طلاق ثلاثہ اور بغیر محرم حج کیلئے 1300نشستیں ، بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی پالیسی:گیلانی

سرینگر//رابطہ عالم اسلامی کے سابق ممبر اور چیرمین حریت سید علی گیلانی نے بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے تین طلاق دینے کے معاملے کو قابل سزا جُرم قرار دینے اور بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے مسلم خواتین کو بغیر محرم حج یا عمرہ کرنے کے اعلان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے اسلامی قوانین کو بدل ڈالنے کارروائی صریحاً مداخلت فی الدین ہے، جو کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ حریت راہنما نے کہا کہ دراصل بھارت کی موجودہ حکومت بھارت کو بڑی برق رفتاری کے ساتھ ایک ہندو راشٹریہ بنائے جانے کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور اس ضمن میں وہ سب سے پہلے دین اسلام کی بنیادوں کو اکھیؑڑنے کے درپے ہونا چاہتا ہے، جوکہ قطعی طور پر ناممکن العمل ہے۔ اس کے بعد دوسری تمام اقلیتوں کو ہندوازم میں ضم کرنے کے خاکوں میں رنگ بھر دینا بھارت ایک آسان عمل سمجھتا ہے۔ حریت راہنما نے بھارت کی طرف سے اسلام جیسے آفاقی دین پر نشانہ سادھنے کی دوسری اہم وجہ عالمی سطح کے ساتھ ساتھ خود بھارت میں نوجوان نسل میں دین اسلام کی مقبولیت میں آئے روز بڑھتا ہوا رحجان ہے جس نے بھارت کی موجودہ حکومت میں شامل فرقہ پرست جماعتوں آر ایس ایس، شیو سینا اور بی جے پی کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ حریت راہنما نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی (OIC)کے معزز ارکان ممالک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کی طرف سے اسلام کے حیات بخش قوانین میں ردوبدل کرنے کی کارروائیوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے دینِ مبین کے خلاف ہورہی گھناؤنی سازشوں کو طشت ازبام کرنے کا فریضہ انجام دیں۔ حریت راہنما نے عالم اسلام کے جید علمائے کرام اور مجتہدین سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بعض فقہی مسائل میں فروعی اختلافات کے حوالے سے ایک جامع فیصلہ ساز ادارے کا قیام عمل میں لایا جاکر متعصب غیر مسلم اسلام دشمنوں کے لیے اُن تمام کمزور دروازوں کو بند کرنے کا منظم آغاز کردیا جائے جہاں سے ایسے دین دشمن عناصر داخل ہونا آسان سمجھتے ہیں۔ حریت راہنما نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دین اسلام کے مستند الٰہی قوانین کے خلاف ایک فرقہ پرست حکومت ردّ وبدل کرنے کا بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کرتی ہے اور عالم اسلام کے مفکرین خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حریت راہنما نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین میں ردّوبدل کے کا حق نہ تو منجملہ دنیا بھر کے لوگوں کا ہے اور نہ ہی اقوامِ عالم کی سبھی حکومتوں کو ہے۔ دنیا میں اگر صرف ایک ہی مسلمان موجود ہو اُس کے لیے قرآن اور سنت کا اتباع فرض عین ہے، اگرچہ پوری دنیا اس کی مخالف بھی ہو۔