عبد الغنی لون کی16ویں برسی پر کپوارہ میں تقریب ، ہندوپاک مذاکرات اگلے سال

کپوارہ// حریت(ع) نے کہا ہے کہ 2019میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوجائیگا جس میں حریت کانفرنس کو بھی شامل کیا جائیگا اور حریت اسکے لئے تیار ہے۔پیپلز کا نفرنس کے بانی و حریت لیڈر خواجہ عبد الغنی لون کی 16 ویںبرسی پر کپوارہ کے ٹاون ہال میں ایک تقریب کے دوران مسلم کانفرنس چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر گزشتہ 70سالو ں کے دوران اٹکا ہو اہے اور اس مسئلہ کا حل صرف بات چیت ہی میں مضمر ہے اور اس کے لئے اتحاد وقت کی پکار ہے ۔پروفیسر بٹ نے کہا کہ عنقریب ہندوستان اور پاکستان بات چیت کا سلسلہ شروع کریں گے جسمیں حریت کانفر نس کو بھی شامل کیا جائیگا ۔انہو ں نے انکشاف کیا کہ 2109کے وسط میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گا کیونکہ بات چیت کے راستے میں ہی مسئلہ کشمیر حل نکالا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ ہم سر اٹھا کر بات کریں گے اور اس کے لئے حریت کا نفرنس کو کوئی بھی حرج نہیں ہے ۔انہو ں نے مرحوم لون کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی کشمیری قوم کی سر بلندی ،عزت و نفس اور ہمہ گیر خوشحالی کے لئے وقف تھی اور ہر قدم پر حق و صداقت اور بے باکی کا پاسدار تھا ۔اس موقعہ پر حریت لیڈر مر حوم عبد الغنی لون کے فرزند بلال غنی لون نے اپنے والد کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہو ں نے کہا کہ مجھے اپنے والدکی شہادت پر فخر ہے کیونکہ انہو ں نے مسئلہ کشمیر کے لئے جو قر بانی دی ، اس کے مشن کو ہر حال میں آگے لے جائیں گے ۔بلال غنی لون نے کہا کہ جس مسئلہ کے لئے میر ے والد کو شہید کیا گیا اس مسئلہ میں کشمیری لوگ اہم فریق ہیں اور تب تک کوئی بھی بات چیت بے معنی ہے جب تک نہ کشمیریو ں کو اس میں شامل کیا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ ہم نے ہر وقت اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریو ں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے ۔بلال غنی لون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے ذمہ دار ہندوستان اور پاکستان ہیں ۔بلال لون نے مشترکہ حریت قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چایئے کہ وہ ایک ہوجائیں اور ایک ہی قائد کو چنے تاکہ مسئلہ کشمیر حل ہونے کے لئے دو نو ں ملکو ں پر دبائو ڈالا جاسکے ۔دیگر مقررین نے مرحوم کی برسی پر کہا کہ ان کی قربانی نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے تمام ایوانو ں میں زندہ کیا اور ان کی قر بانی رو اں جد وجہد میں انمول سرمایہ ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ شہدا کی قر بانیو ں کی لاج رکھیں