’’طرزی شناسی‘‘پر وفیسر طرزیؔ کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی تبصرہ

ڈاکٹر احسان عالم
’’طرزی شناسی ‘‘ احتشام الحق کی ایک عمدہ کتاب ہے۔ اس کتاب کے ذریعہ مصنف نے پروفیسر عبدالمنان طرزی کی شخصیت اور ان کے مختلف ادبی اصناف کی عکاسی بہت ہی جامع انداز میں کی ہے۔ احتشام الحق ایک باصلاحیت نوجوان ہیں ۔ وہ درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں۔ ان کی تحریروں کا منفرد انداز قارئین کو مطالعہ کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ پروفیسر عبدالمنان طرزی ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔ اپنے دلی جذبات و احساسات کو شعری پیکر میں ڈھالنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی نثری تخلیقات بھی عمدہ ہوا کرتی ہیں۔ موصوف کی تقریباً پچاس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ساٹھ ہزار سے زائد اشعار کہہ چکے ہیں اوریہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ’’طرزی شناسی‘‘ کے مصنف احتشام الحق لکھتے ہیں:
’’حافظ عبدالمنان طرزی کا ادبی سفر بہت طویل ہے۔ اس مدت میں انہوں نے بہت لکھا اور جو لکھا عمدہ ہی لکھا ۔ عام طور پر زود گویوں کے یہاں فنی چابک دستی اور پختگی تو خوب محسوس ہوتی ہے مگر فکر کی زمین پر شادابی میں کمی آنے لگتی ہے ۔ عبدالمنان طرزی کا معاملہ یہ ہے کہ خوب لکھتے ہیں اور جو لکھتے ہیں ان میں فکری اعتبار سے سرسبزی و شادابی وافر طور پر موجود ہوتی ہے۔‘‘ (ص:9)پروفیسر عبدالمنان طرزی حافظ قرآ ن ہیں۔ اردو کے ساتھ فارسی زبان وادب پر بھی اچھی گرفت ہے۔ فارسی کتاب ’’قد آوراں ‘‘ کے لیے انہیں صدر جمہوریہ ہند ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ ’’تمہید‘‘ کے تحت پیدائش اور نام، حلیہ، تعلیم، ملازمت بحیثیت کلکرک، ملازمت بحیثیت لکچرر، رفقائے کار، پی ایچ۔ڈی، بحیثیت استاد ، اخلاق و عادات، شاعری پر اصلاح، ادبی خدمات کا جائزہ اور شاعری کے مختلف ادوار پر مصنف نے بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے۔
پروفیسر عبدالمنان طرزی کی پہلی کتاب ’’لکیر ‘‘ ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر طرزی کے ابتدائی کلام ہیں۔ ان میں غزلیں، نظمیں، سانیٹ، رباعیات اور قطعات شامل ہیں۔ شاعری کے دوسرے ادوار میں ’’مناظر نامہ، دستار طرحدار، نارنگ زار، منظوم جائزے، شاہد جمیل، فنکار حق شعار، قامت، ودیا کا منظوم ساگر، نیر تاباں اور مناظر عاشق ہرگانوی : توشیحی نظمیں وغیرہ ہیں۔ احتشام الحق نے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے پروفیسر طرزی کی دیگر کتابیں مثلاً آیات جنوں، منظوم مقالے، آہنگ غزل، سو دیدہ ور، دیدہ وران بہار(چار جلدیں) ، ناز برداران اردو، نعت گویان غیر مسلم، دربھنگہ نامہ، نثر نگاران دربھنگہ، منظوم تبصرے، تعارف، تبصرہ ، تاریخ، طلع البدر علینا، منظوم سیرۃ الرسول، قدآوراں وغیرہ کا تعارف مختصر لیکن پُرمغز انداز میں پیش کیا ہے۔
’’سودیدہ ور‘‘ میں ملک و بیرون ملک کی سو اہم شخصیتوں کا منظوم تذکرہ پروفیسر طرزی نے کیا ہے۔ ’’دیدہ وران بہار‘‘ کی چار جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ اس کتاب میں 462ادباء، شعراء، اطباء، وکلا، دانشوران ، علماء، صحافیوں ، انجینئروں اور ماہرین علوم و فنون کا منظوم تذکرہ کیا گیا ہے جن کا تعلق علم وادب سے رہا ہے۔ مصنف نے پروفیسر طرزی کی تحقیقی کتاب’’نازبرداران اردو‘‘ کا تذکرہ جامع انداز میں کیا ہے۔ اس کتاب میں غیر مسلم شعراء و ادبا کا منظوم تذکرہ ہے۔ موصوف نے اس کتاب کے ذریعہ یہ بات عیاں کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ چار سے دس اشعار میں شعرا اور ادبا کا تعارف پیش کیا ہے۔ پروفیسر طرزی نے اپنی تحقیق کے ذریعہ پانچ سو ستر غیر مسلم شعرا کا انتخاب کیا گیا ہے اور ان کا منظوم تذکرہ پیش کیا ہے۔ زیادہ تر شعراء وادبا کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات پیش کر دی ہے۔
