عزیز حاجنی۔۔۔جلانے والے جلاتے ہیں چراغ آخر

ایک کردار نیا روز جیا کرتا ہوں
مجھ کو شاعر نہ کہو ایک ادا کار ہوں میں
پروفیسر زاہد احمد سابق صدر شعبہ اردو علی گڈھ مسلم یونیورسٹی نے دوران توسعی خطہ ایک زبردست تاریخی جملہ بولا کہ مشہور بہادر رستم پہلوان کو اپنے ساتھیوں اور حامیوں نے ایک بار جیت پانے کی خوشی کو سلیبریٹ کرتے ہوئے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر سٹیج تک پہنچایا اور فرمایش کی کہ اپنی کامیابی پر حاضرین کو اپنے تاثرات سے نوازے۔ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے رستم سٹیج کی طرف بڑھنے لگا اور اسکی ٹانگیں تھر تھرانے لگی، جوں ہی سٹیج پر پہنچ گیا تو خاموشی چھاگئی۔ اس کے مداحین اس کی تقریر سننے کے خواہش مند تھے لیکن رستم صرف اتنا بول پایا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا ،بس اتنا بتائو کس کو لٹکانا ہے۔ اس جملے کی مناسبت سے اگر اس عمل کی ضد دیکھنی ہو تو مرحوم عزیز حاجنی یاد آتے ہیں جو میدان ادب کے شہسوار تھے۔ جن کو قدرت نے زبان بھی بہت اچھی عطا کی تھی اور تحریر کی دولت سے بھی مالا مال تھے ، اس اعتبار سے موصوف خوش قسمت ٹھہرے کیونکہ چند افراد ایسے ہوتے ہیں جنھیں اچھا بولنا آتا ہے لیکن اچھا لکھنا نہیں جانتے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بہتر لکھ سکتے ہیں لیکن بہتر بولنے سے قاصر ہوتے ہیں مگر مرحوم میں تقریر اور تحریر دونوں صلاحیتیں موجود تھیں ۔
 کہکشان علم و ادب اور سر زمین سخنوری کی بستی میں پیدا ہوئے ایک شخص کی شخصیت کمال درجے اتم کی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے نام کو اُن زندہ ناموں میں شمار کرنے میں کامیاب ہوگی جو بظاہر انتقال کرگئے لیکن کاینات میں مستقل مقام اس صورت میں حاصل کرگئےکہ صاحب نہ صرف ایک لسانی تحریک کو جلا بخش گئے بلکہ عشق کی حد تک کشمیری زبان کی بقا و فلاح کے لیے  ایک عاشق کی طرح تا دم مرگ لڑتے رہے اور اس طرح ہر ادیب یا محب ادب و قاری کی زبان پر ان کا نام بلا آخر آہی گیا ۔ڈاکٹر عزیز حاجنی، حاجن میں پیدا ہوئے، اپنی زندگی کا حسین ترین دور حاجن میں گزارا، جس کی تفصیری شرح یہاں کی ہر گلی اور موڈ پر موجود ہے۔ حاجن سے راج باغ سرینگر تک کی کہانی میں مستقل جد وجہد کرنے والے حاجنی طویل علالت کے بعد رخصت تو ہوئے لیکن اپنا نام زندہ رکھ کر گئے۔ ہمیشہ چاک و چوبند رہنے کے پابند تھے اور کافی متحرک نظر آتے تھے یوں کہہ سکتے ہیں کہ تحریک ساز شخصیت گردانی جاتی ہے، نہ صرف کشمیری ادب کے تییں انکی یہ خدمات رہی ہیں بلکہ مختلف زبانوں کے سرکردہ ادبا تک پہنچنا اور انھیں کلچرل اکادمی کی جانب سے متعدد سہولیات بہم رکھنا بھی ان کا بہترین کارنامہ مانا جاتا ہے، ساتھ ہی متعلقہ حکام سے رابط کرکے کشمیری مضمون میں روزگار کے مواقعے فراہم کرانے کے لیے بھی انتھک کوششیں کیں ۔
