! طلاب میں مقصد تعلیم کا فقدان | قوم کے لئے تاریکی کا سبب

کسی بھی دور میں میں علم کی افادیت اور روحانیت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اور تعلیم ہمیشہ اس سماج کی زندہ دلی کا ثبوت دیتی ہے جہاں پہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔ تعلیم کے معنی اور اہمیت سے تو ہم سب لوگ واقف ہیں ہے۔ بچپن سے اب تک پڑھتے آ رہے ہیں کہ اصل میں تعلیم کا معنی کیا ہے ،اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اگر ہر کسی سماج  میںتو تعلیم ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ لیکن جو بات موجودہ سماج میں قابل لب کشائی اور قابل غور ہے تو وہ تعلیم کا مقصد ہے۔ تعلیم کے مقصد کے بارے میں کسی بھی جگہ بات نہیں ہو رہی ہے ، وہ ہمارے گھر کی چار دیواری ہو ، سماج کے مختلف شعبہ جات ہو یا ہمارے دنیاوی اور دینی درسگاہیں ہوں ، تعلیم کے اصل مقصد کا فقدان ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ موجودہ دور میںکہیں بھی کوئی ایسا فرد نہیں مل پائے گا جو تعلیم حاصل کرنے سے انکار کرتا ہو ، خاص کر وہ قوم و ملت جس کے نبوت کا سلسلہ، جس کی وحی کا سلسلہ تعلیم سے ہی شروع ہوا ہو۔ جس میں تعلیم کی اہمیت و افادیت حد درجہ معنی رکھتی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی نے پہلے ہی وحی نازل کی اور فرمایا گیا" أقر باسم ربك الذي خلق" (سورة العلق ) پڑھو! اپنے رب کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا۔ مطلب جو کوئی بھی دنیا میں علوم پڑھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ ساینس ہو،ٹیکنالوجی ہو یا باقی جدید علوم لیکن اپنے خداوندِپاک کے نام سے، جس نے آپ کو پیدا کیا۔ یہ بات قابل غور ہے یہاں پہ اس ملت کے لوگوں کو کسی بھی علم و فنون کو پڑھنے سے انکار نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ دنیا میں جو بھی چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں جو بھی علم و فلسفہ پڑھنا چاہتے ہیں آپ پڑھیں، لیکن اس خدا کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا جس نے آپ کی تخلیق فرمائی ہے۔ تو اس ملت اور قوم کا آج کیا حال ہے اوراس کا معیار کہاں پر نظر آ رہا ہے؟ اس پر کچھ باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ تعلیم کا اصل مقصد اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا، یعنی جو تمام مخلوقات سے بالاتر ہےاور اس انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد ِوجود کو پہچان لے کہ مجھے کس غرض سے دنیا میں بھیجا گیا ہے اور اللہ تبارک و تعالی مجھ سے دنیا میں کیا کام لینا چاہتا ہے۔ اس مقصدِ وجود کو سمجھانے کے لئےاللہ تعالیٰ کی طرف سے وقفہ وقفہ کے بعد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پاک اور برگزیدہ بندے ہمارے یہاں بھیجے گئے۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور آخر پر اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا سلسلہ رک گیا۔یعنی کہ جو کام ایک نبی کا تھا وہ کام اب اُمتِ مسلمہ کے ہر فرد کے کاندھوں پر عائد ہواہے۔تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے انسان اس دنیا میں ترقی کے پہاڑ چوم لیتا ہےاور تعلیم کا مقصد یہی رہا ہے کہ ایک انسان ایک صالح بندہ بنے، اپنے حقیقی مالک کو پہچان سکے، اپنے پروردگار عالم جس نے اس کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا، اس کے تمام اوصاف، اس کی تمام تر نعمتوں کو پہچان کر اللہ تبارک و تعالی کے اور زیادہ قریب ہو جائے قربت حاصل کریں۔
لیکن اُمتِ مسلمہ کی موجودہ حالت،معیار اور وقار کو دیکھا جائے تو افسوس ناک صورتِ حال نظر آرہی ہے کہ جس تعلیم سے ایک انسان اور خاص کر اُمت مسلمہ کے ہر فرد میں مقصد ِوجود کا لباس پیوست ہوتا تھا، جس تعلیم سے اُمتِ مسلمہ کی بنت حوا کو حفاظت ملتی تھی آج وہی تعلیم اس کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے کیونکہ جس مقصد کے غرض سے اس تعلیم کو حاصل کیا جانا چاہئے، اس کا فقدان ہے۔ جس تعلیم سے انسان کی آنکھوں میں حیا اور دل میں اللہ کا نور پیوست ہوتا ہے، آج اس تعلیم سے ایک انسان انسانیت کے دائرے میں بھی نہیں آتا ہے بلکہ موجودہ سماج کواس تعلیم نے انسان کو معاشی حیوان بنا دیا ہے ۔ جو تعلیم کا اصل مقصد ہے اس سے آج کا انسان بہت زیادہ دور ہو چکا ہے۔اس لاپرواہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ۔ پیغمبروں کے اس مشن کو آگے بڑھانے والے  ہمارے والدین ہوں یا ہمارے اساتذہ صاحبان ہوں۔ ہم سب اس میں برابر کے ذمہ دار ہے۔ جو بچے صبح سے لے کر شام تک اس تعلیم کے نور کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ،ان درسگاہوں اور ان تمام اسکولوں اور کالجز میں آج اخلاقیات کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ جن والدین کے کاندھوں پر اس بچے کے اخلاق و تربیت کی ذمہ داری عائد تھی، آج وہ اس بچے کو اس مقام سے خود اپنے ہاتھوں سے گراتا ہے۔ جہاں ماڈرن سوسائٹی کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے وہیں انسان اور خاص کر اس بچے کے اخلاقیات سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ کتنے ایسے اسکول ہیں، کتنے ایسے کالجز اور یونیورسٹیز ہیں جہاں سے ہر سال بہت سے ایسے تعلیم یافتہ نوجوان بڑی بڑی سندیں لے کر اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں مگر اخلاقی تربیت کے زیور سے دور ر ہوچکے ہوتے ہیں ۔ایسی تعلیم کا حصول زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔ جو تعلیم یافتہ نوجوان بڑی ڈگری حاصل کر کے اپنے مقصد وجود سے غافل ہو، اسے تعلیم یافتہ نہیں بلکہ اَن پڑھ کہنا یہاں پر مناسب لگتا ہے۔ کیونکہ جس غرض و غایت کے لئے انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، جب وہ مقصد ہی پورا نہیں ہوتا ہے تو اسی لیے اس علم کو علم نہیں، اس علم کو زندگی نہیں بلکہ موت کہہ دینا ہی بہتر ہے۔ جس تعلیم یافتہ نوجوان کے آنکھوں میں ڈگری حاصل کر کے ماں باپ کی عزت اور سماج میں ہونے والی برائیوں کی خاطر لڑنے کا جذبہ پیدا نہ ہو، اُس نوجوان کو تعلیم یافتہ نہیں بلکہ اَن پڑھ کہہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
جس تعلیم سے ایک انسان اور حیوان میں فرق کی جاتی ہے ۔اس تعلیم کا مقصد صرف یہی ہے کہ انسان اپنے ہوش و حواس سے اپنے مقصد ِوجود کو پہچان لے۔ وہ دنیا میں جو بھی فلسفہ پڑھنا چاہتا ہے اور جس قسم کی بھی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے،مدعا و مقصد یہی ہونا چاہیے کہ اس سے میں حقیقی مالک کو پہچان سکوں گا ،اس سے میں دنیا بھی اور آخرت بھی بہتر بنا سکتا ہوں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جو والدین ان بچوں کے اخلاقی تعلیم و تربیت میں کوتاہی برتتے ہیں اور وہ اساتذہ جن کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہے، وہیںتعلیم کے اصل مقصد کو بچوں سے دور رکھتے ہیں۔اُمتِ مسلہ کی بات کی جائے، اگر اس کے روشن ماضی کو دوبارہ سے تازہ کیا جائے تو کتنے ایسے لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرکے اسلام کا پرچم بلند کیا ہے ، اسلام کی خاطر اپنی زندگیوں کو نچھاور کیا ہے اور تعلیم سے ہی حقیقی مالک کو پہچان سکے، کتنے ایسے بڑے سکالرز اور سائنسدان ہے جو ملت اسلامیہ کو چاند پر لے گئے۔ان جیسے تعلیم یافتہ مسلم سائنسدان سے ملت اسلامیہ کا ماضی منور ہے لیکن اگر موجودہ سماج کی طرف ہم دوبارہ نظر دوڑائیے تو کتنے ایسے "So called intellectuals ہے جو بڑی یونیورسٹیز میں بڑی ڈگریاں حاصل کر کے اسلام کی بنیادی تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔جن کی آنکھوں سے حیا کی چادر ہٹ جاتی ہے اور جس بنت حوا کے سر سے دوپٹہ سرک جاتا ہے جس کی وجہ سے سے دل کے اندر شگاف پڑ جاتے ہیں اور وہ انسان ظاہری تو ایک انسان ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو مردہ ہوتا ہےاور ملت اسلامیہ کے اس خلافت کے منصب کو حاصل کرنے میں کوئی رول نہیں نبھا پایے گا۔
ایسا سماج جہاں تعلیم یافتہ نوجوان کرپشن کی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں تعلیم یافتہ نوجوان بے حیائی کے اڈے چلاتا ہے،اس سماج میں تعلیم اور تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں ہے بلکہ ان نوجوانوں کی کمی ہے جو تعلیم حاصل کرکے سماج کی اس ڈوبتی کشتی کو صحیح راستہ اور کنارہ دکھا سکیں، جو سماج کو ظلمت سے نکال کر اس نور کی طرف لے کے چلے جائیں، جہاں عدل و انصاف، ایمانداری کا پیمانہ ہو اور وہ تب تک لاحاصل ہے جب تک تعلیم سے معاشی حیوان جیسی سوچ رکھنے والے نوجوان صحیح راستہ نہ پائیںاور ہمارے اندر اس تعلیم کا مقصد بس یہی ہوگا کہ ہم دنیا میں اپنے مقصد ِوجود کو پہچان سکیں اور حقیقی خالق کو پہچان سکیں۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب تجارت اور تعلیم کوالگ الگ کیا جائے گا۔ تعلیم کو بس ایک انسان کی انسانیت کو بنانے کے لئے لیے حاصل کیا جائے اور سماج میں مختلف برائیوں سے لڑنے کے لیے ایک ہتھیار مانا جائے اور اس خلافت کے منصب کو حاصل کرنے کے لیے تعلیم حاصل کی جائے تو ایک انشاءاللہ ایساسماج قائم ہوگا جس میں عدل و انصاف اور ایمانداری کا پیمانہ ہوگا۔جہاں پہ بہنیں محفوظ ہوں گی اور نوجوان اپنے ملت و قوم کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں گے۔
(طالب علم شعبہ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
 فون نمبر 8082096361