عالمی یوم اردو اور اردو کی فریاد فکرانگیز

شہاب حمزہ

قوم کے عروج و زوال کا براہِ راست تعلق زبان سے ہوتا ہے ۔دنیا کی کئی قومیں صفحہ ہستی سے سے ایسے مٹ گئے کہ ان کا تاریخ میں بھی کوئی مقام نہیں ۔ مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قوموں کے زوال سے پہلے ان کی زبان زوال پذیر ہوئی اور قوم کے خاتمے سے قبل ان کی زبان نے دم توڑا ہے ۔ہر زمانے میں ہر قوم کے دشمن رہے ہیں اور دشمنوں نے تہذیب و ثقافت اور زبان کے خلاف منظم سازشیں کی ہیں اور فنا ہونے والے قوم کو ان سازشوں کا احساس تک نہیں ہو سکا ہے اور قومی نیست ونابود ہوگئے ۔ماضی کے بے شمار واقعات عبرت کی علامت ہیں ۔
ہندوستان کی سرزمین پر سب سے زیادہ کسی پر ظلم ہوا ہے کسی کو سب سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ اردو زبان کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو آزادی سے قبل ہندوستان کی لسانی روح اور عوامی زبان تھی ۔ملک کی آزادی اور تقسیم ہند کے بعد بھی اس زبان کی مقبولیت کا اندازہ ملک کے قومی زبان سے متعلق سے ہوئےووٹ سے پتہ چلتا ہے جہاں یہ ہندی زبان کے برابر کھڑی تھی ۔اگر مولانا ابوالکلام آزاد اس روز یہاں شامل ہوئے تو کہانی کچھ اور ہوتی۔ ذرا غور کریں کہ اردو زبان کی پوزیشن ہندوستان میں کیسی تھی اور موازنہ کریں کہ آج یہ زبان کس مقام پر ہے ۔ ملک کی آزادی کے ساتھ ہی ایک عظیم رہنما نے کہا تھا کہ اردو کے حروف قرآن سے ملتے جلتے ہیں لہذا مسلمان چاہیں تو اس کی حفاظت کریں چاہیں تو چھوڑ دیں حکومت کی اس سلسلہ میں کوئی ذمہ داری نہیں ۔حالانکہ اس بات میں کوئی شک نہیں اردو کس ایک ذات، فرقہ، خطہ یا قوم کی زبان نہیں بلکہ یہ زبان اپنے دامن میں لسانی خوبصورتی اور چاشنی سمیٹے ہندوستان کی سرحدوں سے نکل کر دنیا کے متعدد ممالک میں اپنی ساحری بکھیر رہی ہے۔ لطافت و شیرینی سے پر اس زبان کو کسی دائرے میں سمیٹ کر رکھنا کسی طور ممکن نہیں ۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے موقع پر عالمی یوم اردو کا منایا جانا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی یوم اردو کی پوری دنیا میں مقبولیت اس زبان کی شان کی زندہ علامت ہے ۔ آج ہمارے ملک میں ہی نہیں دنیا کے مختلف خطوں میں عالمی یوم اردو منایا جائے گا جو بلاشبہ اردو زبان کی روشن مستقبل کی دلیل ہے ۔
ان سب کے باوجود بڑے دعوے کے ساتھ میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد سے آج تک ہر روز ملک میں اردو کی مقبولیت، اہمیت، وزن اور وقار کمزور ہوا ہے اور ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ لازم بھی ہے کیونکہ جمہوری نظام کے قیام کے ساتھ قرآن مجید سے ملنے جلنے والے حروف والی زبان سے حکومت نے منھ موڑ لیا اور کبھی بھی اردو زبان کی تعمیر و ترقی کے لیے واضح اقدامات نہیں کیے گئے ۔ وقت کے آغوش میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ متعدد ریاستی حکومتوں نے بھی اردو زبان کے خلاف منظم سازش کرکے اسے کمزور اور فنا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک اور قابل غور بات کہ جو ملک کے متعدد سرکاری دفتر میں عمر رسیدہ مسلمان کلرک کا کام کرتے نظر آتے ہیں وہ یا تو اردو ٹائپسٹ یا اردو مترجم ہیں۔ میں نے متعدد دفتروں میں کام کرنے والے اردو ٹائپسٹ یا مترجم سے بات کی تقریبا سبھی میں یہ بتایا کہ اپنی پوری زندگی میں ایک درخواست بھی اردو میں نہیں دیکھا یا اردو میں ٹائپ کیا۔ اردو اسکولوں سے پہلے اردو کی کتابیں ہٹائی گئی اور اب ان اداروں سے اردو سبجیکٹ کو بھی اسکولوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ اردو اسکولوں کو مکمل طور پر ہندی اسکولوں میں تبدیل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں اردو طلباء کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اردو اساتذہ، لکچچر اور پروفیسر کی تعداد بھی گنتی کی رہ گئی ہے ۔اردو کے بے شمار مشہور و مقبول میگزین اور پرچے اردو والوں کی عدم محبت اور بے توجہی کی بنیاد پر بند کر دیے گئے ۔کیوں کہ ان کی خریدنے والوں کی تعداد اور قدر دانوں کی کمی ہوتی گئی ۔ آج کے اردو اخبارات کا بھی وہی حال ہے یہ بھی لوگوں کی بے توجہی کا شکار ہیں ۔ اخبارات خرید کر پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ میرا ایک بھائی بینگلور میں رہتا ہے ۔ جھاڑو پوچھا کرنے والی ایک مقامی خاتون ہر صبح مقامی زبان کے دو اخبار لئے اس کے گھر آتی۔ باتوں باتوں میں ایک روز پتا چلا کہ وہ خاتون ان پڑھ ہے ۔ بھائی نے پوچھا کہ تم پڑھ نہیں پاتے ہو تو اخبار کیوں لیتے ہو ۔ جواب ملا صاحب اگر میں اخبار نہیں خریدوں گی تو اخبار چلے گا کیسے اور میں نہیں چاہتی کہ ہماری زبان کے اخبارات بند ہو جائیں ۔ اس کے بر عکس اردو والوں کا حال یہ ہے کہ جو اردو کی کمائی کھاتے ہیں جو اردو کے نام پر موٹی تنخواہ یا پینشن اٹھاتے ہیں انہیں بھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اردو کا کوئی پرچہ یا اخبار خرید سکیں ۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو اخبار و رسالے کوئی پڑھتا نہیں گھر والوں میں سے پڑھنے والے کوئی نہیں ہیں پھر اخبار یا پرچے کیوں لیے جائیں ۔جنہوں نے ہمیں اردو کے حروف اور قرآن کا تعلق بتایا تھا ان ہی لوگوں نے ایک سازش کے تحت یہ بھی بتایا کہ اردو زبان صرف مسلمانوں کی زبان نہیں۔ زبان مذہب کا محتاج نہیں ہوتا کسی فرقہ سے یا مذہب سے زبان کو جوڑنا جہالت کی علامت ہے اور یقین جانیے مسلمان اس سازش کے شکار ہوگئے اور یہ شور کرتے رہے کہ اردو عالمی زبان ہے۔ ہر گھر سے اردو کا جنازہ نکلا ہے کیونکہ اردو زبان پر صرف غیروں نے نہیں بلکہ اہلِ حروف نے بھی ستم کیے ہیں اور اس لئے یہ ہندوستان کی سب سے قابل رحم شئے ہے۔ آج عالمی یوم اردو کے موقع پر ملک کے بے شمار خطوں میں جشن اردو کا اہتمام ہوگا ۔ ہونا بھی چاہیے لیکن ہر محفل میں اردو زبان کی سابقہ وقار کی بحالی، اردو کی ترقی ، اردو اداروں کی بقاء ، اردو اخبارات اور رسالوں کی تعمیر و ترقی پر نہ صرف بات ہو بلکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔ عالمی یوم اردو کے موقع پر اردو زبان کے لڑکھڑاتے قدم لرزتے وقار اور سسکتی روح یہی فریاد کر رہی ہے۔
(رابطہ۔8340349807)
<[email protected]