عالمی یوم خواتین | قوم کی تعمیر میں خواتین کا نمایاں رول:مشیر فاروق خان

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے کہا ہے کہ موجودہ صدی میں صنفی عدم مساوات کو دور کرنے کی وجہ سے سب سے بڑی سماجی تبدیلی آئی ہے جس نے ہمارے ملک کی خواتین کو مناسب پہچان دی ہے۔مشیر موصوف نے اِن باتوں کا اِظہار ٹیگور ہال میں عالمی یوم نسواں کے موقعہ پرخواتین کے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔مشیر فاروق خان نے معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ایک کنبہ بلکہ پوری دنیا کی ترقی اور ترقی کا اِنحصار خواتین کی ترقی پر ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اِس بڑے دِن کو سال بھر منایا جانا چاہئے کیونکہ خواتین سال بھر ہر گھر کی بنیاد بنی رہتی ہے۔اُنہو ںنے اِس برس خواتین کے عالمی دِن کا تھیم ’’ بریکنگ دی بائس ‘‘ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جب خواتین کے ساتھ تعصب کیا جاتا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین آج کے دور میں اَپنے لئے جگہ بنارہی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے مختلف شعبوں میں جموں وکشمیر کے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر کی خواتین قوم کی تعمیر کی مسلسل اور تعمیر ی کوششوں سے مختلف شعبوں میں نمایاں اثر ڈال رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کی خواتین کو حوصلہ افزائی اور موقعہ دینے کی ضرورت ہے اور وہ اَپنی صلاحیت اور طاقت سے جموںوکشمیر اور پوری قوم کی ترقی میں اَپنا حصہ اَدا سکتی ہیں۔مشیر موصوف نے کہا کہ خواتین تمام شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے والی ہیں چاہے وہ کاروبار ہو، کھیل ہو ، تعلیم ہو ، زراعت ہو ، اِنجینئرنگ ہو، اِختراع ہو یا میڈیکل شعبہ ہو۔انہوں نے مزیدکہا کہ خواتین نے جموںوکشمیر کے ساتھ ساتھ دُنیا بھر میں ملک کا وقار بلند کیا ہے۔مشیر فاروق خان نے اِس موقعہ پر جموں سے تعلق رکھنے والی رخشندہ مہک کی بھی ستائش کی جس نے پیرس ور سیلیز فرانس میں منعقدہ ورلڈ ڈیف جوڈو چمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ جیتا ہے۔اُنہوں نے وہیل چیئر باسکٹ بال کھلاڑی اِنشاء بشیر کی بھی تعریف کی جنہوں نے اَپنے ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔اُنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو متعلقہ شعبوں میں کامیابیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کے لئے روشنی کا مینار ہیں اور اُنہیں ان کے خوابوں کی تعبیر سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ’’ نیا جموںوکشمیر اور نیا بھارت ‘‘ کی پہچان ہوں گے۔اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے نے کہا کہ یہ دِن ہمیں خواتین کے مسائل پر بات کرنے اور ان کا حل کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دُنیا بدل رہی ہے اور خواتین ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں اور ہر سطح پر اَپنا کردار اَدا کر رہی ہیں۔صوبائی کمشنر نے کہا کہ حکومت نے خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے متعدد سکیمیں شروع کی ہیں جیسے اجولا گیس یوجنا ، جل جیون مشن وغیرہ اور جس نے ان کی ترقی میں نمایاں مدد کی ہے۔اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں آئی سی پی ایس کے مشن ڈائریکٹر شبنم شاہ کاملی نے کہا کہ اِس ملک میں خواتین کی آزادی کی ایک طویل تاریخ ہے اور ہمارے ملک نے خواتین کو بااِختیار بنایا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی صلاحیتوں اور اِن کی عظیم قیادت کی قابلیت کی ایک بھر پور تاریخ ہے اور اُنہوں نے ہمیشہ ہرشعبے میں نمایاں کردار اَدا کیا ہے۔اِس موقعہ پر فردوس ڈرامیٹک کلب کے فن کاروں نے خواتین کے ساتھ مسائل کو اُجاگر کرنے والے دِن کے موضوع پر ایک خاکہ پیش کیا۔ سونزل آرٹ کلچرل آرگنائزیشن کے فن کاروں نے بھی اَپنی رنگا رنگ پر فارمنس سے حاضرین کومحظوظ کیا۔بعد میں مشیر فاروق خان نے اِس موقعہ پر 10ویں اور 12ویں جماعت کی ہونہار طالبات ، گرل سپورٹس پرسنز ، کاروباری خواتین اور خواتین کی فلاح و بہبود کے دیگر اَفسران کو بھی مبارک باد پیش کی۔
 
 

صنفی مساوات کو فروغ دینے کی ضرورت :پروفیسر | کشمیر یونیورسٹی میںقومی سطح کے سمینار کا انعقاد 

سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے سنٹر فار ویمنز اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (سی ڈبلیو ایس آر)نے منگل کو خواتین کے عالمی دن کو منانے کے لیے ایک قومی سطح کے سمینار کا انعقاد کیا۔وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے سمینار کا افتتاح کیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر طلعت نے ایک اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد کے ساتھ ساتھ کشمیر کے دور دراز علاقوں میں مختلف آئوٹ ریچ پروگرام منعقد کرنے کے لیے CWSR کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ یہ پیغام جانا چاہئے کہ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی مساوی شرکت کو یقینی نہیں بناتا۔انہوں نے کہا’’ہم سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ اور ریاضی میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ ہمیں لڑکیوں کو اسکول جانے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آخر کار کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچ جائیں‘‘۔صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے یونیورسٹی کے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وائس چانسلرنے کہا کہ یونیورسٹی ایک باوقار پائلٹ پروگرام، 'جینڈر ایڈوانسمنٹ فار ٹرانسفارمنگ انسٹی ٹیوشنز (GATI)میں حصہ لے رہی ہے، جسے DST، GoI نے برٹش کونسل کے ساتھ شراکت داری میں اسپانسر کیا ہے۔دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر پامیلا سنگلا نے کلیدی خطبہ دیا اور صنفی تعصبات اور دقیانوسی تصورات کو دور کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو کیمپس کے اندر اور اس کے ارد گرد حفاظتی آڈٹ کرتے ہوئے صنفی حساسیت کے حوالے سے مزید تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور ان اداروں کو’’خواتین کے لیے زیادہ جامع اور محفوظ بنانے کے لیے صنفی حساسیت کے باقاعدہ پروگرام بھی منعقد کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔پروفیسر معراج الدین میر، سابق وی سی سنٹرل یونیورسٹی کشمیر جو اعزازی مہمان تھے، نے کہا کہ CWSR صنفی بیداری اور حساسیت کو بڑھانے میں قابل ستائش کام کر رہا ہے۔پروفیسر نیلوفر خان، سابق ڈائریکٹر CWSR KU، جو کہ مہمان خصوصی بھی تھیں، نے کہا کہ مرکز صحیح سمت میں جا رہا ہے اور پوری توجہ اور عزم کے ساتھ اپنے مینڈیٹ کو پورا کر رہا ہے۔یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار اے میر، جو کہ مہمان خصوصی تھے، نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے CWSR کی تمام کوششوں کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں مختلف اہم آئوٹ ریچ پروگرام منعقد کرکے نچلی سطح پر یونیورسٹی کی نمائندگی کر رہی ہے۔ ڈائریکٹر CWSRپروفیسر تبسم فردوس نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور تعلیمی، تحقیق اور توسیعی تعلیم کے شعبوں میں CWSR کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے CWSR کی حمایت کرنے پر وائس چانسلراور رجسٹرار کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاںوائس چانسلرنے 'نیوز ڈائجسٹ'، CWSR کا ایک نیوز لیٹر اور ڈاکٹر رابعہ کی تصنیف 'ایجوکیشن ان کنٹمپریری انڈیا' کے عنوان سے ایک کتاب جاری کی۔
 
 

نیشنل کانفرنس کا خواتین کو اونچا مقام دلانے میںاہم رول: شمیمہ فردوس

سرینگر//نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے کہا ہے کہ خواتین کو سماج میں اونچا مقام اور مرتبہ دلانے میں نیشنل کانفرنس نے کلیدی رول اداکیاہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ اور بیگم شیخ محمد عبداللہ نے خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے جو دورس اور منصوبہ بند اقدامات کئے تھے وہ آج بھی ہر مکتبہ فکر اور اقوام عالم کیلئے باعث تقلید ہیں۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے یوم خواتین عالمی دن کے سلسلے میں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ خواتین کو حکومت کے ہر شعبے میں کام کرنے کیلئے راہیں کھول دیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور اور نیا کشمیر کے پروگرام میں خواتین کے حقوق کی پاسداری کے بھارے میں واضح پالیسی اختیار کی ہے۔صوبائی صدر خواتین ونگ انجینئر صبیہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس کی ہی دور اندیش پالیسیوں کی وجہ سے ریاستی خواتین حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہے۔انہوں نے کہا کہ عورتوں کی راہوں میں اِس وقت بھی مشکلات اور مسائل کھڑے ہیں اور انہیں جہیز اور دیگر سماجی بدعات کی وجہ سے تشدد کا شکار ہونا پڑتا ہے جس کے خلاف ہمیں صف آرا ہونا چاہیے۔اس موقع پر دیگر لوگوں کے علاوہ صوبائی خواتین ونگ عائشہ جمیل، میونسپل کونسل چیئرپرسن سوپور مسرت کار، ضلع صدر بڈگام ربینہ اختر، ضلع صدر شوپیان محمودہ نثار، ضلع صدر کپوارہ رابعہ، ضلع صدر پلوامہ شبنم، ضلع صدر سرینگر صبیہ رسول، ضلع صدر اننت ناگ منیرہ ، ضلع صدر بانڈی پورہ میوہ جان بھی موجود تھیں۔
 
 

خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے جدوجہد جاری رہے گی: تاریگامی

 سرینگر// سی پی آئی ایم کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ خواتین کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہوئے، ہمیں ان کے حقوق اور بااختیار بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہئے۔ خواتین کے عالمی دن کی ابتدا خواتین کارکنوں کی ان کے استحصالی کام کے حالات کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد میں مضمر ہے۔یہ دن صنفی مساوات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور تمام شعبوں میں خواتین کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ حکومت کاخواتین کو بااختیار بنانے کے دعوئوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود ملک بھر میں خواتین کے کام کو کم اہمیت دیتی ہے۔ مختلف اسکیموں میں کام کرنے والی ہزاروں خواتین، جیسے آنگن واڑی ورکر و ہیلپر، این ایچ ایم کے تحت آشا ورکر، دوپہر کے کھانے کی کارکنان کو بھی کارکن کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اور انہیں معمولی مشاہرہ دیا جاتا ہے۔ یہ خواتین کارکنان اجرت میں اضافہ، سماجی تحفظ کے فوائد اور کام کی جگہوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں وقار کے لیے لڑ رہی ہیں۔سرینگر کی ایک لڑکی پر تیزاب پھینکنا غیر انسانی اور وحشیانہ ہے۔ مہذب معاشرے میں ایسے واقعات کی کوئی جگہ نہیں۔ قصوروار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انہیں عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