طلاق آرڈی ننس

ملکی  عدلیہ نے پہلے قوانین فطرت کے خلاف ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے دیا اور اب حکومت نے رہی سہی کسر نکالنے کے لئے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں مداخلت کرتے ہوئے تین طلاق پر تین سال کی سزا مقرر کردی ۔طرفہ تماشہ یہ کہ طلاق دینے پر طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن مسلم شوہر کو سزا ہوگئی! یہ کون سا قانون ہے؟ مزید برآں تین سالہ قید کے دروان متاثرہ عورت اور اس کے بچوں کا کیا ہوگا؟ خرچۂ نان و نفقہ کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ جب وہ جیل میں ہوگا تو یہ ذمہ داری کیسے اٹھا ئی جاسکے گی؟ تین سالہ جیل کے دوران میا ں بیوی کا تعلق رہے گا بھی ؟ بعد جب متعلقہ شخص جیل سے اپس آئے تو متاثرہ عورت اس کی بیوی ہو گی یا کچھ اور؟  بقول شاعر   ؎
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی 
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی 
جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
 پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی 
 اگر مگر کی بے جا بحث کی جا ئے یا کوئی مشورہ دیاجائے، وہ سب نا معقول ہوگامگر سوال یہ ہے کہ اگر مردتین طلاق دے ہی نہیں بلکہ  بیوی کو یونہی لٹکا ئے رکھے تو اسے جیل ہوگی اور نہ بال بیکا ہوگا۔ اس طرح حکومت کامدافعانہ اقدام کس کا؟ ازدواجی زندگی کوئی ایک دو د دن کی بات نہیں بلکہ عمروں کا رشتہ ہوتا ہے جس کی اپنی نزاکتیں ہوتی ہیں اور اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ کسی جمہوری ملک میں جب کوئی اقلیت مخالف قانون بن جائے تو اقلیت اس کے تحت مجبوراً جینا ہی سیکھ نہیںلیتی بلکہ وہ اپنا راستہ بھی نکال لیتی ہے۔ جہیز کی روک تھام سے متعلق قانون کیا آسمان سے کوئی تارے توڑ سکا جو یہ قانون کچھ چمتکار کرے۔اگر قانون ہی ایسے امراض کا علاج ہوتا تو جہیز کی رسم کب کی ختم ہوجانی چاہیے تھی مگر اکثر لڑکی والوں کو بلیک میل کرنے میں یہ شدومدسے جاری وساری ہے۔ 
اب آرڈی ننس کے اجراء کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ کو بلا سوچے سمجھے مورد الزام ٹھہرانا ،یا اسے یہ مشورے دینا کہ بورڈ اگر ایسا کرتی تو یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ ، یہ انتہائی غیر معقول اور غیر منصفانہ باتیں ہیں۔ مودی حکومت نے جب یہ ٹھانی ہوئی ہے کہ ہرحال میں اسلامی قوانین( شریعت) میں مداخلت کرکے مسلمانوں کر ہراساں وپریشان کر کے چھوڑنا ہے (جو اس نے آج تک مختلف بہانوں سے کر بھی  دکھا یا) تو یہ آفاقی حقیقت خود بخود ذہن نشین ہوتی ہے    ؎
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے اَزل سے
  ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات 
بایں ہمہ سہ طلاق آرڈی ننس کے حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کس طرح ایسی چیز طے کرسکتی جس کا راست تعلق ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مذہبی اور عائلی امور سے ہو اور جب دستور ِہندنے تمام مذاہب کو اپنے پرسنل لا ء کے تحت عائلی امور انجام دینے کی پوری پوری آزادی دی ہوئی ہو؟ بہر صورت اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ نیا آرڈی ننس مسلمانوں کے تمام مسالک اور گروہوں کی مرضی اور جذبات کے بالکل خلاف ہے۔ مسلمانوں کے شرعی قوانین میں کسی دوسرے مذہب ماننے والے کی مداخلت عقل اور عدل کے علاوہ آئین و جمہوریت سے ماوراء ہے۔ دوسری بات یہ کہ چلئے ملک کے ہی قانون کو ہی لے لیجئے ، اس کے تحت شادی بیاہ، طلاق وغیرہ کا تعلق شہری مقدمات (civil suits) سے ہے، اس سلسلے میں قانون شکنی کی سزا جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک کی قید مقرر ہے مگر مسلمانوں کے خلاف یہ سزا تین سال بڑھا نا کیا ملکی قوانین سے ٹکرا نہیںرہا ہے؟شادی ایک معاہدہ (contract)ہے، جسے کالعدم کرنے کے لئے تین سال کی سزا قید کی دینا میں کہیں بھی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔تیسری بات یہ کہ حکومت اس ضمن میں اپنے مسودۂ قانون کوراجیہ سبھا میں منظور نہیں کراپائی تو آرڈیننس کا door  back  اختیار کر نا اسے زیب نہیں دیتا ۔ آرڈی ننس کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے، معیاد گزرنے کے بعد ملک میں عام انتخابات بھی ہونے ہیں، تو کیا اس لایعنی اقدام سے حکومت کو اپنے ووٹ بنک کی خوشنودی مقصود و مطلوب ہے یا مسلم خواتین کی ہمدردی؟ اس سوال کا جواب سب کو معلوم ہے ۔ بہر حال مسلم علماء اور دانش وروں کو اس آرڈی ننس کے خلاف قانونی لڑائی بھی لڑنی چاہیے، ساتھ ہی رائے عامہ منظم کر تے ہوئے اپنی صفوں میں شرعی و عائلی قوانین کے تئیں بیداری بھی پیدا کرنی چاہیے۔ 
