عامر نذیر : مہلوک نوجوان کی برسی پر بجبہاڑہ میں ہڑتال

اننت ناگ// ایک سال قبل فورسز کے ہاتھوںجاں بحق ہوئے عامر نذیر لٹو کی پہلی برسی پر بجبہاڑہ میں مکمل ہڑتال ر ہی جس کے دوران تمام کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی ۔ بدھ کی صبح مختلف علاقوں سے لوگ شہیدپارک بجبہاڑہ میں جمع ہوئے اور مرحوم کے حق میں فاتحہ خوانی کی ۔ 22سالہ عامر نذیر بابا ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا اور علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی سے اس نے ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔ پچھلے سال 11جولائی کو اُسے پولیس اہلکار نے گولی مار دی ۔اسپتال میں ایک دن تک موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد 12جولائی کو اُس کی موت واقع ہو گئی ۔ عامر کے پیٹ میں گولیپیوست ہوئی تھی جس سے اُس کے گردے اور جگر کو نقصان پہنچا تھا ۔عامر کے والد نذیر احمد لتو ،نے محنت ومشقتکر کے اپنے بچے کو پڑھایا جبکہ اُس کے دو بیٹے عاقب اور ابرار اس وقت بارہویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عامر کافی ذہین بچہ تھا ۔عامر کی والدہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ عامر گھر پر چھٹیاں منانے آیاتھا اور دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اپنے نزدیکی چاچا کے یہاں چلا گیا تو اچانک ہم نے گولیوں کی آوایں سنی جس کے بعد ہم اُسے ادھر ادھر ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنے بیٹے کو خون میں لت پت لوگوں کے ہاتھوں پر اٹھایا ہوا دیکھا ۔ہم نے عامر کو سب ضلع ہسپتال بجبہارا پہنچایا ۔عامر کے والد نذیر احمد کہتے ہیں کہ بجبہارا ہسپتال سے جب ڈاکٹروں نے عامر کو ابتدائی مرہم پٹی کرنے کے بعد سرینگر کے صدر ہسپتال جانے کیلئے ایک ایمبولنس گاڑی فراہم کی ،تاہم اس گاڑی کی پولیس اہلکاروں نے توڑ پھوڑ کی اور ساتھ ہی ڈرائیور کی بھی شدید مار پیٹ کی اور ہم سب کو ڈرایا دھمکایا گیا ۔قریب ایک گھنٹے تک ایمبولیس گاڑی کو روکا گیا اور پھر اُسے جانے کی اجازت دی گئی لیکن تب تک تاخیرہوچکی تھی اور دوسرے دن ہسپتال میں اُس کی موت واقع ہوئی ۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی فائرنگ بلا اشتعال تھی ۔انہوں نے کہاکہ جہلم کے کنارے پر بیٹھے تھے تو ہم نے ایک پولیس افسر کو زیل پورہ کے مقام پر آتے ہوئے دیکھا اور جس نے تین نوجوانون کو اپنے گھروں سے گھسیٹا اور اُن کی شدید مار پیٹ کی ۔ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر نے اس دوران اپنی بندوق نکالی اور ہماری طرف تان دی ۔ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں وہاں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور پولیس افسر نے اپنے ایک سپاہی سے AK-47بندوق لیکر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک فائر عامر اور دوسرا سبزار کو لگا جس سے عامر کی موت واقع ہو گئی جبکہ سبزار شدید زخمی ہوا ۔عامر کی ماں کا کہنا تھا کہا کہ جس دن برہان وانی جان بحق ہوا اس دن عامر بہت افسردہ تھا اور اس نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا ۔