طالب علم عمر کمہار اسکولی وردی کے ساتھ سپرد خاک

    شوپیان//ترکہ وانگام میںفورسز اور جنگجوئوں کے درمیان ہونے والی مختصر جھڑپ کے دوران احتجاجی مظاہرین پر کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے نویں جماعت کے طالب علم عمر احمد کمہار کو جمعرات کی صبح ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنی سکول وردی کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق عمر کمہار کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے مختلف حصوں میں جمعرات کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔ ہڑتال کے دوران چند ایک مقامات پر پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔واضح رہے کہ ترکہ وانگام جھڑپ کے دوران پر تشدد مظاہروں پر قابو پانے کیلئے فورسز نے آنسو گیس اور پیلٹ بندوقوں کے علاوہ گولیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے۔ نویں جماعت کا طالب علم عمر کمہار ساکنہ پنجورہ شوپیان موقع پر ہی جاں بحق ہوا۔ گولی لگنے سے زخمی ہوئے دوسرے نوجوان عنایت احمد کی حالت بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اس کا سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شوپیان کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدھ کی رات دیر گئے تک جاری رہا۔۔ اطلاعات کے مطابق مہلوک طالب علم عمر احمد کو جمعرات کی صبح ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنی سکول وردی کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ عمر کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے مختلف حصوں بشمول شوپیان، اننت ناگ، کیموہ، کھڈونی اور بجبہاڑہ میں جمعرات کو ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران مختلف مقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پنجورہ کے مہلوک طالب علم عمر کمار کا چار بار نماز جنازہ ادا کیا گیا اور ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں پر نم آنکھوں سے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گونج میں سپرد لحد کیا گیا۔اس دوران  جنوبی کشمیر کے اسلام آباد(اننت ناگ) اور کولگام میں بھی شہری ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال رہی،تاہم اس دران جزوی طور پر چھوٹی گاڑیاں چلتی رہیں۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق ضلع میں مکمل ہڑتال رہی،جس کے دوران عام زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی۔دکان،کاروباری مراکز اور دیگر ادارے بھی بند تھے۔ نامہ نگار کے مطابق کولگام کے بائی پاس کھڈونی علاقے میں جمال روڑ پر نوجوانوں نے فوجی گاڑیوں پر شدید پتھرائو کیا،جبکہ فوج نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھرائو شروع کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب پتھرائومیں شدت پیدا ہوئی مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا ۔مظاہرین نے مزاحمت جاری رکھی اور فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیوں کے کئی رائونڈ چلائے جس کے نتیجے میں علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ بعد میں فوج نے درجنوں گاڑیوں کے شیشوں کو چکنا چور کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق فوجی اہلکاروں نے کئی مکانوں کے شیشوں کو بھی چکنا چور کیا۔ادھر اسلام آباد(اننت ناگ) میں بھی مکمل ہڑتال رہی،تاہم اسکول کھلے رہیں۔ اس دوران اگر چہ دکان،تجارتی مرکز اور کاروباری ادارے بند تھے،تاہم چھوٹی گاڑیاں سرکوں پر دوڈتی ہوئیں نظر آئیں۔نامہ نگار ملک عبدالاسلام کے مطابق بجبہاڑہ،آرونی،کھنہ بل، سیر ہمدان اور قصبے میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے زندگی کا پہیہ جام ہوگیا۔
 
 

 

ترکہ وانگام مسلح تصادم ختم 

جنگجو محاصرہ توڑ کر نکل جانے میں کامیاب

شاہد ٹاک
 
شوپیان//ترکہ وانگام شوپیان میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان بدھ کی شام شروع ہوئی جھڑپ ایک کمسن طالب علم کی موت اور کئی عمارتیں خاکستر ہونے کے بعد ختم کردی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق علاقے میں موجود جنگجو کسی جانی نقصان کے بغیر ہی محاصرہ توڑ کر نکل جانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ترکہ وانگام میں بدھ سہ پہر شروع کئے گئے جنگجو مخالف آپریشن کو ختم کردیا گیا ہے کیونکہ علاقہ میں پھنسے جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے ترکہ وانگام میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر مذکورہ علاقہ میں بدھ کے روز کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا تھا‘۔ علاقہ میں تلاشی مہم کے دوران جنگجوؤں اور فورسز کے مابین مسلح تصادم شروع ہوا تھاجس کے دوران دو رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا‘۔  ذرائع نے بتایا کہ مخالف سمت سے گولہ باری کا سلسلہ رکنے کے بعد متذکرہ مکانات اور نذدیکی مکانات کی تلاشی لی گئی لیکن کسی جنگجو کو وہاں موجود نہیں پایا گیا۔ بتایاجاتا ہے کہ ’جنگجو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے‘۔ اطلاعات کے مطابق مسلح تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں کے شدید احتجاج کے باعث علاقہ میں محصور جنگجو بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