عازمین کو مناب جگہ نہ ملی ، سم کارڑ بھی بے کار

سرینگر// جموں وکشمیر سٹیٹ جج کمیٹی کی جانب سے ریاست کے عازمین جج کو فراہم کئے گے سم کارڈ ابھی تک قابل استعمال نہیں بنے ہیں جس کے نتیجے میںیہ عازمین مدینہ منورہ سے اپنے عزیز اقارب کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کر پا رہے ہیں ۔اس دوران مدینہ منورہ سے عازمین حج نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ وہاں پہنچنے پر مدینہ میں انہیں جگہ کی فراہمی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ جموں وکشمیر سٹیٹ جج کمیٹی بمنہ کی ویب سائٹ پر دئے گے فون نمبرات بھی خراب حالت میں پڑے ہیں ۔عازمین کے راشتہ داروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ عازمین کو اس غرض سے یہاں سے سم کارڈ فراہم کئے گئے تھے تاکہ وہ اپنے عزیز واقارب کے ساتھ  مدینہ سے رابطہ قائم کر سکیں لیکن 7 دن گذرنے کے باوجود بھی عازمین کو فراہم کئے گے سم کارڈ قابل استعمال نہیں ہوپائے ۔انہوں نے بتایا کہ عازمین حج نے مدینہ سے ہی مہنگے داموں پر سم کارڈ اور موبائل فون خریدے ہیں جبکہ یہاں سے فراہم کئے گے سم کارڈوں کا عازمین کو کوئی بھی فائدہ نہیں ملا ہے ۔اس دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جموں وکشمیر سٹیٹ حج کمیٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب لینڈ لائن فون نمبرات جن میں  0194-2495365 اور 0194-249536شامل ہیں بے کار پڑے ہیں جبکہ ویب سائٹ پر دیا گیا موبائل فون زیر نمبر  9622458332 بھی اکثر بند رہتا ہے جس سے عازمین حج اور ان کے عزیز واقارب کو حج ہاوس بمنہ کے اعلیٰ افسران اور ممبران کے ساتھ بات کرنے میں سخت دقتیں پیش آتی ہیں ۔کشمیر عظمیٰ کے آفس پر آئے وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 25جولائی سے اب تک یہاں سے مدینہ کیلئے چار ہزار کے قریب عازمین جج مدینہ کیلئے روانہ ہوئے ہیں جہاں انہیں پہلے دن رہائش کے حوالے سے سخت دقتوں کا سامنا رہا ہے ۔ عازمین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں پہلے دن رہائش کیلئے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور دوسرے دن انہیں رہائش کا بندوبست ہوا۔اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے جب چیف ایگزیکٹو افسر قمر سجاد  سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے یہ سم کارڈ نیک نیتی کے ساتھ عازمین حج کو فراہم کئے تھے تاکہ وہ اُن کا فائدہ اٹھا سکیں ۔انہوں نے کہا کہ جج کمیٹی آف انڈیا نے یہ سم کارڈ جدا شریف سے لائے تھے جس کے بعد انہوں نے ریاستی حج کمیٹی کو بھی اپنا حصہ فراہم کیا اور ان کی معیاد 2018تک ہے۔ ،انہوں نے کہا کہ ان کو استعمال کرنے کی جانکاری حاجی صاحبان کو فراہم کی گئی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ اُن کو کیسے استعمال میں لانا ہے لیکن جن لوگوں کے سم کارڈ قابل استعمال ہوئے ہیں انہوں نے ری چارج ہی نہیں کرایا جبکہ جن کے سم کاراActivateنہیں ہوئے انہوں نے مکمل ڈاکومنٹ وہاں پیش نہیں کئے ۔عازمین کو رہائشی سہولیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی عازم نہیں ہے جس کو وہاں جگہ فراہم نہ کی گئی ہو ۔انہوں نے کہا کہ یہاں سے جو بھی عازمین وہاں جاتے ہیں اُن کیلئے پہلے ہی وہاں سہولیات کا بندبست کیا جاتا ہے ۔تاہم لمبے سفر کی وجہ سے انہیں دقتوں کا سامنا رہتا ہے ۔محکمہ کی ویب سائٹوں پر فون نمبرات کے خراب رہنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے تمام ملازمین پچھلے دس دن سے رات دن کام کر رہے ہیں اور ویب سائٹ پر جس ملازم کا نمبر دیا گیا ہے وہ ایک عازم کا ویزہ لانے بیرون ریاست گیا ہوا ہے ۔