طلاق ثلاثہ پر پابندی

 نئی دہلی // طلاق ثلاثہ پرپابندی سے متعلق بل کے مسودے کومنظوری دیتے ہوئے مرکزی کابینہ نے متنازعہ بل کو پارلیمان کے رواں سرمائی اجلاس میں پیش کرنے پر اصولی طور اتفاق کرلیا۔مرکزی کابینہ نے جمعہ کے روزایک اہم فیصلے میں متنازعہ ’طلاق ثلاثہ‘ پرپابندی لگانے سے متعلق بل کے مسودے کو منظور ی دے دی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں کابینہ نے اس بل کو منظوری دی ہے جسے پارلیمنٹ کے اجلاس سرما میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ خیال رہے سرمائی اجلاس کا آغاز جمعہ سے ہوچکا ہے۔ غورطلب ہے کہ سپریم کورٹ نے اسی سال اگست کے مہینے میں اپنے ایک فیصلے میں ایک ساتھ تین طلاق دینے کے طریقے کو غیر اسلامی اور غیر آئینی قرار دے کراس پر پابندی لگادی تھی۔عدالت عظمی کا یہ فیصلہ اسلام، ہندئوازم، مسیحیت ، سکھ ازم اور مجوسی عقائد سے تعلق رکھنے والے پانچ ججوں کی ایک مجلس نے سنایا تھا۔ مرکزی حکومت ہند نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو عمل میں لانے کیلئے قانون سازی کرے گی کیونکہ عدالتی فیصلے کے بعد بھی اس طرح طلاق دینے کا یہ تکلیف دہ سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ویسے بھی مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے کہا کہ حکومت مسلم خواتین کو ان کا حق دلانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ سیاست نہیں بلکہ انسانیت ہے اور انسانی حقوق سے منسلک موضوع ہے۔سبھی پارٹیوں کو تین طلاق سے منسلک بل کو پاس کرانے میں تعاون کرنا چاہئے۔طلاق سے منسلک بل کو پارلیمنٹ کے رواں سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔اس میں تین طلاق کو قابل سزا جرم بناتے ہوئے تین سال کی قید کا التزام کیا گیا ہے۔