علامہ اقبال

فارسی شعر و ادب کے قارئین اس روشن حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کی مدح و ثنا میں جن بلند پایہ ثنا خوانوں نے محبت و عقیدت کے موتی پروئے ہیں اور شہرِ مدینہ کی فضاؤں اور ہواؤں میں اپنے وجود کو تحلیل کرنے کی عمر بھر تمنا کی ہے ان میں عاشقِ رسول علّامہ محمد اقبالؒ اپنے بلند آہنگ اور عقیدت کے منفرد رنگ میں ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں۔ اقبال کے تخیل اور فن کا رنگ و بُو نچوڑ لیجئے تو ان کا اصلی روپ سامنے آئے گا کہ وہ ایک عاشق رسولؐ اور دیوانۂ حجاز بن کر سامنے آئیں گے۔ محبت رسولؐ اقبال کاتصوّرِ حیات ہے اور وہ اسے مقصدِ کائنات سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے تخیل کا سارازوراور فکر کی رسائی ذاتِ رسالت مآبؐ کی سرزمین کے سفر میں بروے کار لاتے ہیں اور آپؐ کے وجود کو ’’الکتاب‘‘ اور ’’آسمانِ نیلگوں کی وسعتوں کو آپ کے بحرِ رحمت میں پانی کا ایک بلبلہ‘‘ خیال کرتے ہیں ۔ جب کبھی ذکرِ رسولؐ اقبال کی زبان پر جاری ہوا تو بے خودی و سرمستی اور جذب و کیف نے عقیدت و محبت اور علم و حکمت کے گوہر آبدار بحرِ خیالات نے اُگل دئیے۔ دنیا کے ’’اِنسان کامل‘‘ کی تلاش میں اقبال نکلے تو انہیں صحرائے عرب میں یہ ’’انسانِ کاملؐ‘‘ ملا اور انکی عظمت کا نقشہ ان مقدّس لفظوں کے سانچے میں ڈھل گیا    ؎
اے ظہورِ تو شبابِ زندگی
جلوہ اَت تعبیرِ خواب ِ زندگی
اے زمیں از بار گاہت ارجمند
آسماں از بوسۂ با مت   بلند
از تو بالا پایۂ ایں کائنات
فقرِ تو سرمایۂ ایں کائنات
درجہاں شمعِ ہُدیٰ افروختی
بندگاں را خواجگی آموختی
ترجمہ: آپؐ وہ ہیں کہ آپ کی تشریف آوری زندگی کا شباب ہے۔ آپؐ کا جلوہ زندگی کے خواب کی تعبیر ہے۔ ( یعنی آپؐ مقصدِ حیات ہیں) اس زمین نے آپؐ کی بارگاہ سے سرفرازی حاصل کی۔ آسمان بھی آ پ ؐ کی بارگاہ کو چومنے سے بلند ہوا۔آپؐ کی وجہ سے اس کائنات کا رتبہ بلند تر ہوا۔ آپؐ کی بے نیازی کائنات کا سرمایہ ہے۔ آپؐ نے دنیا میں زندگی کی شمع روشن کی اور غلاموں کوحکمرانی سکھائی۔
اقبال پوری عمر سرزمینِ حجاز کی فضاؤں میں اپنی فکر کے پرندے کو اڑاتے رہے اور اسی آستانۂ رحمت کے ساتھ وابستہ رہے جو آسمان کے نیچے سب سے بڑی ادب گاہ ہے اور عرشِ معلی سے نازک تر ہے۔ اقبال نے بہ جسد اگرچہ مکۂ مکرّمہ اور مدینۂ منوّرہ کا سفر نہیں کیا، لیکن روح روز و شب اس خطۂ نو ر اور بلدِ امین کا گردش کرتی رہی۔ مدینۂ منورہ کی مٹی انکی آنکھوں کے لیے سرمۂ نور اور دو دنیاؤں سے خُو شتر اور بیش بہا تھی۔ ’’ارمغانِ حجاز‘‘ ذاتِ نبویؐ کے ساتھ اقبال کی بے پناہ وابستگی اور والہانہ شیفتگی کا ایک تخیّلاتی سفر نامہ ہے۔ شاعر اس سفرمیں اولاً حضورِ حق میں حاضر ہو کر اپنے تاثرّات و مُشاہدات اور ملّتِ اسلامیہ کی بے عملی، بے یقینی اور کور ذوقی پر اظہارِ افسوس کرتا ہے۔ سفر نامے کے اس حصّے میں اقبالؒ خدا سے کئی درخواستیں اور دعائیں کرتا ہے اور مسلمانوں کی ترقی اور ایک جہتی کے لیے سراپا التماس ہے۔بارگاہِ خدا وندی میں عرض و نیاز اور استدعا و التماس کے بعد اقبال حضور نبی کریمؐ کے دربارِعظمت و جلالت میں یوں حاضر ہوتا ہے۔
بدن واماندہ و جانم درتگ و پوست
سوئے شہر ے کہ بطحا در رہِ اوست
