عالمی برادری اقوام متحدہ کی موزونیت اور ساکھ کو بچائے | وزیراعظم کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب، نام لئے بغیرپاکستان اورچین کوکھری کھری سنائی

نیویارک// وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی موزونیت اور ساکھ پر اٹھائے گئے سوالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی نظم و نسق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے ۔ قوانین اور عالمی اقدار کو مضبوط کرنا ہو گا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے اس اعلیٰ ادارے کی بگڑتی ہوئی ساکھ پر انتہائی بے لاگ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا "اگر اقوام متحدہ کو خود کو متعلقہ بنائے رکھنا ہے تو اسے اپنی فعالیت کو بہتر بنانا ہوگا ، اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ آج اقوام متحدہ پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہم نے یہ سوالات کووڈ کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے بحران میں دیکھے ہیں۔ وزیر اعظم نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ جو ملک دہشت گردی کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کررہے ہیں ، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی ان کیلئے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔ موی نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال دہشت گردی کو پھیلانے کیلئے نہیں ہو یا پھر وہاں دہشت گردانہ واقعات نہ ہوں۔ ہمیں اس بات کیلئے بھی محتاط رہنا ہوگا کہ وہاں کی نازک صورتحال کا کوئی ملک اپنے مفاد کیلئے ٹول کی طرح استعمال نہ کرے۔وزیر اعظم مودی نے چین پر بھی اشاروں ہی اشاروں میں زوردار حملہ کیا۔ سمندر کے ذریعہ کاروبار کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سمندر ہماری مشترکہ وراثت ہے ، اس لئے ہمیں دھیان رکھنا ہوگا کہ سمندر کے وسائل کا استعمال کریں ، اس کو غلط استعمال نہ کریں۔ سمندر بین الاقوامی کاروبار کی لائف لائن ہے اور اس سے توسی پسندی کی لڑائی سے بچنا ہوگا۔ اس کو بچانے کیلئے اقوام متحدہ قوانین کے مطابق بین الاقوامی برادری کو آواز اٹھانی ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ کی ابتدا کے حوالہ سے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ کو لیکر اور کاروبار میں آسانی کی درجہ بندی کے تناظر میں کئی عالمی اداروں نے کئی دہائیوں کی محنت پر قائم ان کی ساکھ کو ختم کیا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم عالمی نظم و نسق ، عالمی قوانین اور عالمی اقدار کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کو مضبوط کریں۔
 
 
 

ہند،امریکہ تعلقات کی تاریخ میں نئے باب کا آغاز | مودی کی صدر بائیڈن کے ساتھ میٹنگ

واشنگٹن// امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان اور امریکہ دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں نیا باب شروع کر رہے ہیں۔مسٹر بائیڈن نے کہا، "ہندوستان اور امریکہ کے قریبی اور مضبوط تعلقات سے پوری دنیا کو فائدہ ہوسکتا ہے اور میرے خیال میں ایسا ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ آج ہم امریکہ ہندوستان تعلقات کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے طویل عرصے سے یقین ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کئی عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے ہند امریکہ شراکت کے پانچ ستونوں کی شکل میں 'فائیو-ٹی'-ٹریڈیشن ، ٹیلنٹ ، ٹکنالوجی ، ٹریڈ اور ٹرسٹی شپ کو نمایاں کیا ہے ۔مسٹر مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اپنی پہلی دوطرفہ میٹنگ میں ہند امریکہ شراکت داری کے اہم ستونوں کو ‘فائیو ٹی’ کی شکل میں نمایاں کیا ۔وزیراعظم نے ہندی میں دی گئی اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ 2014 اور 2016 میں پہلے کی میٹنگ میں انہیں تفصیل سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے کہا، صدر محترم ، اس وقت آپ نے ہند امریکہ تعلقات کے لیے ایک جامع اور وسیع نقطہ نظرپیش کیاتھا اور وہ متاثر کن اور دور اندیشی تھی۔