ظالمانہ اور رجعت پسند پالیساں

سرینگر//فاروق عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس کی ظالمانہ اور رجعت پسند پالیسوں کو موجودہ حالات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر اور ریاستی وزیر نعیم احمد اختر نے ڈاکٹر فاروق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے مشکلات اور مصائب کا مذاق اڑا رہے ہیں۔نعیم اختر نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق نے نہ صرف کشمیریوں پر مشکلات اور مصائب ڈھائے بلکہ بندوق اور گولی کی وکالت کرکے برصغیر کے سیاسی حالات کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبداللہ اس قوم اور کشمیری عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں اور صرف دو سالہ پارلیمنٹ ممبری کیلئے وہ کشمیری نوجوانوں کو اُسی ملک کے خلاف تشدد کرنے پر اُکسا رہے ہیں جس ملک کی پارلیمنٹ کے وہ ممبر بننا چاہتے ہیں۔اُن مسائل کا جن سے ہماری ریاست اس وقت جھوج رہی ہے،کا ذکر کرتے ہوئے نعیم اختر نے کہا کہ طرفداری کی سیاست کرنے کے بجائے فاروق صاحب کو اس وقت تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے تھا ،لیکن زندگی کے اس موڑ پر وہ ایسی سیاست کر رہے ہیںجو ریاست کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔اختر نے کہا’’عبداللہ خاندان کی تاریخ رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دوغلی زبان بولی ہے،ایک طرف وہ عام لوگوں کو پاکستان سے ملنے او ررائے شماری کرانے کی بات کرتے تھے اور دوسری طرف اقتدار حاصل کرنے کیلئے دلی کے چکر لگاتے رہے ‘‘۔نیشنل کانفرنس کی طرف عوامی اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچانے اور دھوکہ دینے کا ذکر کرتے ہوئے نعیم اختر نے کہا کہ این سی گزشتہ 90 سال سے ریاست کی سیاست کی مالک رہی  اور تقریباً60سال سے کانگریس کے ساتھ اتحاد میں ہیں لیکن شائد بڑی مشکل سے کسی ایسے کام کی کوئی  مثال ملے گی جسے اس جماعت کی کامیابیوںمیں شمار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں ہمیشہ ظلم اور استحصال ہوا ہے اور اس جماعت نے ضرورت نہ ہونے کے باجود بھی اپنے خاندان کے مفادات کو بچانے کیلئے ملک کی تمام اہم جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔نیشنل کانفرنس کو مصائب اور مشکلات کی جڑ قرار دیتے ہوئے سنیئر پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ ایس او جی ،اخوان ،پکڑو اور مارو کی پالیسوں کے خالق فاروق عبداللہ ہی ہیں ۔انہوں نے کہا’’جب مرکزی حکومت نے رمضان فائر بندی کا اعلان کیا تو فاروق عبداللہ کے ڈی جی پی نے کہا کہ یہ اعلان جموں وکشمیر پولیس پر لاگو نہیں ہوتا اور وہ ملی ٹنٹوں کے خلاف اپنے آپریشن کو جاری رکھیں گے۔‘‘نعیم اختر نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس ابھی بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے عوام کو سادہ لوح سمجھ رہی ہے لیکن حقیت یہ ہے اب لوگ ہوشیار اور خبردار ہوچکے ہیں این سی کی چالبازیوں کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’فاروق عبداللہ کا یہ قول مشہور ہے جب انہوں کہا کہ جیلوں میں اب جگہ نہیں ہے اس لئے انہوں نے آفیسران کو ہدایات دی ہیں کہ وہ پکڑو اور مارو کی پالیسی اختیار کریں ۔‘‘