عزیز گلوان کہانی

رحیم رہبر

دردستان کے اُس وسیع علاقے میں صرف میں ہی ایک تھا جو عزیز گلوان کو ہیرو مانتا تھا۔ دراصل مجھے اُس کی غیرت پر رشک آتا تھا۔ وہ اکیلے اپنی ایک الگ کہانی کے ساتھ جی رہا تھا۔ وہ کمال کا گھوڑ سوار تھا اور اُس نے اپنی ایک منفرد پہچان بنا رکھی تھی۔ وہ غریبوں کا مددگار اور کمزوروں کا مسیحیٰ تھا۔ پھر بھی نہ جانے کیوں لوگ عزیز گلوان سے نفرت کرتے تھے۔ ’’بد اچھا بدنام بُرا‘‘۔
میں جب بھی کسی سے عزیز گلوان کی خوبیاں بیان کرتاتھا تو اُس کا بس ایک جواب ہوتا تھا۔ ’’ سالا بہت خراب ہے‘‘۔
عزیز گلوان کا یہ معمول تھا کہ وہ ہفتے میں دو چار بار پریم ناتھ کے گھر کا چکر لگاتا تھا۔ پریم ناتھ دمے کی بیماری کا مریض تھا۔ اُس کی بیوی شیلا عمر میں اُس سے بیس سال چھوٹی تھی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پنشن کا سارا پیسہ اُسکی دوائی پر خرچ ہوتا تھا۔ دونوں میاں بیوی افلاس کی زندگی بسر کرتے تھے۔ دردستان میں وہ اکیلا پنڈت گھرانہ تھا۔ شیلا خوبصورت اور خوب رو عورت تھی۔ وہ اپنی اندرونی آگ سے جل رہی تھی۔ شباب کی حرارت نے شیلا کو اندر ہی اندر سوختہ کر رکھا تھا۔
’’یار! مجھے وہ واقعہ سنائو جب عزیز گلوان تم کو اپنے ساتھ پریم ناتھ کے گھر لے گیا تھا‘‘۔ میرے دوست انیس نے مجھ سے پوچھا۔
’’اُس واقعہ کو میں کیسے بھولوں؟ شام کا وقت تھا۔ عزیز گلوان میرے آنگن میں نمودار ہوا۔ اُس نے مجھے اپنے گھوڑے پر بٹھایا۔ راستے میں ،میں نے اُس کیساتھ کوئی بات نہیں کی۔ ہر قدم پہ میرے سوچ کے کینواس پر انوکھے سوالات اُبھر کر آتے تھے۔ میں نے خوف میں یہ سفر طے کیا، یہاں تک کہ ہم پریم ناتھ کے گھر پہنچے۔ وہ کربناک منظر ہنوز میری آنکھوں کے سامنے رقص کر رہا ہے پریم ناتھ لال ٹین کی دھیمی روشنی میں بھگوت گیتا پڑھ رہا تھا۔ عزیز گلوان نے مجھے باہر لان میں بیٹھنے کیلئے کہا اور خود مکان کے اندر چلا گیا۔
ایک گھنٹے کے بعد عزیز گلوان شیلا کے ہمراہ مکان سے باہر آیا۔ دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی! جونہی شیلا نے مجھے دیکھا، اُس نے تُند لہجے میں عزیز گلوان سے کہا۔
’’عزیا! یہ کس کو ساتھ لائے ہو!؟‘‘
’’شیلا! یہ کوئی پرایا نہیں ہے۔ سمجھو یہ اپنا ہی بھائی ہے۔‘‘
شیلا خاموش ہوئی اور لاٹین لے کر اندر چلی گئی۔ عزیز گلوان نے پھر مجھے اپنے پیچھے گھوڑے پر بٹھایا۔ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ راستے میں عزیز گلوان نے مجھے پریم ناتھ اور شیلا کی محبت کی داستان سُنائی لیکن میرے احساس کے نگر کو خدشات کی آندھی نے گھیر لیا تھا اور میری سوچ سنسان ہوگئی تھی۔
جونہی میں اپنے گھر کے نزدیک گھوڑے سے اُترا میں نے عزیز گلوان سے بس اتنا کہا ’’دال میں ضروری کچھ کالا ہے‘‘۔
شاید عزیز گلوان نے میری بات نہیں سُنی، اس لئے وہ مجھے کچھ بتائے بغیر ہی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔
’’عزیز گلوان حرامی شیلا کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہا ہے!‘‘ انیس آپے سے باہر ہوا۔
’’انیس! تمہاری بھی بیٹی ہے۔ خوامخواہ کسی پر شک کرنا گناہِ عظیم ہے‘‘۔ میں نے جواب دیا۔
’’ارے یار! تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ کیوں اُس حرامی کی وکالت کرتے ہو؟‘‘ انیس غصے سے لال ہوا۔ اُس نے ایک منٹ تک لائیٹر کو جلا کے رکھا لیکن اُس کا غصہ نہیں اُترا۔
’’انیس خدارا بکواس بند کر۔ اگر کہیں عزیز نے سُنا تمہارا کیا حشر ہوگا جانتے ہو؟‘‘
انیس تو چُپ ہوا لیکن میں خود شک میں اُلجھ گیا لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ کل صبح سویرے میں پریم ناتھ کے گھر جاکر اصلیت کا پتہ لگائونگا۔
میں رات کو بستر پہ صرف کروٹیں بدلتا رہا۔
یہاں تک کہ مؤزن نے صبح کی ازان دی۔ وضو بنا کر میں نے صبح کی نماز ادا کی۔ جب تک میں ناشتہ سے فارغ ہوا تو سورج کی روشنی نے میری دہلیز پہ اپنا ڈھیرہ جمایا تھا۔
خیر میں نے اپنا عزم پورا کرنے کے لئے سفر شروع کیا۔ آدھے گھنٹے کے بعد پریم ناتھ کے برآمدے پہ اِستادہ تھا۔ مکان کے اندر سے شیلا کی صدا صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ پراتھنا میں محو تھی۔
’’ہیے بھگوان۔۔۔ ہے دیوی ماتا۔۔۔ ہے شنکر شمبھو ۔۔۔ میرے غم خوار بھائی عزیز گلوان کی حفاطت کرنا۔ میں اپنے درد مند بھائی عزیز کے لئے سلامتی کی بھیک مانگ رہی ہوں۔ اس کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر رکھنا!‘‘۔
میں چونک گیا۔۔۔۔!
���
آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
موبائل نمبر؛9906534724