پروفیسر طرزی کی ایک اور تحقیقی کتاب ’’نعت گویان غیر مسلم‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس کتاب پر احتشام الحق نے مختصر لیکن عمدہ بحث کی ہے۔ 372غیر مسلم نعت گو شعرا کا تذکرہ پیش کیا گیا ہے۔ تقریباً ہر شاعر کے نعتیہ کلام کا نمونہ بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ شکیل احمد سلفی کی مرتبہ کتاب ’’دربھنگہ نامہ‘‘ پروفیسر طرزی کی طویل نظموں کا ایک اہم تجربہ ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ اس کتاب میں شہر دربھنگہ کی علمی وادبی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ طرزی کی نظموں میں دربھنگہ نامہ کو اپنے اختصار اور جامعیت کے سبب ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ ’’نثر نگاران دربھنگہ ‘‘ ڈاکٹر منصور خوشتر کی مرتبہ کتاب ہے۔ اس کتاب میں دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے ایک 102تخلیقی اور غیر تخلیقی نثر نگاروں کا منظوم تذکرہ کیا گیا ہے جن میں صحافی بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر منصور خوشتر کی پروفیسر طرزی کے ضمن میں دوسری مرتبہ کتاب ’’منظوم تبصرے‘‘ کے حوالے سے احتشام الحق لکھتے ہیں کہ مضامین اور مقالے کی طرح تبصرے کے لیے بھی نثر کی ہیئت رائج رہی ہے ۔ جس طرح جناب طرزی نے نظم میں مقالے اور مضامین تحریر کرکے اردو شاعری میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے اسی طرح انہوں نے تبصرے بھی منظوم لکھے ہیں۔ ڈاکٹر منصور خوشتر نے طرزی کی منظوم تبصروں کو ایک جگہ جمع کرکے کتابی شکل دی ہے جس میں تقریباً 104تبصرے شامل ہیں۔
’’منظوم سیرۃ الرسول ‘‘ پروفیسر طرزی کا ایک منفرد تخلیقی تجربہ ہے۔ اس کتاب پر تجزیہ کرتے ہوئے مصنف احتشام الحق نے لکھا ہے کہ سیر ت رسولؐ پر دنیا بھر میں منفرد اور نایاب تجربوں کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں ’’سلک گہر‘‘ کے نام سے ایک سیرت رسولؐ موجود ہے جو غیر منقوط صنعت میں ہے۔ جناب طرزی نے نبی اکرمؐ کی 23سالہ زندگی کو منظوم سیرۃ الرسول میں 2865اشعار اور 176صفحات میں سمیٹتے ہوئے ایجاز واختصار اور قدرت بیان پر اعجاز ہنر کا ثبوت پیش کرکے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے جو اردو شاعری کے فنی تجربوں میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ ’’بیاض فکر رعنا‘‘ پروفیسر منصور عمر (مرحوم) نے ترتیب دی ہے۔ یہ کتاب خوبصورت گٹ اپ اور علمی دیباچے کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔
   پروفیسر طرزی نے اردو زبان وادب کے ساتھ فارسی زبان وادب پر بھی دسترس حاصل کی ہے۔ ’’قدآوراں‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب تحریر کی ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے احتشام الحق لکھتے ہیں :’’قدآوراں‘‘ اردو اور فارسی ادب کے چند مشاہیر کا فارسی زبان میں منظوم تذکرہ ہے۔ اس کتاب نے طرزی کی شہرت میں چار چاند لگادیئے اور جس طرح وہ ہندوستان میں اپنی شہرت رکھتے ہیں وہی شہرت ان کو ایران میں بھی حاصل ہوگئی۔ اسی شہرت کے ساتھ انہوں نے ایران کا بھی سفر کیا اور اس کتاب نے انہیں صدر جمہوریہ ہند سے ایوارڈ بھی دلایا۔ ‘‘(ص:50)
