عالمی ادارہ صحت کی تمباکو کنٹرول پالیسی جموں و کشمیر میںنافذ کرنے کیلئے11ممبران کی بااختیار کمیٹی قائم

 پرویز احمد

سرینگر//جموں و کشمیر کی حکومت نے تمباکو کنٹرول پر عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن کے آرٹیکل 5.3 کے نفاذ کی نگرانی کے لیے محکمہ صحت اور طبی تعلیم کے انتظامی سیکرٹری کی سربراہی میں ایک بااختیار کمیٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ سرکار کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو کے استعمال پر روک لگانے کیلئے 11ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی پالیسی کے تحت کسی بھی ملک کی سرکار تمباکو کے اشتہارات اور تمباکو صنعت کے مفادخصوصی عناصر کو روکنے کیلئے تمباکو بنانے والی کمپنیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

 

حکم نامہ کے تحت جموں و کشمیر میں عالمی ادارہ صحت کی پالیسی کے قوائد و ضوابط کو صحیح معنوں میں لاگو کیا جائیگا۔ کمیٹی میں ایڈمنسٹریٹیو سیکریٹری ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی صدارت میں کام کرنے والی کمیٹی میںمشن ڈائریکٹر این ایچ ایم ، کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن، کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری فائنانس، ایڈیشنل سیکریٹری مکانات و شہری ترقی، ایڈیشنل سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس اور نوڈل آفیسر نیشنل تمباکو کنٹرول پروگرام کو بطور ممبر کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹیو سیکریٹری نیشنل ہیلتھ مشن، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر اور جموں کو تمباکو صنعت سے وابستہ افراد کی نمائندگی کی درخواست وصول کرنے کیلئے بطور نوڈل آفیسر تعینات کیا گیا ہے۔ مذکورہ افسران اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ ان کی درخواست کو قبول کیا جائے یا نہیں۔حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران دیگر ممبران سے ملکر اس بات کا بھی فیصلہ کریں گے کہ تمباکو صنعت کے لوگوں سے ملنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ ۔