’عالمی یو م آزادی صحافت‘ ؔ ایوان صحافت میں تقاریب کااہتمام،صحافیوں کو درپیش مسائل پراظہارخیال

سرینگر//عالمی یوم آزادی صحافت پر صحافیوں کو درپیش مسائل اور انکی آزادی پر پہروں کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نوجوانوں و کارکن صحافیوں نے  تنخواہ بورڈ کی تشکیل کیلئے متحدہ جدوجہد کی ضرورت کو لازمی قرار دیا،جبکہ مقررین نے واضح کیا کہ صحافت کا پیشہ اختیار کرنا ایک اخلاقی فیصلہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں3مئی کو عالم یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے،جس کے دوران صحافیوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے علاوہ ان صحافیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا جاتا ہے،جو نا مسائد حالات کے باوجود بھی صحافتی اقدار اور اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اسی دن کے مناسبت سے سرینگر کے ایوان صحافت میں جمعہ کو کئی تقرایب کا انعقاد کیا گیا،جس کے دوران ان صحافیوں کو یاد کیا گیا،جو گزشتہ ایک برس کے دوران بچھڑ گئے۔ انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر کی جانب سے جمعہ کو یک روزہ سمینار بعنوان ’’صحافی فکر معاش سے آزاد ہو تو صحافت آزاد ہوتی ہے‘‘، سرینگر کے ایوان صحافت میں منعقد کیا گیا جس میں مقامی و بیرونی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ اردو صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سمینار میں سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات محمد سعید ملک ،معروف صحافی ریاض مسرور،ایوان صحافت کشمیر کے صدر شجاع الحق،انجمن اردو صحافت کے سرپرست اعلیٰ حمید حامد،صدر ریاض ملک ،سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے مدرس راشد مقبول، کشمیر ریڈر کے محمد معظم، اکنامک ٹائمز کے عرفان حکیم، جموں وکشمیر اردو کونسل کے ترجمان جاوید کرمانی،انجمن کے صوبائی صدر بلال فرقانی اور ترجمان اعلیٰ زاہد مشتاق نے بھی شرکت کی۔سیمینار میں سابق ڈائریکٹر جنرل محمد سعید ملک نے بتایا کہ میں نے 60برس صحافتی میدان میں صرف کئے۔ ’’ویج بورڈ‘‘ کے حوالے سے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے محکمہ اطلاعات نے بتایا کہ ہم کافی عرصے سے اس حوالے سے سوچ رہیں کہ مالی مشکلات کے ازالے کی خاطر ٹھوس اقدامات اُٹھائے جانے چاہیے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ صحافتی میدان میں اعلیٰ معیار کی خدمات انجام دیں۔حکومت کی جانب سے اشتہارات پر پابندی کے موقعے پراداروں کی جانب سے صحافیوں کی ماہانہ اجرتوں میں کٹوٹی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غلط بات ہے کہ اخبار مالکان نقصان کے موقعے پر صحافیوں کی ماہانہ آمدن پر ضرب لگانے سے نہیں کتراتے تاہم فائدہ حاصل ہونے کی صورت میں صحافیوں کو قطعی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے جس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ریاض مسرور نے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا صحافی جو ٖغلط ذرائع سے رقومات اینٹھنے کاروادار نہ ہو، وہی اپنی اجرت کو بڑھانے کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔انہوں نے صحافیوں کو درپیش مالی مسائل و مشکلات کے ازالے کی خاطر ’’تنخواہ بورڈ‘‘تشکیل دینے پر زور دیا۔ سیمینار سے سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے مدرس راشد مقبول نے آزاد صحافت اور صحافیوں کی معاشی حالت پر چند اہم نکات کی طرف شرکا کی توجہ مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اخبارات کو بھر پور مالی تعاون فراہم کریں۔ راشد مقبول کا کہنا تھا کہ جدید دور میں متعدد صحافتی ادارے ایسے ہیں جو حکومتی تعاون پر انحصار کرنے کے بجائے عوامی عطیات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد ایسے قومی ادارے اب بھی کام کررہے ہیں جو ’’کرائوڑ فنڈنگ‘‘ کے ذریعے آزاد صحافت کو پروان چڑھارہے ہیں،اور اس طرح کے نظام میں جہاں حق گوئی پر بھی تلوار نہیں لٹکتی وہیں صحافیوں کو مالی آسودگی دستیاب ہوجاتی ہے۔سیمینار سے انڈیا ٹودے اور روزنامہ کشمیر ریڈر کے محمد معظم کا کہنا تھا  ’’ہم صحافی ہونے کی حیثیت سے حق گوئی کیلئے جواب دہ ہے اور ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے قلم کے ذریعے سے حق کی ترجمانی کریں۔انہوں نے بتایا کہ جب ایک صحافی کو بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر انتہائی کم اُجرت پرکام کرنا پڑتا ہے تو وہ غلط ذرائع کے حصول کی خاطر تگ و دو کرنے کیلئے مجبور ہوجا تاہے ۔سمینار سے اکنامک ٹائمز کے عرفان حکیم نے بتایا کہ صحافت جیسے پیشے کو قبول کرنا ایک اخلاقی فیصلہ ہوتا ہے جس میں مادیت کا کوئی عنصر رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ان کا کہنا تھا’’ صحافت کو اختیار کرنا اخلاقی فیصلہ ہوتا ہے نہ کہ معاشی فیصلہ۔اخلاقیات اور صحافیت ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم  ہے۔‘‘جموں وکشمیر اردو کونسل کے ترجمان جاوید کرمانی نے بتایا کہ دور جدید میں صحافت کو پروپگنڈہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے قومی میڈیا کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج نظر اُٹھاکر دیکھئے کہیں بھی سچائی کا بول بالا نظر نہیں آرہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اردو ہماری شناخت ہے ،لہٰذا اس حوالے سے ہمیں انتہائی حساس ہونے کی ضرورت ہے۔پریس کلب کے صدر اور انڈیا ٹوڈے کے بیورو چیف شجا ع الحق نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت سے جڑے صحافیوں کو اپنے اندر وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سمینا رکے آخر پر انجمن اردو صحافت جموں وکشمیر کے صدر اور ہفت روزہ نوائے جہلم کے چیف سب ایڈیٹر ریاض ملک نے ذی عزت مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اردو صحافت سے جڑے صحافیوں کو درپیش مشکلات پر بات کی۔ اس دوران جموں کشمیر ایڈیٹرس فورم کی جانب سے سمینار منعقد کیا گیا جس میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے صحافیوں کو زمینی سطح پر درپیش چیلنجز اور اُن کے سدباب پر روشنی ڈالی۔سمینار میں سینئر صحافی محمد سعید ملک، محمد سلیم پنڈت، شجاع الحق اور محمد اسلم بٹ نے مباحثہ میں حصہ لیا۔ فورم کے معاون کنوینر محمد اسلم بٹ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہاں جو بھی نکات اُبھارے گئے اُن پر باریک بینی سے غوروفکرکیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سیمینار مستقبل میں بھی منعقد کئے جائیں گے۔ سمینار میں سینئر صحافی رشید راحل اور دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کی طرف سے اس دن کی مناسبت سے نوگام کیمپس میں سمینار منعقد کیا گیا،جس میں نوگام کیمپس کے ڈائریکٹر پروفیسر ولی محمد شاہ،شعبہ صحافت کے سربراہ پروفیسر حمید اللہ مرازی،کارڈینیٹر ڈاکٹر جان بابو کویا،گریٹر کشمیر کے سنیئر ایگزیکٹو ایڈیٹر ہلال احمد میر،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہناز بشیر،ڈاکٹر آصف خان اور دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