عالم انسانیت سے!

خا لق  کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت اور ایک ٹھوس مقصدیت کے ساتھ میں تخلیق فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ، مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔ آپﷺ کے بعد صحابہؓ، تابعین،تباتابعین ،اولیائے کرام  ؑاور بزرگان دین نے بھی اپنے اپنے طور پر انسانی سماج و معاشرے میں ان بنیادی تین سوالوں کے تناظر میں عالم ارواح ،مقصد حیات وکائنات اورعالم برزخ کی زندگی کے بارے میں علم وآگہی کا عظیم فریضہ دعوت وتبلیغ کی صورت میں انجام دیا ہے۔  سماجیات کے ماہرین نے انسان کو سماجی جانور تصور کیا ہے جو ایک حد تک اس اعتبار سے صحیح ہے کہ انسان بھی دیگر حیوانات کی طرح اپنی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے لیکن اسے اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہے ۔تمام مخلوقات میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو فوقیت اور گوناں گوں نعمتیں عطا فرمائی ہیں اُن سے حیوانات محروم ہیں ۔مثلاً انسان کو اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی ،صلاحیت تحریر وتقریر،  تہذیب وشائستگی،غور وتدبر ،فہم وفراست ،مختلف علوم وفنون کو حاصل کرنے کا جذبہ، اد ب وثقافت کے ساتھ  قدرت کے سربستہ رازوں کو جاننے سمجھنے کا شعور بخشا ہے اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی صبح تک دنیا میںبسنے والے انسانوں کی دُنیاو ی و اخروی  زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے پیارے اور لاڈلے محبوب حضرت محمدﷺ پر قرآن حکیم جیسی عظیم ولامثال کتاب کا نزول فرمایاکہ جس میں اللہ تعالیٰ کے احکامات ،اُس کے فرماں بردار بندوں کے انعامات اور فتح ونصرت کے علاوہ اللہ کے نافرمانوں اور باغیوں کے عبرت ناک انجام کا ذکر بڑے واضح الفاظ میں موجود ہے۔وہ شخص خوش نصیب ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے پاکیزہ اور نُورانی طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق حاصل ہوجائے۔
یہ کائنات ایک خود کار مشین کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ایک عظیم حکمت وقدرت رکھنے والی طاقت ہے جو اس کائنات کے نظام کو چلارہی ہے ۔گویا انسان اس خدائی نظام اورضابطوں کے آگے بے بس ومجبور بھی ہے اور کسی حد تک خود مختار بھی ۔بے بس ان معنوں میں کہ وہ خدائی فیصلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ہے۔مثلاً آسمان سے بارش برستی ہے آدمی اُسے روک نہیں سکتا ،آدمی ہمیشہ جوان رہنا چاہتا ہے لیکن خدائی ضابطے کے مطابق وہ بوڑھا ہوجاتا ہے ۔آدمی کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے موت نہ آئے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے۔غرضیکہ آدمی قانون فطرت کے آگے بے بس ومجبور ہے یا یوں کہیے کہ وہ لاکھ کوششوں کے باوجود خدائی ضابطوں کو نہیں بدل سکتا ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اس دُنیا میںکس حدتک خود مختارہے؟اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ انسان اعمال کے اعتبار سے وقتی طور پر اس دُنیا میں آزاد ہے ۔وہ چاہے تو  اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اور محمدﷺ کے پاکیزہ اور نورانی طریقوں کے ساتھ گزارسکتا ہے  اورنہ  چا ہے تو اللہ کا باغی ،سرکش اور نافرمان بن کر بھی زندگی گزار سکتا ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قانون ،ضابطے اور نصاب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔آیات قرآنی اور احادیث نبویﷺ انسان کو ایک بہتر اور کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں ۔سچ اور جھوٹ،اچھا اور بُرا،حق وباطل،کفر وشرک،نیک وبد ،ظالم ومظلوم،حرام وحلال،جائز وناجائزاور خیر وشر، یہ تمام مثبت ومنفی اور متضاد باتیں یا حسنات وخرافات کے مضر ومفیداثرات کو قرآن وحدیث میں بڑے واضح ،مدلّل اور بہت حد تک سائنٹیفک انداز میں بیان فرمایا گیاہے۔گویا معلوم یہ ہوا کہ آدمیت سے انسانیت تک کے سفر میں ہر شخص پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اُن تمام شرور اور خبائث سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے کہ جن سے بچنے کی تاکید وتلقین قرآن وحدیث میں آئی ہے ۔
