میں یقین رکھتی ہے تو اسے کالاکوٹ کی پسماندگی کو دور کرنے کی غرض سے ضلع کا درجہ دیکر عوام کے ساتھ انصاف کرناہوگا۔ان کاکہناتھاکہ کالاکوٹ پچھلے سترسال سے پچھڑا ہوا ہے جہاں معقول تعلیمی نظم اور بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ترقی تعلیم ،سڑک روابط اور بجلی و پانی جیسی بنیادی ضروریات سے شروع ہوتی ہے جس کی فراہمی کے لئے انتظامیہ کی طرف سے اقدامات ناگزیر ہیں ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کی ہڑتال اور احتجاج میں شدت آتی جارہی ہے اور اگر حکومت نے مطالبہ پور انہ کیاتو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے ۔وہیں سیوٹ کے لوگوں کا ایک اجلاس منعقد ہواجس دوران آج بند کا فیصلہ لیاگیا ۔