عبادت و بندگی !

 
اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف اخروی کامیابی کےحصول کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے،بلکہ دنیاوی زندگی میں کامیابی، راحت وعافیت کے حوالے سے بھی اہم ہدایات و اعمال کی تلقین کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں محسنِ انسانیت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نےاپنی امت کو ایسی بہت سی دعائیں مانگنے کی طرف توجہ دلائی ، جن کااہتمام انسان کی دنیا و آخرت میں آسودگی کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ عظیم احسان ہے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا اپنی امت پر کہ بندے کو نہ صرف رب سے مانگنے کی ترغیب دی، بلکہ مانگنےکا ڈھنگ و طریقہ بھی سکھایا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی یہ دعائیں ایسے قیمتی مضامین پر مشتمل ہیں کہ انسان کی عقل و سوچ وہاں تک پہنچ ہی نہ سکے۔ ایک ایک دعا پر غور کیا جائے تو عقل دنگ رہ جائے کہ اصل رب سے مانگنے والی چیز تو یہ ہے اور اِس حقیقت کا ادراک ہوجائے کہ یہ دعا کا ایک جملہ بھی میرے حق میں قبول ہوگیا تو میرے تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔ اِن دعاؤں میں بقول علی میاں ؒ :
’’نبوت کا نور ہے، پیغمبر کا یقین ہے، ’’عبدِ کامل‘‘ کا نیاز ہے محبوبِ رب العالمین کا اعتماد و ناز ہے۔ فطرت نبوت کی معصومیت و سادگی ہے،دلِ دردمند وقلبِ مضطر کی بے تکلفی و بے ساختگی ہے، صاحبِ غرض وحاجت مند کا اصرار و اضطرار بھی ہے اور بارگاہ ِ الوہیت کے ادب شناس کی احتیاط بھی۔ دل کی جراحت اور درد کی کسک بھی ہےاور چارہ ساز کی چارہ سازی اور دل نوازی کا یقین وسرور بھی‘‘۔(سیرتِ محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  دعاؤں کے آئینے میں از مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ، ص: 17 )
پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی یہ مبارک دعائیں زندگی کے متعدد گوشوں و مختلف مواقع سے متعلق ہیں، تاکہ بندے کا کوئی لمحہ بھی اُس کے آقا کی یاد سے غفلت میں نہ گزرے۔اِنہی مواقع میں سے ایک موقع نماز کا ہے۔ نماز کے حوالے سے انسان کئی کام انجام دے رہا ہوتا ہے۔ جیسے: اذان کو سننا، نماز سےقبل وضو،گھر سے مسجد آنا، مسجد میں داخل ہونا،نماز کے لیے صف میں شامل ہونا، تکبیرِ تحریمہ، رکوع، قومہ،سجدہ، پہلا قعدہ، قعدۂ اخیرہ، سلام کے بعددعا۔اِن تمام مواقع سے متعلق احادیثِ مبارکہ میں بڑی قیمتی دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ 
اِن دعاؤں میں دنیا و آخرت سے متعلق حاجتوں و ضرورتوں کو رحیم وکریم، سمیع و مجیب رب سے مانگا گیا ہے، ذیل میں دعاؤں کے ان مضامین کو مختصراً سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے:٭ گناہوں سے معافی٭کشادہ گھر٭رزق میں برکت٭نیک بندوں میں شمار٭ گمراہی، بھٹکنے، ظلم اور جاہلانہ حرکات سے حفاظت٭ جہنم سے حفاظت٭رحمت کے دروازے کھلنا٭ شیطان کے مکر وفریب سے حفاظت٭ حسنِ اخلاق کی دولت٭ دل کی پاکیزگی٭ نعمتوں پر شکر کی توفیق٭ دلوں میں محبت واتحاد٭باہمی جھگڑوں و رنجشوں سے حفاظت ٭ بزدلی، کنجوسی، حدسے زیادہ بڑھاپا جس میں انسان دوسروں کا محتاج ہوجائے ، سے پناہ٭دکھ اور غم سے حفاظت۔
یقیناً مذکورہ بالا مضامین پر مشتمل دعائیں ہر انسان کی ضرورت ہیں، توجہ، اہتمام و پابندی کے ساتھ اِن دعاؤں کا مانگنا انسان کو دونوں جہاں کی بیش بہا نعمتوں سے مالا مال کرسکتا ہے۔
