علماء اور ائمہ ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیں:میرواعظ

 سرینگر//ملی وحدت کو زک پہنچانے والے بعض ایجنسیوں کی ایما پر کام کررہے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ ریاست میں صدیوں سے قائم ملی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ میرواعظ منزل پر زندگی کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے بااثر علماء کے ایک وفد،جس میں مولانا غلام علی گلزار، مولانا شیخ غلام حسین متو، مولانا علی محمد جان، مولانا حکیم سجاد حسین، مولانا نذیر احمد، مولانا غلام مصطفی میر فاطمی، مولانا منظور احمدملک، مولانا عاشق حسین میر وغیرہ نے ملاقات کی۔ اس موقعہ پر میرواعظ نے کہاکہ جموںوکشمیر میں ملی وحدت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو قائم رکھنے اور مسلمانوں کے سبھی فرقوں کے درمیان کلمہ وحدت کی بنیاد پر اتحاد و اتفاق کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایسے حالات میں جبکہ یہ قوم اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے جاری جدوجہد میں ایک نازک اور فیصلے کُن مرحلے سے گزر رہی ہے ،ملی بھائی چارے کو قائم رکھنا ناگزیر ہے۔میرواعظ نے اُن پر زور دیا کہ علمائے کرام ،ائمہ مساجد، مفتیان عظام اور دینی تنظیموں کے ذمہ داروں کی ملی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوںکو کلمہ وحدت میں پرونے کی ہرممکن کوشش کو بروئے کار لائیں۔ میرواعظ نے کہاکہ یہ قوم ،جو بلند نصب العین کیلئے ہر روز اپنے لخت جگروں اور عزیزوں کی قربانی پیش کررہی ہے، اُس کو ثمر آور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں کے صدیوں سے قائم بھائی چارے کی فضا کو نہ صرف قائم و دائم رکھا جائے بلکہ ملی وحدت کو زک پہنچانے والے بعض ایجنسیوں کی ایما پر کام کررہے عناصر سے بھی ہوشیار رہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ علماء اور ائمہ مساجد کا ایک فلاحی اور اتحا و اتفاق سے مزین سماج کی تعمیر میں کلیدی رول ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