زندگی ایک غیر یقینی سفر ہے اور ہم سب وقت کے دریا میں بہہ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وقت کی قسم کھائی ہے کہ بے شک انسان گھاٹے اور خسارے میں ہے ۔سوائے اُن لوگوں کے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کئے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وقت ہی کی قسم کیوں کھائی ؟ کسی اور مخلوق کی قسم کیوں نہیں کھائی ؟ معقول جواب یہ ہے کہ  دراصل یہ وقت ہی ہے کہ جو پورے نظام عالم پر حاوی ہے ۔ ہر چیز وقت کی گردش میں ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ موسم بدلتے ہیں حیوانات،نباتات وجمادات میں تغیر وقت کے ساتھ آتا ہے ۔انسان ،بچپن ، لڑکپن ،جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں طے کرتا ہے اور آخر کار اُس کا فانی وجود وقت کے ساتھ ساتھ فنا ہوجاتا ہے۔کسی شاعر کا یہ شعر صداقت پر مبنی معلوم ہوتا ہے     ؎
صبح ہوتی ہے ،شام ہوتی ہے 
عمر یوں ہی  تما م  ہوتی ہے
    وقت کی قدر کرنے والا کامیاب ہے اور وقت کو ضائع کرنے والا سوائے پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہیں کرپاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل وصور ت میں پیدا فرمایا ہے ۔اس لیے اللہ تعالے ٰ  یہ نہیں چاہتا ہے کہ میرا پیدا کردہ یہ حضرت انسان  میرے احکامات کے خلاف دُنیا میں زندگی بسر کرے ۔مشہور مقولہ ہے کہ وقت کی نمازبے وقت کی ٹکریں۔گویا وقت کے ساتھ ہرچیز بدل جاتی ہے ۔وقت پہ لیا صحیح فیصلہ چاہے وہ کسی بھی معاملے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہوصدیوں پہ بھاری پڑجاتا ہے ۔تمام مذاہب،فکر وفلسفے،علوم وفنون اور علمی ،ادبی ،سائنسی اور روحانی دانش گاہیں آدمی کو ایک بہترین انسان بننے کی تربیت دیتی آئی ہیں لیکن شیطان،بُری خواہشیں اور بُرا ماحول آدمی کو ایک اچھا انسان بننے نہیں دیتا ۔دنیا کو امتحان گاہ بھی کہا جاتا رہا ہے ۔ہر آدمی اپنے اچھے اور بُرے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ بہرحال ہر آدمی نے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے اچھے بُرے اعمال کا حساب دینا ہے ۔یہ طے شُدہ بات ہے کہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔تما م رشتے ناطے ،مال ودولت ،عہدے،جاہ وحشمت غرضیکہ سب ٹھاٹھ یہیں پڑا رہ جاتا ہے ا ور جانے والا تن تنہا ایک ایسی دُنیا میں پہنچ جاتا ہے کہ جہاں سے پھر وہ واپس اس دُنیا میں نہیں آتا ہے۔
   ایمان اور دینی تعلیم سے روگردانی کے نتیجے میں آج کثیر تعداد میں دُنیا کے لوگ انتشار،بے امنی،بددیانتی،بے حیائی ،بے اعتمادی ،منافقت ،عیاری ،مکّاری اور غداری کے ساتھ لرزہ خیز گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے زندگی گزارہے ہیں۔اکیسویں صدی کو سائنس اور ٹکنالوجی کی تیزرفتارترقی کا دور کہا جاتا ہے ۔سائنسی انکشافات کے سبب کئی حیرت انگیز ایجادات آئے دن سامنے آرہی ہیں ۔آج کا انسان گوشئہ تنہائی میں تنہا رہنے کے باوجود تنہا نہیں ہے ۔ مانا کہ سوشل میڈیا کی یلغار نے بہت سی انسانی مشکلات کو حل کردیا ہے ۔انٹر نیٹ کی دُنیا کا آج کا یہ انسان اپنے آپ میں ایک انٹر نیٹ بن چکا ہے لیکن اس سب کے باوجود مرنے جینے ،خوشی وغمی اور طرز بُود وباش کے طور طریقے بدل چکے ہیں۔نمود ونمائش،خود غرضی،خود پسندی وخود پرستی نے انسانی اقدارپرکاری ضرب لگائی ہے۔موبائل فون اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال نے تقریباً ہر طبقے اور عمر کے لوگوںکے دلوں سے شرم وحیا،احساس ذمہ داری ،خوف آخرت اور رشتوں کا تقدّس ختم کردیا ہے۔مادیت ،روحانیت پر غالب آگئی ہے ۔فسق وفجور میں لوگ لذت محسو س کرنے لگے ہیں۔ہر شخص بغیر محنت،ایمانداری اور دیانتداری کے شہرت اور عزت حاصل کرنے کے چکّر میں ہے ۔ ہزاروں خواہشیں جن میں جائز کم اور ناجائز زیادہ ہوتی ہیں کو لے کر لوگ سینکڑوں برس تک جینا چاہتے ہیں۔یہ احساس نہیں رکھتے کہ کسی بھی وقت جسم وجاں کا تعلق منقطع ہوسکتا ہے۔نئی نسل آدھی آدھی رات تک موبائل فون پہ حیاسوز ویڈیوز دیکھنے کی عادی ہوچکی ہے ۔والدین اپنی اولاد سے اس لیے  نالاں ہیں کہ وہ اُن کا نہ تو کہنا مانتی ہے اور نہ ہی اُن کا ادب واحترام کرتی ہے ۔آج کے بچّے بالغ ہونے سے پہلے ہی بالغ ہورہے ہیں ۔ آج بھی فرقہ پرستی،ذات پات،رنگ ونسل، علاقائیت، تعصب، مذہب اور دھرم کی بنیاد پہ لڑائی جھگڑے ،فتنہ وفساد اور کئی دل دہلا دینے والے حالات وواقعات آے دن سامنے آتے ہیں ۔حالانکہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا لیکن اس کے باوجود سماج وسوسائٹی میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی ممانعت تمام آسمانی والہامی مذاہب میں بھی آئی ہے اور قوانین جدیدہ میں بھی۔زیادہ تر لوگ اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں کوتاہی برتتے ہیں اور اپنے حقوق کا راگ زیادہ الاپتے ہیں۔ہر روز بھیانک جرائم اخبارات کی سُرخیاں بنتے ہیں ۔ منشیات میں لوگ اپنی جانیں گنوارہے ہیں ۔بہت سے اسکولوں ،کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں طلبہ وطالبات عقل کے بجائے نقل سے کا م چلالیتے ہیں ۔ اب وہ نصاب کی کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ نوٹس کی تلاش میں رہتے ہیں ۔نقل کی وبا نے ہمارے تعلیمی معیار کو پست کردیا ہے ۔علم واد ب کہ جس کا بنیادی مقصد انسان کو جہالت اور لاعلمی کے اندھیروں سے نکال کر فہم وفراست ،تہذیب و شائستگی اور شعور وبصیرت کی روشنی میں لانا ہے ،عملی صورت میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا ہے بلکہ ایک پڑھا لکھا بے عمل سماج عالم انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے ۔بہتر تعلیمی نظام کے فُقدان میں اساتذہ اور طلبہ برابر کے شریک ہیں ۔ فرائض کی ادائیگی میں جب تک احساس ذمہ داری اور مخلصانہ جذبہ کارفرمانہیں ہوگا تب تک کوئی بھی بہتر عملی صورت نظر نہیں آسکتی ۔
  اُوپر بیان کی گئیں ان تمام سماجی برائیوں ،ذہنی خباثتوں اور بالخصوص آج کل کے سوشل میڈیائی دور کے انسان کی بے فکری،کسل مندی،بے راہ روی اور بے عملی کومدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پوری دُنیا کے لوگوں کو اپنا وقت ضائع کیے بغیرقرآن وحدیث کی پاکیزہ اور نُورانی تعلیمات سے مستفید ہونے کے لیے پہل کرنی چاہیے۔ایک باشعور اور سنجیدہ شخص کی سوچ کا دائرہ کا فی وسیع ہوتا ہے ۔وہ دور اندیش ہونے کے ساتھ ساتھ عاقبت اندیش بھی ہوتا ہے ۔وہ سُود وزیاں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دنیا اور آخرت میں ایک خوب صورت اور کامیاب زندگی بسر کرنے کی فکر میں رہتا ہے ۔ انسان کے تمام اعمال کادارومدار اُس کی نیت پر ہے ۔نیت اچھی ہوگی تو اعمال بھی اچھے سرزد ہوں گے اور نیت بُری ہونے کی صورت میں اچھے اعمال کے سرزد ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص( بلالحاظ مذہب وملّت) کو چاہیے کہ وہ نیکیوں کے کاروبار میں لگ جائے ۔اپنی نیت کو ہر وقت ٹٹولتا رہے کہ اُس کی نیت میں کوئی کھوٹ تو نہیں آگیاکیونکہ نیت کا بگاڑ انسان کو بُرائی کے اڈوں پر لے جاتا ہے ۔یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ بُرے کاموں کے اثرات نہ صرف ایک شخص کی ذاتی زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ اس لیے آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میںہم سب اپنی اپنی زندگیوں کا سفر طے کریں تاکہ ہماری دُنیا بھی سنور جائے اور آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امن وسُکون کی زندگی جینے کے لائق بن سکیں اور بقول علامہ اقبالؔ   ؎
تیرے آزاد بندوں کی نہ  یہ دُنیا نہ  وہ دُنیا 
  یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی  
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر اُردو باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (راجوری)
فون نمبر9419336120