عرس ختلان عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا

سرینگر//محسن کشمیر وبانی اسلام حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے عرس ختلان کی 651 ویں تقریب کل پوری وسط ایشیا ، برصغیر اور ریاست کے تینوں خطوں میں نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب تاریخی خانقاہ معلی سرینگر میں منعقد ہوئی۔ جہاں وادی کے اطراف واکناف سے بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔اس موقعہ پر امام و خطیب الحاج امام غلام محمد ہمدانی، پیرزادہ محمد یاسین زہرہ نے عرس ختلان کا تاریخی پس منظر بیان کیا۔ انہوں نے بندگانِ خدا، عاشقانِ رسول اور محب اولیا سے اپیل کی کہ وہ خوف خدا میں رہ کر ہمیشہ نمازِ پنجگانہ اور تلاوت کلامِ پاک کثرت سے کیا کریں ، کیونکہ عالم اسلام اس وقت نہایت گردآب میں ہے۔ نماز جمعہ کے بعد ختمات المعظمات ، درود ازکار اور اوراد خوانی کی مجلس آراستہ ہوئی۔بعد معمولا ت اس روز کے روحانی و تاریخی پس منظر پر بیان کرتے ہوئے انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے کہاکہ مومن جب اطاعت خداوندی ، خدمت خلق اور اخلاقی عروج سے اپنی خاکی وجود کے اندر پختگی پیدا کرتا ہے تو دنیا سے رخصت کے بعد بھی ان خدمات کے نقوش محفوظ رہتے ہیں۔ عرس ختلان شاہ ہمدانؒ اسی پیغام کا ایک روحانی پیغام ہے۔ادھر نماز جمعہ سے قبل خانقاہِ قدیم پانپور میں مولانا ریاض احمدہمدانی نے فلسفہ عرس ختلان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہی کے دن یعنی 651  سال پہلے حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی جسدخاکی کشمیر سے کولاب ختلان میں چھ ماہ کے طویل سفر کے بعد وہاں پہنچا دیا گیا  جہاں حضرت علی ثانی ؒ کا روضہ مبارک موجود ہے۔ایک تقریب پر مولانا شوکت حسین کینگ نے بھی عرس ختلان پر روشنی ڈالی اور حضرت امیر کبیر ؒ کے احسانات بیان کئے۔