علم۔ اسلام کی نظر میں فہم و فراست

شیخ افلاق حسین
دنیا کے دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں دین اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے اپنی شروعات علم سے کی ہے، مذہب کی بنیاد ایمان و عمل ہے اور ایمان و عمل کی بنیاد علم ہے۔ اسلام نے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے، اور اقوام متحدہ نے حق قرار دیا ہے۔ حق اور فرض میں یہ فرق ہے کہ حق کو چھوڑا جاسکتا ہے، مگر فرض چھوڑا نہیں جاسکتا، اگر کوئی اپنا حق نہ لے تو اس پر زور و زبردستی نہیں ، مگر کوئی اپنا فرض انجام نہ دے تو اس سے باز پرس ہوگی۔
رسول ﷲؐ نے تعلیم حاصل کرنے والوں کو ﷲ کا مہمان اور ﷲ کا مسافر کہا ہے جو براہِ راست ﷲ کی حفاظت میں رہتا ہے اور دنیا کی ہر شے ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرتی ہیں۔ علم کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان ہوجائے ، اپنے معاشرہ اور کائنات کی پہچان ہوجائے اور اپنے خالق و مالک کی اور اپنے رب کے احکامات کی پہچان ہوجائے۔ انسان کو حاصل ہونے والے علم کے دو حصّے ہیں : ایک الہامی علم Revealed Knowledge ہے جو ﷲ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے بھیجتا ہے ، جبکہ ایک علم بالحواس یا اکتسابی علم Acquired Knowledge ہے جو انسان خود حاصل کرتا ہے ، یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔
یہ بات واضح رہے کہ اسلام نے علم کو دین و دنیا میں تقسیم نہیں کیا ہے۔ ہر وہ علم جو انسان کوا ﷲ کے نزدیک کرے ،وہ دینی علم ہے اور وہ علم جو ﷲ سے دور کرے، وہ لادینی کا علم کہلائے گا۔بقول شاعر :
اﷲ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ : ’’ جو تعلیم بندے کوا ﷲ سے نہیں ملاتی، توحید کا تصّور واضح نہیں کرتی ، اﷲ کی حدود میں رہ کر زندگی بسر کرنے کا شعور نہیں دیتی، اخلاق کو نہیں سنوارتی اور محب وطن و محب اسلام نہیں بناتی ، وہ تعلیم جہالت ہے ، اور جہالت چاہے قدیم ہو یا جدید ہو ، بہر صورت جہالت ہے۔‘‘
اس امت کو دنیا میں باقی رہنے اور ترقی کرنے کے لیے دو بنیادی نظریے عطا کیے، ایک علم اور دوسرا ایمان۔ یہی دونوں چیزیں امتِ مسلمہ کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اور انہیں بنیادوں پر امت ترقی کرسکتی ہے۔ دین اسلام کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جو علم غیر مسلموں کے پاس ہے، اسے بھی ہم حاصل کریں، کیونکہ علم مومن کی میراث ہے۔
حضرت مصعب نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا : ’’بیٹے علم حاصل کرو ،اگر تمہارے پاس مال ہے تو علم تمھارا جمال ہے، اور اگر تمھارے پاس مال نہیں ہے تو علم تمہارا مال ہے۔‘‘ رسول ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی والد اپنی اولاد کو عمدہ تعلیم سے بہتر تحفہ نہیں دیتا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو علم و ایمان کے نور سے منور کردے۔
رابطہ۔9858163952