اِن مبارک ادعیہ کو مکتبہ بیت العلم سے شائع ہونے والے ایک کتابچہ میں جمع کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے حضرت مفتی حنیف عبد المجید صاحب کو ،جنہیں اللہ نے دعاؤں کا خاص ذوق عطا فرمایا ہے۔ مفتی صاحب کے اہتمام و رہنمائی سے مسنون و ماثور دعاؤں کو عام کرنے اور عمل میں لانے کی غرض سے مختلف عناوین و دلچسپ انداز میں جمع کرنے کا کام انجام دیا گیا ہے جو’’سلسلہ تحفۃ الدعا‘‘(تحفۃ الدعا سیریز) کے نام سے معروف ہے۔الحمد للہ اب تک مکتبہ بیت العلم سے اِس سلسلے کی نوکتابیں چھپ کر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔
زیرِ تذکرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا نام’’ پریشانیوں کا حل نماز کے ذریعے‘‘ ہے۔ غالباً یہ نام رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اُس مبارک ارشاد سے ماخوذ ہے جو امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں حضرت حذیفہؓ کی روایت سے نقل فرمایا ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو جب بھی کوئی اہم معاملہ یا پریشان کرنے والی بات پیش آتی تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ (سنن ابو داؤد، 1/420) اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کونماز ایک ایسی زبردست عبادت عطا فرمائی ہے جس میں رب کو خوش کردینے، پریشانیوں کو دور کرکے دل کو اطمینان بخشنے کی بے پناہ طاقت موجود ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے نماز کے تقریباً 18 فوائد تحریر فرمائے ہیں جن میں سے چند ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں:
٭مَجْلَبَةٌ لِلرِّزْقِ :۔رزق میں وسعت کا سبب بنتی ہے۔
٭حَافِظَةٌ لِلصِّحَّةِ:۔ صحت کو سلامت رکھتی ہے۔
٭دَافِعَةٌ لِلْأَذَى، مَطْرَدَةٌ لِلْأَدْوَاءِ :۔تکلیفوں و بیماریوں کو دور کرتی ہے۔
٭مُقَوِّيَةٌ لِلْقَلْبِ، مُبَيِّضَةٌ لِلْوَجْهِ :۔ دل کو طاقت اور چہرے کو رونق عطا کرتی ہے۔
٭مُفْرِحَةٌ لِلنَّفْسِ :۔نفس کو راحت پہنچاتی ہے۔
٭حَافِظَةٌ لِلنِّعْمَةِ، دَافِعَةٌ لِلنِّقْمَةِ :۔نعمتوں کی حفاظت کرکے بلاؤں کو ٹالتی ہے۔
نماز کی تاثیر سے متعلق آگے بڑی عجیب بات تحریر فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمی کسی پریشانی و بیماری وغیرہ میں مبتلا ہوں تو جو اُن میں سےنمازی ہوگا، وہ دوسرے آدمی کی بہ نسبت اُس پریشانی وغیرہ کے اثرات سے کم متاثر ہوگا اور اس نمازی کا انجام بھی بہتر ہوگا۔ (زاد المعاداز ابن قیمؒ، 4/304)
اللہ تعالیٰ ہر فرد کو ایسی نماز نصیب فرمادے۔ ان شاء اللہ آداب ِنماز کی رعایت اورنماز سے متعلق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تعلیم کردہ مبارک دعاؤں کا اہتمام نماز کو جاندار اور رب کی پسندیدہ نماز بنانے میں مددگار ہوگا۔اس کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان دعاؤں کو تین عنوانات کے تحت جمع کیا گیا ہے ۔٭ نماز سے پہلے، ٭نماز کے اندر،٭نماز کے بعد مانگی جانے والی دعائیں۔دعاؤں کے ساتھ اُن کا آسان ترجمہ اور مختصر تشریح بھی ذکر کی گئی ہے تاکہ زبانِ نبوت سے جاری ہونے والے اِن مبارک کلمات کو نمازی سمجھ کر اور دھیان سے مانگ سکے۔
یہ مختصر کتابچہ جیب میں رکھ کر جب تک یاد نہ ہوں دیکھ دیکھ کردعا مانگنے کا اہتمام کرکے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو سمیٹا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نمازوں کو شاندار اور اپنی پسندیدہ نماز بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیمتی دعاؤں کو اپنے معمولاتِ زندگی میں شامل کرنے والا بنادے۔ (آمین )