انہوں نے اپنی کالج لایف سے ہی اس علمی و ادبی شوق کو پروان چڑھایا ،کالج میگزین میں چھاپا کرتے تھے ،باقی ادبی انجمنوں کے مختلف رسایل میں لکھتے رہے۔ ابتدائی دور میں ریڈیو ،دوردرشن کے لیے ڈرامہ اسکرپٹ نیز نیوز لکھتے رہے۔ تاریخ گوا ہے کہ انھوں نے نوے کے عشرے میں ریڈیو اور دوردرشن کو ایک نئی آواز ،نئے روش ،نئے خیالات اورنئے انداز سے متعارف کراکر اپنا مثبت رول ادا کیا ،جس کو میڑیا کی تاریخ میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے ترتیب کردہ مختلف پروگراموں کے نقوش ان کے سامعین کے دلوں پر دیر تک اپنی مہر ثبت کیے بیٹھے جو کہ انہیں ایک اعزاز عطا کرتا ہے ۔ یہ نقوش اس بات کا بہتر ثبوت ہے کہ ان کاتخیل ،ان کا تخلیقی برتاو نیز ان کے سوچنے کا منفرد ڈھب انہیں باقی ہم عصر ادبا سے الگ کرتا ہے ۔ شعر گویی ، تنقید ، ترجمہ نگاری پر اچھی خاصی دست رست رکھتے تھے ۔ان کے سماجی روابط ،دوستیاں ، سوشل کیپٹل کا انفراد اپنی مثال آپ ہے جو بھی انجان شخص ان سے ملتا ان کا فدوی ہوجاتا ،جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انکی تجہیز و تکفین پر ان کے جان پہچانوں کے علاوہ انجان لوگوں کا جم غفیر موجود تھا ۔حالانکہ آج بھی انکے گھر سینکڑوں لوگ تعزیت کے لیے پہنچ جاتے ہیں، ان کے رفیقوں ، دوستوں اور انکے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لسانی محرک اس قدر گردانے جاتے ہیں کہ افضل ترین منظم ہونا کوئی ان سے سیکھے، یہ کاروانوں کے کاروانوں کو اپنی رہبری میں چلانے کا ہنر جانتے تھے۔نئی راہیں تلاشنے کے ماہر بھی تسلیم کیے جاتے ہیں ۔جہاں کی جانب چل پڑتے منزلیں خود بخور سامنے آجاتی تھیں اور راستے آسان ہوجاتے تھے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
( مجروح ؔ)
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
(جمیل مظہری )
حاجنی صاحب مختلف اعلیٰ عہدوں پر فایز رہے ،بہت ساری ضلعی ،صوبائی ،ریاستی ،قومی ادبی انجمنوں کے ممبر یا سربراہ رہے ہیں۔ ان کی زندگی کے اس کامیاب سفر کی جانکاری مختلف سماجی رابطگاہوں پر موجود ہے۔ جموں کشمیر اور باہر کی ریاستوں کے مختلف ادباقلمکاروں ،عام لوگوں نے متواتر اپنے سوشل میڈیا اکونٹس پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرنے کے ساتھ کچھ ایسی بھی جانکاریاں فراہم کیں ہیں ،جن سے ہم مرحوم کی علمی و ادبی خرمات سے واقف ہوسکتے ہیں۔ ایک روز میں مقامی و غیر مقامی اخبارات میں انکے متعلق مضامین ،آرٹیکلز اور مختلف نوعیت کی تحریں پڑھ کر کافی متاثر ہوا نیز یہ سوچنے پربھی مجبور ہوا کہ میری سر زمین کا یہ فرزند ارجمند جس کی موت پر اتنے لوگ آنسوں بہا رہے ہیں، واقعی خود کو زندہ رکھ کر موت کی آغوش میں چلا گیا اور موت بھی ایسی خوبصورت و حسین کہ جیسے چاہا سب کچھ ویسا ہی ہوا ۔