طالبعلم کی مشتبہ حالت میں موت کا معاملہ

نوشہرہ //نوشہرہ کے گگروٹ علاقے میں گزشتہ دنوں مشتبہ حالت میں مرنے والے طالب علم کے رشتہ داروں نے احتجا ج کیا جس دوران جموں پونچھ شاہراہ پر ساڑھے چار گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی ۔مظاہرین نے ٹائر جلاکر پولیس و انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔ یاد رہے کہ نوشہرہ کے گگروٹ گائوں میں نو روز قبل دسویں جماعت کے طالب علم ہمانشو شرما عمر سولہ سال ولد دیوراج کی سکول جاتے وقت مشتبہ حالت میں موت ہوگئی تھی ۔اس کی موت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتار ی عمل میں لائی گئی ہے ۔پولیس کی طرف سے کسی بھی طرح کی کارروائی نہ ہونے پر طالبعلم کے رشتہ داروں نے صبح دس بجے جموں پونچھ شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کیا اور گاڑیوں کی نقل و حرکت بند کردی ۔انہوںنے کہاکہ ہمانشو کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف دیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک ڈپٹی کمشنر راجوری موقعہ پر نہیں پہنچتے تب تک وہ احتجاج جاری رکھیںگے ۔اس دوران ایس ڈی ایم نوشہرہ عبدالستار موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے مظاہرین سے بات چیت کرکے انہیں پیغام دیاکہ ڈپٹی کمشنر کل متوفی کے والدین سے ملیںگے جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے اور گاڑیوں کی آمدورفت بحال کی گئی ۔کئی گھنٹوں تک گاڑیاں بند رہنے کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