عدالت عظمیٰ نے زرعی قوانین کے نفاذپر روک لگا دی

 نئی دہلی//عدالت عظمیٰ نے منگلوار کو متنازعہ زرعی قوانین کے لاگوکئے جانے پرتاحکم ثانی روک لگادی اوردلی کی سرحد پراحتجاج کررہی کسان انجمنوں اور مرکزکے درمیان تعطل کو دور کرنے کیلئے ایک چاررکنی کمیٹی تشکیل دی۔چیف جسٹس،جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی والے بنچ نے کہا،’’زرعی قوانین کے نفاذ سے پہلے کے کم سے کم قیمت کے نظام کومزیداحکامات تک برقراررکھاجائے ۔اس کے علاوہ کسانوں کی اراضی کو تحفظ دیاجائے گا،جیسے کسی بھی کسان کو زرعی قوانین کے تحت کی گئی کارروائی سے اراضی سے بیدخل نہیں کیا جائے گا ۔بنچ نے کہا کہ عدالت کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی حکومت اور کسان انجمنوں کے نمائندوں اوردیگر متعلقین کے دلائل کو سنیں گی اور عدالت کے سامنے اپنی پہلی بیٹھک کے دن سے دوماہ میں اپنی رپورٹ سفارشات کے ساتھ پیش کرے گی۔ عدالت نے اپنی عبوری حکم میں ہدایت دی کہ کمیٹی اپنی پہلی بیٹھک منگلوار سے دس دن کے اندر کرے گی ۔کمیٹی میںر بھوپندر سنگھ بھارتیہ قومی صدرکسان یونین کے اور آل انڈیا کسان کارڈنیشن کمیٹی، ڈاکٹر پرمود کمار جوشی ڈائریکٹر جنوبی ایشیاء انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی چیوٹ ،اشوک جوشی ایگری کلچر اکانومسٹ اور سابق چیئرمین کمیشن فار اگری کلچر کاسٹس اینڈ پرایسس اور انل گھنونت صدر شتکاری سنگھٹن شامل ہیں ۔بنچ نے کہا کہ کمیٹی کو زرعی قوانین سے متعلق کسانوں کی شکایات اورحکومت کی رائے سننے اورسفارشات دینے کیلئے تشکیل دیاگیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ اُسے عبوری حکم دیناصحیح دکھائی دیتا ہے اور امید ہے کہ دونوں فریق اِسے صحیح زاویے سے لیں گے اور مشکلات دور کرنے کیلئے منصفانہ حل نکالنے کی کوشش کریں گے ۔بنچ نے زرعی قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کیلئے کسانوں کی ستائش کی۔عدالت عظمیٰ نے ان قوانین کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی کئی عرضیوں کی سماعت کے دوران یہ عبوری حکم دیا۔