علم کیا ہے ؟

 زیادہ  وقت نہیں گزرا کہ میری نظروں سے ایک ویڈیو کلپ گزری جس میں اسلام آباد پاکستان میں عدلیہ کی طرف سے ایک مقتدر تقریب کا اآنکھوں دیکھا حال فلمایا گیا تھا۔ مقررین میں مولانا طارق جمیل صاحب ،جو دنیائے اسلام میں ایک معتبر اور مقبول مبلغ دین مانے جاتے ہیں، پاکستان کے چیف جسٹس جناب نثار ثاقب صاحب اور پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب شر یکِ مجلس تھے۔ ان تینوں اصحاب نے علم کی اہمیت اور اسے حاصل کرنے پر زور دیا اور علم کو ہی معاشرے کے سدھار اور ملک کے وقار اور زندگی کے بناؤ سنگار کا مرکز یا ذریعہ بتایا مگر میری دانست میں ان میں سے کسی فاضل مُقرر نے یہ بتانے کی کوشش نہ کی کہ ان کے ذہن یا تصور میں علم کے کیا معانی اور مفہوم ہیں؟
  غالب امکان یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے ذہن میں علم کی جو صورت ہوگی، وہ اس تدبیر اور ترکیب سے مختلف ہوگی جو علم کے بارے میںچیف جسٹس صاحب کے تصور میں ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ عمران خان صاحب بھی علم کی اسی تعریف سے متفق ہوں جو مولانا صاحب یا جسٹس ثاقب صاحب میں کسی ایک نے اپنے خیال تختی پہ مرتسم کی ہو ۔ ممکن یہ بھی ہے کہ تینوں شخصیات کے ذہن میں علم کی ایسی شکلیں یا تصورات موجودہوں جو ایک دوسرے سے متضاد ہوں؟ لہٰذا ناچیز کی رائے میں عمران خان صاحب کا علم حوالے سے اپنا موقف، مولانا طارق جمیل صاحب کا اپنا نظریہ علم اور ثاقب نثار صاحب کا مصرفِ علم  ایک ودسرے سے کہیں ہم آہنگ بھی ہو سکتا ہے اور کہیں مختلف المعنی بھی ۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ عمران خان صاحب امارت کو علم سمجھتے ہوں، نثار ثاقب صاحب عدالت کو اور طارق جمیل صاحب خلافت کو علم سمجھتے ہوں۔ 
 دنیا میںحصول تعلیم کا نعرہ ہر کوئی لگا تو لیتا ہے اور اس کو زندگی کے لئے لازمی بھی بتاتا ہے، تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ ایک ہی سٹیج پہ آکر اس کی اہمیت پر تقریریں بھی کرتے ہیں اور کرکے چلے بھی جاتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ یہ علم آخر کس چیز کا نام ہے؟ سوال یہ ہے کہ علم کے معنی اور مفہوم لوگوں کو کون بتائے؟ پھر جب ان کے پاس جویائے علم انفرادی یا اجتماعی طور علم کا معنی معلوم کرنے جاتا ہے تو ایک کے علم کا مفہوم وتشریح دوسرے کے علم کے مفہوم وتشریح سے بسااوقات متضاد پاتا ہے کہ متلاشی ٔ علم کو علم روشنی نہیں اندھیرا سا دکھائی پڑتا ہے۔ پھر علم کے وسیلے سے متعلم کے سدھار، وقار اور سنگار کے مقاصد وہ نہیں رہتے جس کی شبیہہ ہم نے اپنے اپنے تخیل کے مطابق دماغ میں تراشی ہوتی ہے، بلکہ ہمارے لئے علم یا تو کنفیوژن کی صورت اختیار کرلیتا ہے یا زیادہ سے زیادہ روزی روٹی کمانے کے ذریعہ پر منتج ہوتا ہے۔ 
علم کی اہمیت، ضرورت اور فضیلت سے کسی انسان کو انکار نہیں۔ اَن پڑھ یا پڑھے لکھے، عالم یا جاہل، امیر یا غریب، مرد یا عورت، نیک یا بد، مسلم یا غیر مسلم، موحد یا ملحد، جو بھی انسان اس دنیا میں موجود ہے، تھا یا ہوگا، وہ اس بات سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ علم لاعلمی سے بہتر ہے۔ علم کی ضد لاعلمیت و جہالت یا ناخواندگی ہے۔ مختلف مذاہب میں علم کی الگ الگ تعریفیں پائی جاتی ہیں اور سائنس کے حوالے سے اس کے معنی ان تعریفوں سے جدا ہے جو مختلف مذاہب اپنے اپنے زاوئے سے بیان کرتے ہیں۔ علم معلومات سے نکلا ہے۔ جو جو بات انسان دریافت کرتا ہے یعنی اس کو از خود معلوم ہوتی ہیں یا دوسروں سے معلوم ہوتی جاتی ہیں تو وہ اس کی معلومات بنتی جاتی ہیں اور یہی معلومات اس کا علم بن جاتا ہے۔ وہ سلیقہ سیکھتا ہے اور برے بھلے میں تمیز کرنا جان لیتا ہے۔ اسے اچھے اور برے اوصاف کا پتہ چلتا ہے اور ان معلومات کی روشنی میں وہ اپنے اخلاق درست اور خیالات ٹھیک کرنا شروع کردیتا ہے۔ چنانچہ متعلم میں سدھار آنا شروع ہوتا ہے اور تہذیب وادب کا علم اس کے مزاج میں سرایت کرجاتا ہے اور وہ مہذب بن جاتا ہے۔ پھر اس کی فطرت کے اندر رکھا ہوا تجسس اور تخلیق کا مادہ سر ابھارنا شروع کردیتا ہے تو وہ اپنی ضرورتوں کے لئے نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے لگتا ہے، جب کہ کوئی قدرت کے رازوں کو جاننے کی کوشش میں ستاروں تک پہنچ جاتا ہے اور یوں انسان سوئی ،غلیل اور تیرکمان کی منزلیں طے کرتا ہوا نیوکلائی طاقت بن جاتا ہے، سمندروں کو گزرگاہ بنالیتا ہے اور خلاؤں میں محو پرواز ہوجاتا ہے۔ کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنی تخلیقی قوتوں کا مظاہرہ کرکے غزالیؔ ، فردوسیؔ، سعدیؔ، حافظ، گورکی، شیکسپئیر، ابسن، ٹالسٹائی، چیخوف، شیرازیؔ، وغیرہ وغیرہ بن جاتے ہیں۔ 
اگر ہم علم کو اسلامی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو جتنا زور اس دین حق نے حصول ِعلم پر دیا ہے، شاید ایسی تاکید اور ترغیب کہیں اور نہیں ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لئے علم کا حاصل کرنا فرض ہے۔ایک اور مشہور حدیث ہے:علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: ایک گھڑی علم کی طلب و تلاش کرنا پوری رات قیام کرنے سے بہتر ہے اورایک دن علم کی تلاش و طلب کرنا تین ماہ کے روزوں سے بہتر ہے ۔ ایک دوسری حدیث ہے: جب تم جنت کے باغات سے گذرو تو کچھ چر لیاکرو ۔ کسی نے عرض کی: جنت کے باغات کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا: علم کی مجالس۔یہ بھی حدیث ہے کہ تُو صبح کر اس حال میں (کہ) عالم ہو یا متعلم یا دھیان سے(دین کی باتیں) سننے والا یا محبت کرنے والا (عالم دین سے علم دین کی وجہ سے ) اور تُو پانچواں نہ ہونا کہ ہلاک ہوجائے گا۔ 
یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس دل میں حکمت و دانائی سے کچھ نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے، پس تم سیکھو اور سکھاؤ اور (دین میں ) سمجھ حاصل کرو اور جاہلوں کی موت مت مرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ لاعلمی کا عذر قبول نہیں فرماتا۔ایک اور جگہ فرمایا: ہر چیز کے لیے ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کرلینے کا زیادہ حق رکھتاہے۔
علم کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا مگر علم کس کو کہیں؟ یہیں سے علم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ بزرگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ بعض دفعہ باطل حق کی شکل میں بھی نمودار ہوتا ہے اور آدمی علم نہ ہونے کے سبب اس کا شکار ہوتا ہے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ شیطان کے پاس اسی (80) ہزار نورانی داؤ ہیں جن سے وہ انسانوں کو شکار کرتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ مشہور روایت بیان کی جاتی ہے کہ جب حضرت پیر پیران شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ایک جنگل سے گزر رہےتھے تو ایک نورانی تخت اُن کے سامنے ظاہر ہوا، جس سے آواز آئی:اے عبدالقادر جیلانی! میں جبرئیل ہوں۔ اللہ تمہاری عبادات، ریاضات اور مجاہدات سے خوش ہوا اور تمہاری نماز تمہارے لئے معاف فرمادی۔حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے سوچا کہ نماز تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی معاف نہ ہوئی تھی، مجھ پر کیسے معاف ہوسکتی ہے!! فوراً ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ شیطان مردود ہے۔ انہوں نے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھا تو وہ ’’نورانی‘‘ ( جعلی فریبی) تخت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور شیطان ذلیل وخوار ہوکر آپ ؒ کے سامنے گرگیا۔ شیطان نے کہا: اے عبدالقادر! تجھے میرے اس داؤ سے اپنے علم نے بچالیا۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ بولے،:اے مردود! مجھے اللہ کے فضل نے بچایا۔
بزرگوں سے سنا ہے کہ شطان کا یہ دوسرا داو پہلے داؤ سے زیادہ سخت تھا۔ کہتے ہیں کہ اگر شیخ نے کہا ہوتا کہ ہاں مجھے اپنے علم نے بچالیا تو ان کی ولایت چھینی گئی ہوتی۔اس لئے ظاہر ہے کہ یہ اگرچہ علم ہی تھا جس نے شیخ کو شیطان کے داؤ سے بچالیا تھا مگر عالموں کی صحبت میں اُنہیں یہ تعلیم ملی تھی کہ علم بھی حقیقت میں اللہ کا فضل ہے اور جب انسان اسے اپنا کمال سمجھے تو اس علم سے اللہ کا فضل اُٹھ جاتا ہے۔ چنانچہ علم کی شکل بدل جاتی ہے، پھر علم راہ ِراست کی روشنی نہیں بلکہ گمراہی کا اندھیرا بن جاتا ہے۔ وہی علم جو پہلے انعام ورحمت تھا، اللہ کے فضل کے اُٹھ جانے سے تکبر اور گمراہی بن جاتا ہے۔
عام فہم میں عالم اس شخص کو کہتے ہیں جو علم والا ہو۔ مگر جب علم کی بات آتی ہے تو اختلاف پڑجاتا ہے کہ علم کس چیز کو کہیں اور علم کی صحیح تشریح کیا ہے؟ 
کیا علم دینیات کو کہتے ہیں؟ کیا علم معلومات کا نام ہے؟ کیا علم کسی پیشے کا سیکھنا ہے؟ یا علم کسی کیفیت، جذبے یا عمل کا عنوان ہے؟ان سوالوں کے ساتھ ہی انسانی ذہن میں دوسرے سوالات بھی ابھرنا شروع ہوتے ہیں، مثلاً علم کی خصوصیات کیا ہیں؟ کیا علم کا انسان کی جسمانی زندگی سے تعلق ہے یا پھر کوئی ایسا بھی علم ہے جس کی انسانی زندگی کو پانے کی تمنا اور تلاش رہتی ہے؟ کیا علم ایک ضرورت ہے یا یہ کسی طلب کا نام ہے؟ اور اگر یہ طلب ہے تو انسان کیا ڈھونڈنے لگتا ہے؟ سوالوں کا یہ سلسلہ طویل ہے اور ہر سوال کی پیاس علم کے بغیر کسی اور چیز سے بجھ نہیں سکتی۔ جب پیاس لگتی ہے تو پانی کے بغیر کوئی اور ایسی چیز دنیا میں دستیاب نہیں ہے جس سے پیاس کی طلب مٹائی جاسکتی ہو۔ اسی طرح تجسس اور سوالوں کی پیاس کا علاج بھی صرف علم ہے۔جب کوئی علم کی بات کرتا ہے تو وہ اسی زاویہ ٔ نگاہ سے کرتا ہے، جس معنی میں وہ علم کو سمجھ چکا ہو اور جس معیار کے علم کی حقیقت کا قائل ہو۔ عالم جب بھی علم کی بات کرے گا تو ظاہر ہے وہ اسے اسلامی نقطہ ٔ نگاہ سے ہی بیان کرے گا۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ عالم اسلام کو کس حد تک سمجھ چکا ہے کیونکہ جب وہ علم کی تفسیر کرے گا تو اپنی سوجھ بوجھ کے معیار سے ہی کرے گا۔ وہ اس علم کو اسی طرح بتائے گا جس طرح اس نے اپنے اُستاد سے رَٹ لیا ہو یا کسب کیاہو ،یا اپنی عقلی استعداد، دوسرے علوم کی اساس اور وقت کے تقاضوں اور محل ووقوع کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلامی علوم ومعارف کی تشریح کرے گا۔ چونکہ عقلی استعداد ایک جیسی نہیں ہوتی ہے اور علوم کی اساس یا اخذواستفادہ  کی قابلیت بھی انسانوں میں یکساں نہیں ہوتی، اسی مناسبت سے بصیرت، ادراک اور فہم وفراست، نظر و قلب کی وسعت بھی مختلف انسانوں میں مختلف ہوتی ہے، لہٰذا ظاہر ہے کہ اسلامی نقطہ  ٔنگاہ سے بھی علم کی تشریح مختلف علمائ وفضلا کی مختلف ہوگی۔ صلاحیتیں اگرچہ خداداد اور عطائی ہوتی ہیں مگر مختلف علوم کا سرمایہ اور فکر ان صلاحیتوں میں وسعت اور سوچ میں گہرائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی عالم دین کو ذکر وفکر کی ایک ایسی تنگ وتاریک کوٹھری بنادیتا ہے کہ اس میں گھس کر دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے اور اس کوٹھری سے باہر ہی کھلی فضا دکھائی پڑتی ہے۔ دوسرا عالم ایسا ہوتا ہے جو انسان کو اس کی عقلی استعداد کے اعتبار سے زندگی کے اصل حقائق سے آشنا کراتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ زندگی محض جسمانی اعضا کی حرکتوں کا نام نہیں ہے اور جینے کا عمل صرف ان حرکتوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ ایک کامل عالم کی صحبت میں ایک حساس انسان کو اس حقیقت کا احساس ہونے لگتا ہے کہ انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ بھرپور طور جینے کے باوجود اس کی سوچ اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں کہ وہ جینے سے ہی اُکتا جاتا ہے۔ ایک کامل عالم متعلم کو یہ دنیا تنگ وتاریک کوٹھری ثابت کرکے دکھادیتا ہے، چنانچہ اسے دین کی وسعت ہی ایسی کھلی فضا دکھائی دیتی ہے جہاں کی وسعت میں روح بھرپور انگڑائی لینے کی جگہ پاتی ہے اور زندگی کی سستی اور جینے کا تناؤ دور ہوجاتا ہے۔ 
انسان کو جب موت کی یاد یا اس کا علم ستانے لگتی ہے تو وہ دنیا میں خوف زدہ رہ کر جینے لگتا ہے، پھر یا تو اسی خوف میں جی جی کر پگھل جاتا ہے یا اُسے اپنی فکر سے یہ احساس ملتا ہے کہ نہیں، میری زندگی کا محض اتنا مختصر مقصد نہیں ہوسکتا کہ یہاں دنیا کی زندگی میں کچھ کھا پی کر ختم ہوجاوں بلکہ میری تخلیق میں ضرور کوئی مقصد ہوگا، کوئی حکمت ہوگی، کوئی راز ہوگا۔ وہ سوچتا ہے کہ میری تیاری کسی خودبخود عمل کا نتیجہ نہیں ہوسکتی اور ضرور میں کسی کی تخلیق ہوں اور کسی نے مجھے تیار کیا ہے۔ ایسے انسان میں ایک طلب پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے مقصد کی تلاش اور مقصود ڈھونڈنے میں اپنی زندگی کا سرمایہ لگالیتا ہے اور اسی راہ کا مسافر بن جاتا ہے مگر اس راہ میں رہزنوں کی کثیر تعداد بھی بیٹھی ہے۔ اگر انسان اُن کے ہتھے چڑھ گیا تو بربادیاں اور تباہیاں اس کا ابدی مقدربن سکتی ہیںاور اگر اس نے اپنی فہم و فراست سے کسی اہل علم، عالم حق، وسیع النظر اور اَکمل رہبر کو پانے میں کامیابی حاصل کرلی تو پھر وہ ایسا ابراہیم بن ادہمؒ بن جاتا ہے جس نے بادشاہت چھوڑنے اور پھر فقیری اختیا کرکے معرفت وحقیقت کا وہ مقامِ پادشاہی پالیا تھا کہ اکثر کہا کرتے تھے اگر دنیا کے بادشاہوں کو میری اس سلطنت کا علم ہوجائے گا جو میرے پاس ہے تو وہ اپنا لاؤ لشکر لے کر اس پر چڑھائی کرنے دوڑیں گے!
