عالمی یوم صحت| سکمز میں 250ہیلتھ ورکر کورونا سے متاثر

 سرینگر // عالم یوم صحت کے موقع پر کشمیر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کوختم کر کے ہی موجودہ دور میں لوگوں کو ’’عمدہ اور صحت مند دنیا‘‘ فراہم کی جاسکتی ہے۔صحت کا عالمی دن ہر سال 7اپریل کو منایا جاتا ہے ۔ اس سال عالمی وباء کے دوران چند غریب ممالک میں لوگوں کو بہتر علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے ڈبلیو ایچ او نے عالمی یوم صحت کیلئے’’عمدہ اور صحت مند دنیا‘‘کے موضوع کا انتخاب کیا ہے ۔کشمیر میںہرین کا کہنا ہے کہ مختلف پروگراموں اور فیسٹولوں میں لوگوں کو جمع کرنے سے وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن احتیاطی تدابیر اور کورونا مخالف ٹیکہ کاری ہی لوگوں کو جان لیوا وائرس سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کرنے کے علاوہ کورونا مخالف ٹیکہ کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ کشمیر میں ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے صدر اور وبائی بیماریوں کے باہر ڈاکٹر نثار الحسن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ عالمی یوم صحت ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس سال عالمی وباء کی وجہ سے ہی دن منفرد بن جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے عالمی دن کو لوگوں میں کورونا وائرس سے متعلق جانکاری اور بیداری بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا’’ بھارت سمیت جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں میں کورونا وائرس نے پھر سر اٹھایا ہے اور یہ لوگوں کو کافی تیزی سے متاثر کررہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ متاثرین میں اضافہ ، اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد اور اموات میں اضافہ ، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لوگوں نے احتیاط برتنا بند کردیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر نثار نے بتایا ’’معیاری ضابطہ اخلاق کی پاسداری اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں لوگوں کو جانکاری دینا لازمی ہے کیونکہ احتیاط سے ہی ہم کورونا وائرس کی ہر قسم کو شکست دی جاسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ مختلف پروگراموں اور فیسٹولوں میں لوگوں کو جمع کرکے وائرس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے اور اگر ہمیں وائرس پر قابو پانا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جان بچانی ہے، تو ماسک، سماجی دوری اور دیگر معیاری ضابطہ اخلاق پر عمل کر نے کے علاوہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کورونا مخالف ٹیکہ دینے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ لوگ بے خوف ٹیکہ لگا کر وائرس کو پھلنے سے روک سکتے ہیں اور اسلئے ہر ایک شخص کو ٹیکہ لگانا لازمی بن گیا ہے۔ سکمز صورہ میں شعبہ Hospital Administrationکے سربراہ اور نوڈل آفیسر ڈاکٹر غلام حسن یتو نے کہا کہ عالمی وباء کے دوران لوگ خود قوائد و ضوابط پر عمل کرکے خود کی جان بچاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ ایس اوپیز پر عمل آواری کے علاوہ سماجی اجتماعات اور تقریبات سے دور رہ کر کورونا وائرس کی دوسری لہر میں آئی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر غلام حسن نے بتایا ’’ عالمی وباء سے ہیلتھ ورکر بھی محفوظ نہیں رہے اور متاثرین کو عالج و معالجہ فراہم کرنے کے دوران سکمز میں بھی 250ڈاکٹر ، نرسیں اوردیگر عملہ کو  وائرس نے اپنے لپیٹ میں لیا ‘‘۔ ڈاکٹر غلام حسن نے کہا ’’کورونا مخالف ٹیکہ لگاکر لوگ نہ صرف اپنی جان بچاسکتے ہیں بلکہ وائرس کو بھی ہمیشہ کیلئے ختم کیا جاسکتا ہے‘‘۔