عالم برزخ سے اپنی لاڈلی بِٹیا کے نام

السلام علیکم میری پیاری بیٹی حٰم …
 
انتہائی پرْاْمید ہوں کہ میرا جگر گوشہ ٔحیات بخیر و عافیت سے ہوگا اور گھرکے سب اراکین بھی، بالخصوص آپ کی امی جان۔دراصل میں آپ کا ابا جان عالمِ برزخ سے آپ کو ایک اہم پیغام اس خط کی صورت میں ارسال کرنے جارہا ہوں۔قریب قریب تین سال قبل کی بات ہے کہ جب میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے آپ سب سے بچھڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا ۔ میری پیاری بیٹی حٰم، درحقیقت زندگی کا یہ دستور ازل سے ہی چلا آرہا  ہے کہ جوکوئی انسان بھی اس دْنیا میں آیا، اْسے ایک نہ ایک دن دنیا کی عارضی زیبایش و زینت کو خیرباد کہہ کر اللہ کی جانب ہی رجوع کرناپڑا۔ بس ایسا ہی کچھ  معاملہ آپ کے ابا جان کے ساتھ بھی پیش آیا۔ بات کچھ اس طرح سے ہے کہ میں آج کل جنت الفردوس کے بالاخانوں میں مقیم ہوں جہاں حیاتِ حقیقی کے انتہائی پْرسکون لمحات گزار کر اللہ کی عظیم ترین نعمتوں سے مستفید ہورہاہوں اللہ!کیا ہی عجب نعمتیں ، ترنم آفرین ہوائیں، لذت سے لبریز ثمرات ، مٹھاس سے بھر پور شراب ، حسن سے معمورحوریں ، ان دیکھے باغات ، پْرکیف نہریں ، الفاظ سے بیاں نہ ہونے والی خوشبو۔۔۔۔۔۔ اور وہ سب کچھ جس کا قیاس انسانی عقل کے دریچوں سے ناممکن ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میری جدائی کے غم سے تمہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، اور تو اورتمہارا  اِمتحان(exam ) بھی ٹھیک اُنہی دنوںجاری تھا، جب میں دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا۔ مجھے پتا ہے کہ میری یاد تمہیں لمحہ بہ لمحہ ستاتی ہوگی، پر غم نہ کرنا میری نیک دعائوں کا خزینہ سایہ بن کر ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے اور رہے گا۔
 میری لخت ِ جگر اب اُس بات کی طرف آتا ہوںجس مقصد سے میں یہ خط تحریر کر رہاہوں۔ وہ یہ کہ دنیائی زندگی انتہائی حساس سلیقہ سے گزارنا۔ سننے میں آیاہے کہ آج کل دنیا میںبنت ِ حوا نافرمانیوں کے گٹھاٹوپ اندھیروں میںجاگری ہیں۔ وہ نبی ؐکے طریقوں کو چھوڑ کر شیطانِ مرود کی پیروکار بن چکی ہیں۔حتاکہ اپنے اصل زیورات یعنی عفت، حیا ، شرمداری ، شرافت اور نرمی جیسے روشن اصولوں سے منحرف ہوچکی ہیں۔ پیاری بٹیا ،یہ دنیا کی زندگی متاعِ قلیل کی تمثیل ہے۔ بلکہ جناب نبیؐ کے فرمان کے مطابق اللہ کے نزدیک یہ دنیا مْردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔شیطان انسان کا کھلا دشمن قرار پایا۔اس دھتکارے ہوئے فرد کی اطباع ناکامی کی ضمانت ہے۔ میں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ اپنی ہردل عزیز بیٹی کو یہ پیغام یاد دہانی کے بطور ارسال کروںحالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تم بچپن سے ہی ایک پاکدامن، باحیا ، سخی ، زاہد ، ساجد ، سنجیدہ اور اعلیٰ کردار کی مالک رہی ہو۔ اس لئے کہ میں نے مشقت کرکے رزقِ حلال سے ہی تم کو پروان چڑھایا ہے۔ مجھے یقینِ محکم ہے کہ تم آج کے اس پْر فتن دور میں بھی انہی نایاب اصولوں کے مطابق زندگی کزار رہی ہو۔ تم آج بھی نمازوں کا شوق سے اہتمام ، قرآن مقدس کی تلاوت ، بزرگوں کا احترام ، غریبوں کی امداد ضرور کرتی ہونگی۔تم نے ہمیشہ میری لاج ہی رکھی ہے اور اپنی محنت ،لگن اور نیک نیتی سے دنیا میں میرا نام روشن کیا ہے۔ اب میری دیرینہ تمنا بھی پوری کرنا ہوگی۔ وہ یہ کہ قیامت میں میری لاج رکھنی ہوگی اور وہ ممکن تب ہی ہے جب تم اسی طرح فاطمہؓ کے انمول اصولوں پہ زندگی گزارتے رہو گی۔میں پْرامید ہوں کہ تم میرا یہ خواب بھی اللہ کے اذن سے پورا کروگی۔
 آخر میں یہ بات کہ خط ملتے ہی اللہ کے دربار میں سربسجود ہوکر دو رکعت نمازِ شکرانہ ضرور ادا کرنا،اس لئے کہ تمہارا ابا جان سرفرازی کا جام نوش کرچکا۔ امی جان اور زینب کا خیال رکھاکرنا ،اللہ کی فرمانبرداری میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ برتنا۔خوش و خرم رہنا اور پڑھائی جان و دل سے کرنا۔ انشا ء اللہ جنت میں ضرور ملاقات کریں گے۔                                                
 آپ کا پیارا ابا جان
حال: جنت الفردوس