طلبا کی کُتب دوستی کے فوائد!

آپ نے یہ بات تو سُنی ہوگی کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ سائنسی تحقیق کی روشنی میں بھی یہ بات درست ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، امریکا میں ایک گھر میں اوسطاً 114کتابیں موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایک گھر میں 114کتابیں ہر لحاظ سے ایک اچھا عدد ہے۔ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کتابیں، نوعمری میں بچوں کی خواندگی، روانی سے پڑھنے کی صلاحیت (رِیڈنگ)، ہندسوں کے علم، اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی (ICT)کے ہنر کو کس طرح بڑھاتی ہیں۔ 
اس سلسلے میں محققین نےپانچ سال تک 31ملکوں کے1لاکھ 60ہزار نوجوانوں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق میں نوجوانوں سے سوال کیا گیا کہ، ’جب آپ 16سال کے تھے، اس وقت آپ کے گھر میں اندازاً کتنی کتابیں موجود تھیں‘؟ (ان کتابوں میں نصابی کتب شامل نہیں ہیں اور ایک میٹر کے شیلف میں تقریباً40کتابیں رکھی جاسکتی ہیں)۔
تحقیق میں ماہرین اس نتیجے میں پہنچے کہ جس گھر میں 80یا اس سے زائد کتابیں موجود ہوں، وہاں بچے اور نوجوان روانی سے پڑھنے کی صلاحیت، ہندسوں کے علم اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے ہنر میں ان نوجوانوں سے آگے ہوتے ہیں، جن کے گھر پر کتابیں نہیں ہوتیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ، ’وہ بچے جو ہوم لائبریریوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں، انھیں متذکرہ بالا شعبوں میں والدین کی تعلیم، روایتی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت کے مقابلے میں زیادہ سیکھنے کو ملتا ہے‘۔
تحقیق میں کتابوں کی طاقت کے فرق کو انتہائی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے: جن گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، وہاں کے ہائی اسکول سطح کے بچے پڑھنے، ریاضی اور آئی سی ٹی کے میدان میں ان گریجویٹ نوجوانوں کے برابر علم اور صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں، جنھیں زندگی میں بہت کم یا نہ پڑھنے کے برابر کتابیں پڑھنے کو ملی ہوں۔
تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر جوئینا سیکورا کا تعلق آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’ہم نے دیکھا کہ جس گھر میں 80 سے 350 کتابیں تھیں، وہاں بچے پڑھنے، ہندسوں کی پہچان اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ باصلاحیت تھے۔ 350سے زائد کتابوں کا اضافی فرق دیکھنے میں نہیں آیا‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ والدین جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو گھر کی لائبریری سے ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ فائدے پہنچیں، وہ گھر میں350 کتابیں ضرور رکھیں۔
بڑی لائبریری سے کیا مراد ہے؟ :
اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ دنیا کے کس خطے کے رہنے والے ہیں۔ اسکینڈےنیویائی گھروں میں سب سے زیادہ کتابیں پائی گئیں۔ ناروے کے 14فیصد اور سویڈن کے 13فیصد گھروں میں 500یا اس سے زائد کتابیں موجود تھیں۔ تاہم کچھ ملک ایسے ہیں، جہاں گھروں میں کتابوں کی اوسط تعداد 80سے کم تھی، ایسے ملکوں میں چلی، مصر، اٹلی، سنگاپور اور ترکی شامل ہیں۔ ترکی میں ایک گھر میں اوسطاً 27 کتابیں، برطانیہ میں ایک گھر میں اوسطاً143کتابیں اور ایستونیا میں اوسطاً 218کتابیں موجود تھیں۔
ڈیجیٹل میڈیا کے اثرات :۔
ایک مناسب سوال ڈیجیٹل کتابوں میں اضافے کے اثرات سے متعلق ہوسکتا ہے۔ تاہم، تحقیق میں ڈیجیٹل کی اہمیت کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ’اگر موجودہ وقت کی بات کریں تو یہ کہنا کہ اشاعتی کتابیں ماضی کا قصہ بن چکی ہیں، تو ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا‘۔ اس سلسلے میں محققین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی ڈیجیٹل لائبریریاں، اس وقت دنیا کی بڑی پیپر لائبریریوں کے برابر ہیں۔ ’ہم نے تحقیق میں دیکھا کہ جن گھروں میں ڈیجیٹل خواندگی زیادہ پائی جاتی ہے، وہاں لائبریری میں موجود کتابوں کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ تھی۔ ڈیجیٹل اپنی جگہ لیکن کاغذی کتابوں کا اثر آنے والے وقتوں میں بھی برقرار رہے گا‘۔
ہوم لائبریری کیوں فائدہ مند ہے؟:
محققین اس کی دو وجوہات بیان کرتے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ کم عمری میں کتابوں سے متعارف ہونے کے باعث بچوں میں علم دوستی اور سیکھنےکا رجحان پروان چڑھتا ہے اور ان میں طویل مدتی ذہانت مندانہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ صلاحیتیں انھیں اسکول کی روایتی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے معرکے سر کرنے میں مددگار اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔
80کتابوں کی قیمت ایک سال کے ٹیوشن سے کم :
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ، ’وہ یونیورسٹی گریجویٹس جن کے گھروں میں بمشکل ہی کوئی کتاب موجود تھی، ان میں خواندگی کی اوسط سطح دیکھی گئی‘، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گھر میں بچوں کو کتابوں میں گھیرے رکھنا ان کے مستقبل میں بہترین سرمایہ کاری ہے۔ ’اس لیے، خواندگی کے لحاظ سے، کتابی بچوں کو تعلیم کے میدان میں یہ ایک بڑا فائدہ ملتا ہے۔ ہوم لائبریری کا اثر ایسا ہے جیسے بچوں نے کئی سال کی اضافی تعلیم حاصل کی ہو۔تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو کالج اور یونیورسٹی تک کی تعلیم دِلوانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اعلیٰ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی گھر میں کتابی ماحول فراہم کریں، کیونکہ اس سے تعلیمی زندگی کے علاوہ کیریئر میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