ظاہر میں آزادی، باطن میں گرفتاری

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے 
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے 
فیمزم کی feminism اصطلاح ١٨٨۰کے آخر میں سب سے پہلے ہبرٹائن Huber Tain آکلرٹ نامی ایک خاتون نے سماج پر مرد حضرات کے خاتمے کے خلاف اور خواتین کے ان حقوق و اختیارات کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کی ۔ ستمبر 1994میں قاہرہ میں UNO یو این او کی طرف سے ایک یہود آبادی کانفرنس منعقد ہوئی، جنسی بے راہ روی اور بکار کلچیر رائج کرنے کی کوشش کی گئی۔جس کا خصوصی نشانہ مسلم ممالک تھے ۔ستمبر ١٩٩٥ میں بیجنگ چین میں خواتین کی ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد ہوئی ۔جو یو این او کی طرف سے عورتوں کی تیسری بڑی عالمی کانفرنس تھی ۔اسکے بعد بھی اور بھی بہت سے پروگرامات منعقد ہوئے ۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز یں بلند ہونے لگیں ۔ اس دور کو تانیثیت کی پہلی لہر First wave feminism کہا گیا ہے۔ عورتوں کو مردوں کے برابر تنخواہ دینے کی مانگ شروع ہوئی۔ خاندان اور سماج میں عورت کی حیثیت، شادی بیاہ میں اس کی مرضی، جائیداد میں اس کا حق، بچوں پر اس کا اختیاروغیرہ موضوعات پر بحث و مباحث کا سلسلہ دراز ہوا۔فیمزم تحریک کی فکر کا بنیادی عنصر سماج میں مردوں کے غلبہ کے خلاف جدوجہد ہے یہ تحریک خواتین کے قانونی سیاسی اور معاشی حقوق کے حصول کی خاطر برپا ہوئی۔پھر بہت سے موضوعات اس کے دائرے میں آئے عورت کے لئے ملکیت کا حق نوکریوں میں یکساں مواقع، جنسی تشدد سے تحفظ، سیاسی انتخابات میں ووٹ کا حق۔طلاق کا اختیار، شادی کی لازمیت کا خاتمہ ہم جنسی کجروی کی آزادی۔جبکہ اسلام نے عورت کو قید نہیں آزاد کیا ہے۔اسلام نے بری نظروں سے ہوس پرستوں سے عورت کو بچا کر محفوظ کیا اور عزت مرتبہ,بلندی والا مقام عطا کیا۔ اسلام نے عورت کو حدود میں رہتے ہوئے معاشرے کیلئےکارآمد بنایا،جبکہ مغرب نے عورت کو نمائش اور چارہ بنایا ۔اسلام صرف تربیت کی بنیاد پر آزادی دیتا ہے جبکہ مغرب جسم کی نمائش کی بنیاد پر آزادی دیتا ہے ۔
Shulamith Firestone جو انتہا پسند تانیثیت(Radical Feminism) کی ایک اہم رکن تھی۔ انہوں نے The Dielectic of Sex (1970) کتاب لکھی۔ انہوں نے اس کتاب میں مارکس اور اینگلز کے کلاس فری (class free) سماج کے نظریات کا دوبارہ جائزہ لیا اور یہ کہا کہ انہوں نے sex class پر کوئی توجہ نہیں دی۔’’شولامت نے تاریخی جدلیت کو تانیثی نقطہ نگاہ سے دیکھا اور مطالعے میں معاشیات کو اہم قرار دینے کے بجائے جنس کو اہم قرار دیا۔‘تانیثی تحریک کی اہم خاتون A Room Of One’s Own کی مصنفہ ورجینا وولف کے مطابق انسانی تاریخ نے عورت کو وہ موقع ہی فراہم نہیں کئے کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتی۔ وہ لکھتی ہیں :’’اگر شیکسپئیر کی کوئی بہن ہوتی اور وہ بھی اسی طرح ذہین اور شعر وادب کا ذوق بھی رکھتی، تب بھی وہ شیکسپئیرنہیں بن سکتی تھی کیونکہ اس کے لیے کسی بھی لاطینی اسکول کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، جس کا عظیم مگر ناکردہ گناہ یہ ہوتا کہ وہ عورت ہوتی۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ پتہ چلتا کہ سمیریوں میں عورت ذات کے لئے کوئی جذبہ تقدس اور احترام نہ تھا۔وہاں عورت پر سب سے بڑا ظلم جنسی تعلق کے حوالے سے کیا جاتا ہے ۔اور وہ یہ کہ شادی سے قبل عورت پر انتہائی حیرت انگیز اور بڑا ظلم یہ تھا کہ کسی بھی لڑکی کو اس وقت تک قانوناً شادی کرنے کی اجازت نہ تھی جب تک کہ وہ کسی غیر مرد سے اپنی عصمت کو نہ لٹاتی بدکاری کا عمل ایک مستقل عادت اور قانون بن چکا تھا ۔علامہ اقبال ؒ نے کس طرح اس بارے میں یہاں پیش کیا ۔ ؎
ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!
مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں
فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!
کہ مرد سادہ ہے بے چارہ زن شناس نہیں
اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے ليے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کاکام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس ليے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے ليے بہتر کیا ہے۔ اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا۔
رابطہ۔ پلوامہ