تو باش ایں جا و باخاصاں بیامیز
کہ من دارم ہوائے منزلِ دوست
ترجمہ: میراجسم تھک گیا اور میری روح اس شہر کی طرف بھاگ دوڑ کر رہی ہے، جس کے راستے میں بطحا یعنی مکہّ آتا ہے۔ تو یہاں مکہ میں اپنے خاص بندوں کے ساتھ مل بیٹھ ، میں اپنے محبوبؐ کی منزل (مدینہ) کی آرزو رکھتا ہوں۔
اقبال یہ تصوّراتی سفر اس زمانے میں شروع کرتا ہے جب وہ بوڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے تھے۔ وہ اپنے محبوبؐ سے ملاقی ہونے اور ان کی نگاہِ کرم سے فیضیاب ہونے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن خود ہی یہ بھی اظہار کرتے ہیں کہ اس کی مثال اس پرندے کی سی ہے، جسے شام کے وقت اپنا گھونسلہ یاد آگیا ہے۔ ؎
بایں پیری رہِ یثرب گرفتم
نواخواں از سرورِ عاشقانہ
چو آں مرغے کہ در صحرا سرِ شام
کشاید پَر بہ فکرِ آشیانہ
ترجمہ: میں نے اس بوڑھاپے میں مدینے کا سفر اختیار کیا ہے اور عاشقانہ سرور میں اپنے نغمے گارہا ہوں۔ میری حالت اس پرندے کی طرح ہے جو صحرا میں شام کے وقت اپنے آشیانے کی طرف اپنے پَر کھولتا ہے۔
صحرائے عرب کی گرم ریت مسافر اقبال کو ریشم سے زیادہ نرم محسوس ہو رہی ہے اور وہ اس ریت پر ایک ایسا سجدہ کرنے کی آرزو رکھتا ہے ، جس کے باعث اس کے ماتھے پر ایک نشان مرتسم ہو جائے۔ اقبال نے حضورِ رسالتؐ میں جہاں اپنے قلب وجگر میں رسولِ اکرمؐسے اپنی عقیدت و نسبت کی دھڑکنوں اور حرکتوں کو حرف و صوت کی شکلوں میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، تو ساتھ ہی وہ ملّتِ اسلامیہ بالخصوص مسلمانانِ ہند کی غلامی و محکومی کا تذکرہ بارگاہِ رسالتؐ میں پیش کرتے ہوئے آپؐ سے نظرِ التفات کی درخواست کرتے ہیں۔
مسلماں آں فقیرے کج کلاہے
رمید از سینۂ او سوزِ آہے
دلش نالد چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسولؐ اللہ نگاہے
تب و تابِ دل از سوزِ غم تُست
نوائے من ز تاثیرِ دم تُست
بنالم زانکہ اندر کشورِ ہند
ندیدم بندۂ کُو محرمِ تست
شبِ ہندی غلاماں را سحر نیست
بایں خاک آفتابے را گذر نیست
بماکن گوشۂ چشمے کہ در شرق
مسلمانے ما بیچارہ تر نیست
ترجمہ: وہ مسلمان جو درویشی کی حالت میں بادشاہ تھا اس کے سینے سے دعا کی تاثیر اب ختم ہو چکی ہے۔ اسکا دل روتا ہے، کیوں روتا ہے اسکی اسے خبر نہیں۔ یا رسول اللہ آپؐ اس پر نظرِ کرم کیجئے تاکہ دوبارہ یہ مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے۔
دل کی ساری بے قراری آپؐ کے سوزِ غم ( یعنی عشق) کی وجہ سے ہے۔ میری شاعری میں اگر کوئی تاثیر ہے تو وہ آپکی وجہ سے ہے۔ میں رو رہا ہوں اس وجہ سے کہ ہندوستان میں مجھے کوئی ایسا نظر نہیں آتا ہے ، جو آپؐ کا محرم ہو۔ یعنی آپؐ کی ذات سے تعلق کی وہ کیفیت نہیں، جسکی آج ضرورت ہے۔ ہندی مسلمانوں کی رات ختم نہیں ہو رہی ہے اور سورج کا گذر اس سرزمین پر نہیں ہو رہا ہے۔ اے نبیؐ آپ ہم پر نظر کرم فرمائیے، کیونکہ مشرقی دنیا میں ہندی مسلمانوں سے کوئی زیادہ بے کس نہیں۔
اس قسم کے خیالات اقبال نے اپنی اردو شاعری میں بھی ظاہر کیے ہیں۔؎
دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
 وہ اک مردِ تن آساں تھا تن آسانوں کے کام آیا