صنعت توشیح میں بھی پروفیسر طرزی نے فنکاری دکھائی ہے۔ اس صنعت میں ان کی دو الگ الگ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ایک کتاب ’’مناظر عاشق ہرگانوی : توشیحی نظم‘‘ کی شکل میں ہے۔ اس میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے سلسلے میں تین الگ الگ ماہرین کی رائے کے تین جملوں کو حروف کے اعتبار سے بنیاد بناکر توشیحی نظم پیش کی ہے۔ دوسری کتاب ’’توشیحی نظمیں‘‘ کے نام سے ہے ۔ اس کتاب میں مختلف شخصیات پر ماہرین کے اقوال سے جملوں کا استعمال کرتے ہوئے توشیحی نظمیں کہی ہیں۔ جن اشخصاص پر موصوف نے توشیحی نظمیں کہی ہیں وہ احتشام الحق، انور آفاقی، پروفیسر حافظ انیس صدری، پروفیسر جمال اویسی، پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر محمد ارشد جمیل، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، پروفیسر منصور عمر، پروفیسر وہاب اشرفی، ڈاکٹر سید تقی عابدی، ڈاکٹر غزالہ انجم، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر ودیا ساگر آنند، سید محمود احمد کریمی، شان بھارتی، شاہد جمیل، شکیل احمد سلفی، شمیم قاسمی، عفت موہانی، طفین اشرف صدیقی، فیروز احمد سیفی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مشتاق احمد نوری ، مظہر امام، وزیر آغا اور حقانی القاسمی ہیں ۔ پروفیسر طرزی نے بچوں کے لیے چند نظمیں کہی ہیں ۔ پروفیسر طرزی نے یہ کتابیں بچوں کے اسکولی نصاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھی ہیں۔ کتاب کے مصنف احتشام الحق نے پروفیسر طرزی کی نثر نگاری کا جائزہ بھی بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ پروفیسر طرزی کے نثری سرمایے میں ’’سید سعادت علی خاں۔ شخصیت اور شاعری ، دیوار میں ایک کھڑکی رہتی ہے(ترجمہ) ، ماریشش کی ہندی کی کہانیاںشامل ہیں۔ سید سعادت علی خاں: شخصیت اور شاعری پروفیسر طرزی کی پی ایچ ڈی کے لیے لکھا گیا تحقیقی مقالہ ہے جو کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔ ’’فکر رسا‘‘ بھی نثر میں لکھی گئی ایک تحقیقی کتاب ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر طرزی نے رسا دربھنگوی کے فکر وفن پر تحقیق کرکے اپنی تحقیقی صلاحیت کو پیش کیا ہے۔
پروفیسر طرزی کے فکر وفن پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ وہ کتابیں ’’طرزی ایک قادرالکلام شاعر، طرزی جناب، طرزی اور طرز بیان، طرزی اور ناقدین طرزی، لمعات طرزی، مکتوبات طرزی، طرزی اور طرز بیان، طرزی اور اجتہاد شعری، پروفیسر طرزی ذات سے شعری کائنات، طرزی سے ہم کلامی، متفرقات طرزی، پروفیسر طرزی اور ان کی منظوم سیرت نگاری ہیں۔ راقم الحروف نے چار کتابیں متفرقات طرزی کی دو جلدیں ، مکتوبات ، پروفیسر طرزی ذات سے شعری کائنات تک ترتیب دی ہے۔ جب کہ ایک کتاب ’’پروفیسر طرزی اوران کی منظوم سیرت نگاری‘‘ ان کی منظوم سیرۃ الرسول کی روشنی میں ان کی سیرت نگاری پرتصنیف دی ہے ۔ مصنف نے طرزی پر ہونے والی پی ایچ ڈی ، پروفیسر طرزی کو ملنے والے اعزاز و ایوارڈ، پروفیسر طرزی مشاہیر کی نظر میں ، نمونۂ کلام ، سوانحی کوائف ، تصنیفات و تالیفات ، شجرئہ نسب پروفیسر طرزی وغیرہ کو اس کتاب میں شامل کرکے کتاب کی معنویت میں چار چاند لگانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
پروفیسر طرزی اپنے ذہنی خیالات کو شعری پیکر میں ڈھالنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ ان کے لئے اشعار کہنا بہت آسان ہے۔ چھوٹی اور بڑی دونوں بحروںمیں انہوںنے شاعری کی ہے۔ شعری میدان میں ان کا قلم رواں دواں ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کا سایہ تادیر نئی نسل پر قائم و دائم رہے اور اردو زبان وادب کے خزانے میں مزید اضافہ ہوتا رہے۔