عدالت عظمیٰ کا باز آباد کاری بل کی فوری سماعت سے انکار

جموں//سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جے ایس کیہرکی صدارت والی ڈویزن بنچ نے  جموں کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کی طرف سے دائر پٹیشن نمبر. 578/2001 کی جلد سماعت سے انکار کر دیا۔ جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے چیف جسٹس کی بینچ کے سامنے اس معاملے کی فوری سماعت کے لئے درخواست کی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے2001 میں جموں و کشمیر بازآبادکاری ایکٹ کو چیلنج کیاتھا جس ایکٹ کو 1981 میں اس وقت کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ نے منظور کرکے پانچ لاکھ شہریوں کو جموں و کشمیر میں بسایا تھا جو 1947 میں ہندستان کی تقسیم کے دوران جموں و کشمیر سے ہجرت کر گئے تھے۔ شیخ محمد عبداللہ کے ذریعہ پاس اس ایکٹ کی اس وقت کانگریس کے ممبر اسمبلی پروفیسر بھیم سنگھ کو چھوڑ کر کانگریس نے بھی حمایت کی تھی۔ یہ بازآبادکاریایکٹ ان تمام افراد کو، جو 1947 میں تقسیم کے دوران پاکستان چلے گئے تھے، ان کے اور ان کی ورثا کو واپس آکر بسنے کا اختیار دیتا ہے۔ 1982 میں اس ایکٹ کے خلاف پینتھرس پارٹی کے علاوہ بی جے پی کے اس وقت کے چیئرمین اٹل بہاری واجپئی نے بھی درخواست دائر کی تھی۔پروفیسربھیم سنگھ نے سپریم کورٹ میں یہ عرضی دائر کی تھی، اس قانون کی حمایت میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے بھی وکالت کی۔ پینتھرس پارٹی کی جانب سے سینئر وکیل کے کے وینو گوپال (فی الحال ہندستان کے اٹارنی جنرل)، پروفیسربھیم سنگھ اور دیگر سینئر وکیل پیش ہوئے تھے۔سپریم کورٹ نے 2001 میں اس حکم پر روک لگا دی تھی۔1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اس قانون کو اس وقت کے صدر گیانی ذیل سنگھ کو بھیجا تھا۔ 1984 سے 2001 تک یہ معاملہ ہندستان کی عدالت عظمی میں پڑا رہا۔ پینتھرز پارٹی کی طرف سے پیش ہوئے پروفیسر بھیم سنگھ کی درخواست پر اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ نے کی، جسے یہ کہہ کر خارج کر دیا گیا کہ یہ 2001 میں قانون بن چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس ریمارکس کے بعد 2001 میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس قانون فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد 2001 میں جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی نے یہ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی۔ پینتھرس پارٹی نے اس قانون کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ کی جسٹس چنپپا ریڈی کی بینچ نے اسے سماعت کے لئے منظور کر دیا اور اس قانون پر فوری طور پر روک لگا دی، جو آج تک چل رہی ہے۔ 2008 میں اس درخواست کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے پاس بھیجا گی۔ 2008 سے 2016 تک جب اس معاملے کو کسی بھی بنچ نہیں سنا، پھر پروفیسر بھیم سنگھ نے ایک دیگر سی ایم پی سپریم کورٹ میں دائر کی، جس کی سماعت تین ججوں کی بنچ نے کی، جن میں جسٹس مسٹر رنجن گوگوئی، جسٹس پرفل سی پنت اور جسٹس ایم کھانولکر شامل تھے۔ بینچ نے 16 اگست، 2016 کو اپنے حکم میں کہا '' ہم نے دلیلوں کو سنا ہے، اگر ضروری ہوا تو اس معاملے کو آئینی بنچ کے سامنے بھیجا جانا چاہیے۔چار ہفتوں کے بعد سماعت کے لئے عرضیاں مرتب کریں ۔''پروفیسر بھیم سنگھ نے بتایا کہ اس معاملے کو موسم گرما کی چھٹیوں سے پہلے  چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی درخواست کی گئی تھی، جس سے اس حکم پرغلط فہمی ختم ہو اور کنٹرول لائن میں دراندازی نہ ہو سکے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے چیف جسٹس کے اس درخواست کی جلد سماعت سے انکار کرنے پر افسوس ظاہر کیا اور اعلان کیا کہ وہ سیکورٹی اور بین الاقوامی سرحدوں اور کنٹرول لائن کی حفاظت کے مفاد میں سپریم کورٹ کے سامنے اس معاملے کو جلد سننے کے لئے مداخلت درخواست دائر کریں گے، جس سے ناپسندیدہ اور غیر قانونی مداخلت فوری طورپر  بند ہو سکے۔