’’ارمغان حجاز ‘‘محبتوں، عقیدتوں اور قلب و نظر کی دھڑکنوں کا وہ پُر تاثیر مجموعہ ہے جس میں ایک عاشقِ رسولؐ اپنے محبوبؐ کی حیاتِ مبارکہ اور ذہنِ بر گذیدہ کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس میں کجی کمی کا کوئی شائبہ نہیں، یہ وہ نگہِ بلند ہے جس میں خیرہ ہونے کاکوئی اندیشہ نہیں، یہ وہ منبعِ کشف اور محورِ الہام ووحی ہے، جس کی فکری استعداد عروج و ارتقا کی بلندیوں تک پہنچی ہوئی ہے ۔ پروفیسر سید عابد علی عابد، جو ایک پختہ فکر نقّاد، استاد اور ماہر علم و ادب تسلیم کئے گئے ہیں، اقبال کی محبت رسولؐ کا بڑے بلیغ انداز میں یوں احاطہ کرتے ہیں:
’’ اقبال نے جو اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اسلام درحقیقت اس جوہرِ عشق کا نام ہے جو فطرتِ ازلی نے صلاحِ خیر کے حصول کے لیے ضمیرِ انسانی کے پوشیدہ ترین گوشوں کو ودیعت کر رکھا ہے، تو اقبال کو اب اس مردِ کامل کی تلاش تھی جو اس جوہر عشق کا کامل ترین مصدر ہو۔ اقبال کو رسول پاکؐ کی ذات اس جوہر کی مصدر نظر آئی۔ ان کی ذات میں سوز و ساز، ذکر و فکر، علم و عمل، بصارت و بصیرت، خرد اور نظر گھل مل کر اس طرح حل ہوگئے تھے کہ فقیری اور شاہی کا یہ اجتماع چشمِ فلک نے نہ پہلے دیکھا نہ پھر دیکھے گی‘‘۔
رسولِ عربیؐ کی مدح و ثنا میں آج تک ہزاروںنعت خوانوں اور اس ذاتِ اقدسؐ کے عقیدت مندوں نے اشکبار آنکھوں سے صحرائے حجاز کے پہاڑوں، ڈھلوانوں، ریت کے ذرّوں اور ہواؤں سے مخاطب ہو کر اپنے دل کی کیفیتوں کے ارمغان پیش کئے ہیں    ؎
اٹھو حجاز کے صحرا کی ریت کے ذرّو !
تمہارے شوق میں کرنوں کا کارواں آیا
سلام تم پہ دیارِ جیبؐ کے ٹیلو
میں لے کے محبت کا گلستاں آیا
 
مجھے تلاش ہے کب سے متاعِ ایماں کی
میں گھوم پھر کے خرد کی دکاں دکاں آیا
وطن کی خاک سے یہ خاک مجھ کو پیاری ہے
اسی جنوں میں وہاں سے چلا، یہاں آیا
ہے ایک لذّتِ پرواز کا مجھے احساس
کہ دھ کے خاک سے میں تابہ کہکشاں آیا
’’ارمغان حجاز‘‘ میں دانشور اقبال کا احترام و توقیررسالتمابؐ کا یہ قابلِ داد حصّہ بھی ملاحظہ کیجیے۔اقبال خدا سے عرضداشت کرتا ہے کہ اے اللہ! جب قیامت کا دن آئے گا اور لوگوں کے نامۂ اعمال کا دفتر کھل جائے ، میرا حساب اس دن رسول اکرمؐکی نگاہوں سے چھپا کے رکھ دینا۔ اے خدا آپ کے سامنے میرا محاسبہ تو ہوجائے لیکن رسول پاکؐ کے سامنے مجھے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے   ؎
بہ پایاں چوں رس ایںعالمِ پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضورِ خواجہؐ مارا
حسابِ من بہ چشمِ او نہاں گیر
ترجمہ: جب یہ دنیا اپنے اختتام کو پہنچے گی اور ہر پوشیدہ تقدیر کھل کر سامنے آئے گی ( یعنی انسانوں کے اعمال ان کے سامنے آئیں گے) اس وقت ہمیں رسول اکرمؐ کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔ ہمارے اعمال سے متعلق پوچھ گچھ حضورؐ کی نظروں سے چھپا کر کیجئے تاکہ ہمیں خفت کا سامنانہ کرناپڑے۔
اقبال نے یہی خیال اس سے پہلے بھی اپنی ایک شہرہ آفاق رباعی میںدوسرے انداز میں کیا ہے اور  بقول ایک ہندوستانی صاحب ولی کے کہ اقبال کو بارگاہ الٰہی میں جو قبولیت ملی، اس کی وجہ یہی رباعی ہے ؎
تو غنی از ہر دوعالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ورحسابم را تو بینی ناگزیر
ازنگاہِ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
