طلاق ثلاثہ پر آرڈیننس کی منظوری غیر دستوری

 حیدرآباد//ڈاکٹر اسماء زہرہ صدر ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے تین طلاق پر عجلت میں آرڈیننس کو منظورکرناغیر دستوری،عصبیت و عداوت پر مبنی اقلیت کے خلاف سیاسی چال ہے ۔تین طلاق دینے والے شوہر کو تعزیرات ہند کے تحت سزاء کامستحق قراردینا سراسر غیر انسانی اور ظالمانہ اقدام ہے ۔ حکومت نے تین طلاق کے خلاف قانون سازی کے وقت اسلامی اسکالرس اور مذہبی قائدین و دانشوروں سے مشورہ کرکے نہ اعتماد میں لیا اور نہ ہی ممبران پارلیمنٹ کو تفصیلی بحث کیلئے موقع دیا گیا ۔حکومت کو راجیہ سبھا میں اس بل کو منظور کروانے میں بری طرح ناکامی کا سامناکرنا پڑا۔اپوزیشن جماعتوں نے اس غیر دستوری عائلی قانون کی زبردست مخالفت کی۔ڈاکٹر اسماء زہرہ نے حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے اپنے ہندو ووٹرس کو خوش کرنے کیلئے مسلم خواتین کی ہمدردی کا لغؤو جھوٹا پروپگنڈہ کر تے ہوئے یہ بارآور کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ مسلم شوہروں کی زیادتیوں سے بچانے کیلئے یہ بل انتہائی موضوع او رطاقتور ہے ۔بل میں شوہر کو تین سال کی سزاء متعین کی گئی۔ جس سے خاندان معاشی طورپر تباہ ہوجائیگا۔اور اس سے بیوی ،بچوں کوسوائے نہ ختم ہونے والے مشکلات و مصائب کے کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔تین طلاق آرڈیننس مسلم پرسنل لاء میں راست مداخلت ہے اور دستور میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے ۔مسلمانوں نے مسلم پرسنل لاء کی تائید میں 5کروڑ سے زیادہ اپنے دستخطیں ثبت کرکے لاء کمیشن کو یادداشت، پیش کیں اور 250 سے زیادہ ملک کے طول وعرض میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ،جس میں دو کروڑ سے زیادہ مسلم خواتین نے شرکت کیں۔ عالمی سطح پر عورتوں کے تحفظ و حقوق کے معاملے میں ہندوستان 136ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے ۔گذشتہ دو سالوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ملک میں ریپ کے کیس ہوئے اور 3800 3سے زیادہ واقعات خواتین کے خلا ف ہوئے ہیں۔ ۔ دنیا میں کی جانے والی خودکشی معاملے میں40 فیصد ہندوستانی خواتین شامل ہیں۔بین طبقاتی شادیوں میں سینکڑوں معصوم مرد وعورتوں کے دردناک قتل ہورہے ہیں جس کا جواب آرایس ایس اور بی جے پی حکومت کے پاس کچھ نہیں۔اسکے ساتھ نوٹ بندی،اورجی ایس ٹی سے ملک کی معیشت تباہ ہوئی ہے ۔ کسانوں کی خستہ حالی اورکروڑوں نوجوانوں کی بیروز گاری جیسے مسائل کی پردہ پوشی کرنے کیلئے تین طلاق آرڈیننس عجلت میں پاس کیا گیا۔ ملک کی عورتیں اپنی عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے سخت پریشان ہیں۔ ایسے وقت آرڈیننس کا منظور کرنا بی جے پی حکومت کی ہر سطح پر بری طرح ناکامی کا کھلا ثبوت ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرح اقلیت دشمن جماعتوں کو معلوم ہونا چاہئیے کہ اسطرح سے حکومت کی طاقت کا یہ ناجائز استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کو مسلمان بالخصوص خواتین کبھی تسلیم نہیں کریں گی اور نہ ہی شریعت سے انکا اپنا اٹوٹ رشتہ کبھی ٹوٹ سکتا ہے ۔مسلم عورتیں شریعت اسلامی کواپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھتیں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہیکہ اس طرح کے کالے آرڈیننس کوفوری واپس لے یا معطل کردے ۔یواین آئی