عالمی موسمیاتی تنظیم کاانکشاف | 1970سے آفات میں 20لاکھ اموات

یواین آئی

 

واشنگٹن//ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق 1970 سے 2021 کے درمیان 11 ہزار 778 قدرتی آفات کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان قدرتی آفات کے نتیجے میں معاشی اعتبار سے تقریباً 43 کھرب ڈالر کا نقصان بھی ہوچکا ہے ، یہ اعداد و شمار ڈبلیو ایم او کے ‘موسم، آب و ہوا اور پانی سے اموات اور اقتصادی نقصانات کے اٹلس’ کا حصہ ہیں۔دنیا بھر میں 90 فیصد سے زیادہ اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں، ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے موسم، آب و ہوا اور پانی سے جڑی قدرتی آفات کے نتیجے میں 60 فیصد سے زیادہ معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ۔

 

کسی قدرت آفت کے نتیجے میں کسی ملک کے جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے زیادہ معاشی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔صرف امریکہ کو 17 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا جوکہ 51 برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے معاشی نقصانات کا 39 فیصد ہے ، زیادہ تر رپورٹ شدہ معاشی نقصانات طوفان اور بالخصوص ٹراپکل سائیکلون کے نتیجے میں ہوئے ۔تاہم کم ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ریاستوں کو اپنی معیشتوں کے حجم کے حوالے سے غیر متناسب طور پر زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ایشیا میں موسم، آب و ہوا اور پانی کی وجہ سے 3 ہزار 612 آفات کی اطلاع ملی، جس میں 9 لاکھ 84 ہزار 263 اموات اور 14 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والی تمام اموات میں سے 47 فیصد یہیں رپورٹ ہوئیں۔ٹراپکل سائیکلون نرگس مئی 2008 میں میانمار سے ٹکرایا تھا اور ایک لاکھ 38 ہزار 366 اموات کا باعث بنا، بنگلہ دیش میں 281 واقعات کی وجہ سے 5 لاکھ 20 ہزار 758 اموات ہوئیں جوکہ ایشیا میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔یورپ میں ایک ہزار 784 آفات کے نتیجے میں ایک لاکھ 66 ہزار 492 اموات ہوئیں اور 562 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ شدہ اموات میں سے 8 فیصد یورپ میں ہوئیں۔جنوبی امریکہ میں موسم، آب و ہوا اور پانی کی وجہ سے 943 آفات آئیں، جن میں سے 61 فیصد سیلاب کے سبب ہوئیں اس کے نتیجے میں 58 ہزار 484 اموات ہوئیں اور 115 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔شمالی امریکہ، وسطی امریکہ اور کیریبین میں 2 ہزار 107 قدرتی آفات آئیں جن کے نتیجے میں 77 ہزار 454 اموات اور 2 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، 1970 اور 2021 کے درمیان دنیا بھر میں رپورٹ کردہ 46 فیصد اقتصادی نقصانات کا تعلق ان ہی علاقوں سے تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبل از وقت انتباہات جاری کیے جانے کے نظام میں بہتری اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی مربوط کوششوں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران اموات کی تعداد میں کمی ممکن بنائی ہے ۔

 

رپورٹ کے مطابق 2020 اور 2021 میں اموات کی تعداد (مجموعی طور پر 22 ہزار 608 اموات) نے گزشتہ دہائی کی سالانہ اوسط کے مقابلے میں اموات میں مزید کمی کا اشارہ دیا ہے ، تاہم طوفانوں کے نتیجے میں معاشی نقصانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