مگر المیہ یہ ہے کہ کچھ 'صوفی اسی بات کو علم اور مقصدِ زیست بناکر لوگوں کو عجمی تصوف کے ایسے جال میں پھنساتے رہے کہ مسلمان نہ گھر کا رہا اور نہ گھاٹ کا۔ وہ نہ ہی ابراہیم بن ادہم ؒہی بن سکا اور نہ ہی ملک وقوم کو کچھ دے گیا۔ شکم پرست ملا نے اسے وہیں پر پہنچادیا جہاں اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ ‘‘ میں ابلیس کے ذریعہ یہ کہلوایا تھا   ؎
مست رکھو ذکر وفکر صبح ِگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
پھر جہاں جہاں ایسے ملا کو کوئی سیدھا سادہ مسلمان ملا تو اس نے اُسے بھی وہیں ڈبودیا جہاں پہ خود ڈوبا تھا   ع
ہم تو ڈوبے ہیں صنم پر تم کو بھی لے ڈوبیں گے ہم
دوسرا علم مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ یہ ساری زندگی شکم کے محور پر گھومتی ہے اور اگر شکم میں ’’ایندھن‘‘ ہے تو زندگی چلے گی اور اگر نہیں ہے تو زندگی رُکے گی۔ انسان کے علم کا مقصد ہی شکم بنایا گیا۔ شکم کا معنی محض روٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ شکم کا اصل معنی نفس کی وہ بھوک ہے جو دنیا میں رہ کر انسان کو ’’ھل من مزید‘‘ کے تقاضوں سے ہمیشہ پریشان رکھتی ہے۔ ایک بھوک تو وہ ضرورتیں ہیں جس پر نفس کی زندگی کا دارامدار ہے، مگر اس کے علاوہ ایک بھوک وہ بھی ہے جو نفس کی بھٹی سے خواہشات کا دھواں بن کر اُبھرتی ہے۔ ایسا علم انسان کی دنیوی راحتوں پر گھومتا ہے اور ایسے علم کے مبلغ انسانی زندگی کا یہی مطلوب اور مقصود بناتے ہیں، ایسے قبیل کے لوگوں میں کچھ تو آخرت کی زندگی کے سرے سے ہی منکر ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک غیب کی باتوں کی حیثیت یا اہمیت خوابوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی، جب کہ کچھ اور اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ دوسرا حلقہ نماز، روزہ کے علاوہ دین کے چند اور معاملوں کا کچھ حد تک پابند تو نظر آتا ہے مگر جھوٹ، فریب، جعلسازی وغیرہ میں بھی گرفتار ہوتا ہے۔ کچھ تو سود، شراب خوری، بدکاری اور بدچلنی وغیرہ کے ارتکاب سے بھی اپنے کو روک نہیں پاتے۔ ان لوگوں کا سارا یا زیادہ دھیان دنیوی زینت وراحت پر رہتا ہے۔ یہی لوگ علم کے باغی اورجہل ِ مرکب کے پجاری ہوتے ہیں۔
(باقی باقی)