علامہ اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے محب و محسن

 سرینگر//تحریک حریت کے اہتمام سے حیدرپورہ میں ایک سمینار منعقد ہوا، جس میں مقررین نے ”اقبالؒ داعی¿ حق، محبّ انسانیت“ عنوان کے تحت اظہارِ خیال کیا۔ سمینار کی صدارت حریت چیرمین سید علی گیلانی نے کی اور اس میں جن دوسرے حضرات نے تقاریر کیں، ان میں محمد اشرف صحرائی، محمد یٰسین ملک، مولانا الطاف حسین ندوی، معراج الدین ربانی، غلام محمد ڈار،جبکہ ڈاکٹر میر واعظ عمر فارق ٹریفک جام کی وجہ سے شرکت کرنے سے قاصر رہے۔ نظامت کے فرائض محمد اویس نے انجام دئے۔ سیمینار میں جن دیگر آزادی پسند قائدین نے شرکت کی ان میں حاجی غلام نبی سمجھی، محمد شفیع لون، محمد سلیم زرگر،سید محمد شفیع، حکیم عبدالرشید، مولوی بشیر احمد عرفانی، محمد یوسف نقاش، فیروز احمد خان، سید الطاف اندرابی، ایڈوکیٹ دیوندر سنگھ بیل اور شاہین احمد شامل ہیں۔ سید علی گیلانی نے اپنے صدارتی خطاب میں علامہ اقبالؒ کو ملت کا داعی اور محسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے مسلمانوں کو حق اور باطل کی تفریق کرکے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ انہوں نے علامہ مرحوم کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج اس دور میں باطل نے بہت سارے بُت تراشے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ کافر بت تراشتا ہے اور مسلمان اس کی پرستش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں لادینیت سب سے بڑا بُت ہے جس کو ایک نظرئیے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور مسلمان اس لادین نظرئیے کا علمبردار ہے اور جہاں کہیں بھی لادین تہذیب برسرِ اقتدار ہے، وہاں اہل حق کو برداشت نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں اخوان المسلمون کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے، کس طرح اہل حق کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے یا تختہ دار پر چڑھایا جارہا ہے۔ لادینیت کا نظام سب سے پُرانا ڈاکو ہے جو دن کے اُجالے میں انسانیت کو تاراج کررہا ہے۔ ناگاساکی اور ہیروشما میں لادین تہذیب نے کس طرح انسانیت کو ملیا میٹ کیا۔ عراق، افغانستان اور دوسرے مسلم ممالک میں کس طرح انسانی خون کی ہولی کھیلی گئی۔گیلانی نے نوجوانوں کو قرآن وسنت کی اتباع کرنے کی فہمائش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ علاقہ اقبالؒ کو بھی خصوصیت سے سمجھنا اور پڑھنا چاہیے۔ محمدیٰسین ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبالؒ نے ملّت کو آفاقی تصور دیا تھا، مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کو مسلکوں کی بنیاد پر بانٹا گیا۔ ملّت کے اماموں نے ملی تصور کے بجائے مسلکوں کو Representکیا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان بکھر گئے۔ تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبالؒ نے گوشہ گمنامی میں رہنے والوں کو نئی روح اور نئی زندگی بخشی۔ مسلمانان ہند کو عقیدے اور نظرئیے کی پختگی عطا کی۔ غلاموں میں جذبہ¿ حریت اور جذبہ¿ اسلام کی تازگی عطا کی۔ صحرائی نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں اقبال نے مسلمانوں کو عزت دلانے کے لیے وفاق کا خاکہ پیش کیا، لیکن کانگریس کی منافقانہ پالیسیوں نے اس کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کلام اقبال پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ نے کشمکش کی زندگی گزاری جو حق اور باطل کی کشمکش تھی اُس نے مسلم امت کو بھی ایسی زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے اقبال کے خواب کو ابھی تک شرمندہ¿ تعبیر نہیں کیا اور یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب وہاں اسلامی اور فلاحی ریاست وجود پائے گی۔