مرحوم نے اپنی علالت کے دوران اپنے اہل و عیال کو اس بات سے قبل از وقت باخبر کیا تھا کہ میری موت جلد واقع ہونے والی ہے، یہاں تک کی اپنی مدفون کی جگہ کا انتخاب اپنی موت سے پہلے ہی کیا نیز کتبہ بھی خود ہی تحریر کیا۔ مرحوم کے دوستوں ،رفیقوں ،غمخواروں،رشتہ داروں اور چاہنے والوں نے باوجود اس کے کہ انکی قیام گاہ آبائی علاقہ حاجن سے دور تھی، بڑچڑھ کر حصہ لیا ۔اس جیسے شخص کی موت یقینی طور پر ایک قومی خسارہ ہے جس کو صدیاں بھی پر نہیں کرسکتی ہیں ۔
مرحوم ڈاکٹر عزیز حاجنی نے جن اعلیٰ عہدوں پر فایض رہ کر اپنے فرایض انجام دئے، ان میں سکریٹری جموں اینڈ کشمیراکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ،ڈپٹی ڈایریکٹر اکاڈمکس کشمیری جموں اینڈ کشمیر ،سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن ،ریسرچ آفیسر سٹیٹ انسٹیچوٹ آف ایجوکیشن سرینگر ،آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی کلچرل ایجوکیشن ڈیپاریٹمنٹ آف سکول ایجوکیشن حکومت جموں و کشمیر ،کواڈنیٹر شیخ العالم چیر ،سینر اسسٹنٹ پروفیسر شیخ العالم چیر یونیورسٹی آف کشمیر اور کنوینر شمالی ریجنل بورڈ ساہیتہ اکاڈمی نیی دہلی قابل ذکر ہیں۔  
مرحوم جن ادبی ،علمی اور لٹرری سوسیاٹیز کے ممبر رہے ہیں انکی تفصیل درج زیل ہیں ۔ممبر فاینانس کمیٹی ساہتہ اکادمی نئی دہلی سال ٢٠١٨ تک ،جنرل کونسل ساہتہ اکادمی نئی دہلی جنوری ٢٠١٨،کنوینر کشمیری ایڈوایزری بورڑ ساہتہ اکادمی سال ٢٠١٨ تا دم مرگ ،ممبر ایکسپرٹ کمیٹی براے سنیر جونیر فیلوشپ باپت ادبی خدمات منسٹری آف کلچر گورنمنٹ آف انڈیا سال ٢٠٠٩ تا سال ٢٠١٣ ،ممبر ایکزیکٹیو بورڈ ساہتہ اکادمی سال ٢٠٠٨ تا سال ٢٠١٢ ،انراج شدہ ریفری برائے نوبل پرایز باپت ادب ،ریفری برائے گیان پیٹھ ایوارڈباپت کشمیری ادبا ،لایف ممبر آف اینڈین انسٹی چوٹ برائے پبلک ایڈمنسٹریشن نئی دہلی کے علاوہ مزید ٢٠ سے زاید کمیٹیوں کے ممبر رہے ہیں ۔مرحوم نے کل ملاکر قومی و ریاستی سطح کی ٥٠ ادبی کانفرنسز،سیمناز میں بحیثیت مقرر شمولیت کی ہیں، علاو بریں بہت ساری نصابی کتابوں کی ایڈٹنگ انجام دی ،ریفریڈ جرنلز میں انکے کم وبیش ٣٠ تحقیقی و تنقیدی مضامین شایع ہوچکے ہیں ،اکاڈمک کلچرل منظم کی حیثیت سے بھی مختلف پروگراموں کو کارڈنیٹ کیا ،میڈیا ریڈیو دور درشن میں بھی ایک فعل براڈ کاسٹر کی حیثیت سے اپنے فرایض انجام دے خاص طور سے کشمیری رسم الخط کو دوردرشن کے ذریعے گھر گھر پہنچانے کا کام انھوں نے بحسن خوبی انجام دیا ہے ۔ان کے کارناموں کو کلہم طور پر سمیٹتے ہوئے جگر مراد آبادی یہ تحریر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ 
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں 
(میر تقی میر )