عصرِ حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں

ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’علمائے دین ،انبیاء کے وارث ہوتے ہیں‘‘۔معلوم ہوا کہ جناب ِحضرت محمدؐ کے وارث اُن کی اُمّت کے علماء ہیں۔ آسان معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو کام رسولوں نے کیا ہےاور انہوں نےجو تعلیمات و ہدایات قوموں کو دی ہیں ،اُس کام کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری علماء پر ہی عائد ہوتی ہے۔ پیغمبر آخرالزمان محمد مصطفیٰ ؐ کی اُمت ِ مسلمہ کے علمائے دین پر بھی لازم ہے کہ مسلمانوں کو دین ِ نبوی کی تعلیم دیں مگر تعلیم وہی ہونی چاہئے جو رسول اللہؐ کی تعلیم تھی۔
دورِ حاضرہ کے حالات میں علمائے کرام کی کیا ذمہ داریاں ہیں،یہ ایک بڑا سوال ہے؟آج جن حالات کا سامنا اُمت کو کرنا پڑتا ہے،اُن کا حل کیا ہے؟اور ان حالات میں اُمت کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟انہی باتوں سے لوگوں کو واقف کرانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔علماء کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ جو مسائل اُمت کو درپیش ہیں،اُن مسائل کے بارے میں جذبات کو بالاترہوکرانتہائی سنجیدگی کا ثبوت دیںاورسوجھ بوجھ اورغور و فکرکے ساتھ مسائل کے حل کے راہیں ڈھونڈیں۔ علماء اُمت کے نمائندے ہوتے ہیں۔اُن کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اُمت میں جو خرابیاں اور بُرائیاں پیدا ہوئی ہیں،اُن کے سدباب کے تئیںکوئی لائحہ عمل اپنائیںتاکہ امت ِ مسلمہ راہِ راست پر آسکے۔لیکن اپنے مسلم معاشرے میں جہاں تک نظر دوڑائی جاتی ہےتو ہر سُو یہی نظر آتا ہے کہ آج کے علماء جن کاموں میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں ،اُن سے معاشرے میں نہ صرف فتنے پیدا ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ علما اپنی ذمہ داریوں سے کافی دور ہوچکے ہیںاور اپنی من مرضی و منشاکے کاموں میں مست و مشغول ہوچکے ہیں۔شاید وہ یہ تک بھول چکے ہیں کہ قیامت کے دن عالم سے، اُ س سے علم کے متعلق سوال ہوگا۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آخری دور میں آسمان کے نیچے بدترین لوگ اُس دور کے علماء ہونگے۔اُن ہی میں سے فتنہ نکلے گا اور اُن ہی میں ختم ہوگا۔کیا حدیث شریف کا یہ مفہوم ہمارے آج کے علماء پر تو صادق نہیں آتاہے؟آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی حالت ِ زارپرکوئی مسلم ملک بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔ان حالات میں علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یکجہتی ،بھائی چارگی اور امدادِ باہمی کی روایت قائم کرتےتاکہ درپیش مسائل میں کسی نہ کسی حد تک کمی آجائے۔
مسلمانوں کی نئی نسل اسلام سے دور ہو تی جارہی ہے،ان کے وجوہات کو جاننا اور ان کا حل نکالنا علماء کی اہم ذمہ داری ہے۔ علماء کو چاہئے کہ وہ فروعی مسائل کو چھوڑیں،اُمت کے اصل مسائل کی طرف دھیان دیں،مسلکی اختلافات کو بالائےطاق رکھیں۔اُمت کو شیر و شکر بنائیں۔اس وقت ملت کو علماء کی متحدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمت کو علماءراہِ حق سے نوازے۔آمین
رابطہ۔9149897427
������