طاغوتی پینترا

کُتببینی اور اخبار بینی اب لگ بھگ قصۂ پارینہ بن چکی ہے ۔اب موبایل فون کا چلن نمایاں ہے ،وادی کی نصف سے زیادہ آبادی سفر میں ہو یا حضر میں،گھر میں ہو یا دوکان پر ،دفتر میں ہو یا سکول کالج میں ،ہر جگہ موبائیل فون پر ہی وظیفہ رٹتی رہتی ہے اور اس وظیفے میں اس حد تک محو و مگن ہوجاتی ہے کہ دنیا و مافیہاسے بدون ہوجاتی ہے اور تن بدن کا ہوش ہی نہیں رہتا ۔گھروں میں والدین بچوں کے ساتھ دو باتیں کہنے ُسننے یا کسی اور گھریلو مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے ترس جاتے ہیں ۔ہنستے مسکراتے باعزت باوقار اور علم دوست گھروں کی وضع قطع عجیب ہوگئی ہے۔ایک ہی گھر میں لوگ خاص طور پر نوجوان پود اپنے اپنے کمروں یا کونوں کھدروںمیں بہ حال مستی و مراقبہ دُبکے رہتے ہیں جیسے   ع    
بیٹھے ہیں تصور جاناں کئے ہوئے
البتہ جتنے لوگ اخبار کے ساتھ کماحقہ دلچسپی رکھتے ہیں ،اُن میں سے کسی کسی صاحب یا محترمہ کو یا د ہوگا کہ میں نے لگ بھگ چھ برس قبل شاید ستمبر 2012ء میں ایک کالم’’ لحم الحرام‘‘ کے عنوان سے دو قسطوں میں اسی کالم کے لئے تحریر کیا تھا جس میں اور باتوں کے علاوہ میں نے دو خاص باتوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانی چاہی تھی :اول یہ کہ یہود مسلمانوں کو بے حیا،بے غیرت اور کردار کے حوالے سے کمزور بنانے کے لئے اُسے سوؔر کے جسم کی مختلف پدارت مختلف ذرائع سے کھلاتا ہے کیونکہ اس کو مسلمان کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے ۔ اس بیر اور نفررت کی وجہ سے ہی اُس نے کئی ملکوں میں کئی طریقوں سے مسلمانوں کا قتل عام کروایا ۔اسی نفرت کی وجہ سے اُس نے امریکہ کے اٹھانوے فی صد اخبارات ،جرائد ورسائل کے مالکانہ حقوق حاصل کرلئے ہیں اور جو اس کی ملکیت میں نہیں ہیں کم از کم ان کے ایڈیٹر یہود ضرور ہیں۔اسی طرح دنیا کی کئی ایک ٹی وی چینل یا تو اُن کی ملکیت میں ہیں یا ان کو سپانسر کرتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کی بھی چینلوں کو دانہ کھلاتا رہتا ہے ۔یہ بات ویسے بھی اس طرح سے ثابت ہوجاتی ہے کہ جب مختلف چینل مسلمان مخالف پروپیگنڈا اور مسلمانوں کی امیج مٹی میں ملانے کے سوا اور کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ایک مشہور ٹی وی مداری کی ڈگڈگی کی ہر تھاپ سے مسلمان کے لئے کلمہ نفرت و حقارت ہی نکلتا ہے ۔ایسی ہی چینل ہیں جو طارق فتح جیسے کِک آوٹ کئے ہوئے بے دینوں کو صرف اور صرف دین اسلام اور مسلمانوں کی کھِلی اُڑانے کے لئے مہمان خصوصی بناکر اُس پر بے انتہا پیسہ خرچ کرتے ہیں اور اس طرح سے اپنی اسلام دشمنی کی آبیاری کرتے ہیں۔
یہود کو اپنے مسائل اُجاگر کرنے،پروپیگنڈا کرنے یا دنیا میں اسرائیل کی امیج بنانے کے لئے اس کا کام دو تین اخبارات اور دو تین ٹی وی چینلز سے چل سکتا تھا مگر دنیا بھر کے میڈیا کو اپنے بس میں کرنے سے مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کرکے دنیا کے سامنے کلمہ خوان کو ذلیل ترین انسان اور اسلام کو خاکم بدہن ’’پس ماندہ اور دہشت گرد ‘‘مذہب ثابت کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا جائے ،یا کوئی کسر باقی نہ رہنے دی جائے۔دوسری بات یہ کہ ہونٹوں پر لگانے والا رنگ یعنی لپ اِسٹک چاہے کیلی فورؔنیا میں بنے یا ٹانگاؔ نیکا میں ،جرمنی ؔمیں بنے یا ہماچل ؔپردیش میں ،وہ سور کی چربی کے بنا بن ہی نہیں سکتی ۔اس لئے اس حرام چیز سے کلمہ خوان خواتین ،قرآن خوان بہنوں ،بیٹیوں اور بچیوں سے میں نے استدعا کی تھی کہ اس آئٹم کو اپنے فیشن یا سنگار دان سے ہٹائیں اورآخرت کی فلاح کی خاطر اپنے پاک ہونٹوں سے پاکیزہ خدائی کلام اور ادب و اخلاق کی باتیں ہی نکالیں جو حرام رنگ و روغن سے ملوث نہ ہونے پائیں ۔دینی محنت و مشقت کرکے اس کو اکارت نہ جانے دیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ جب یہودؔ نے سور کے جسم کی مختلف چیزیں خاص طور پر اُس کی چربی کئی کریم ،لوشن ،صابن ،ٹوتھ پیسٹ ،چاکلیٹ اور خاص طور پر فوڈ آیٹمزمیں شامل کرنا شروع کیں تو تفصیل جزوِ ترکیبی یعنی اِن گریڈینٹس(Ingredients)میں انہوں نے سور کی چربی کی بجائے انمل فیٹ(Animal Fat)لکھنا شروع کیا۔اس پر عرصے کے بعد عرب ممالک کے لوگ چونکے کیونکہ یہود ؔمالکان کی بنائی ہوئی چیزیں بلکہ سگریٹ بھی خاص طور پرٹھیٹ مسلمان ممالک میں درآمد ہوتی تھیں اور وہ بھی بغیر کسی سوچ سمجھ اور غور و فکر کے ہر ایک چیز کو اعلیٰ کوالٹی کی سمجھ کر چٹ کر جاتے تھے۔سوال اُٹھنا شروع ہوگیا کہ آخر یہ حیوانات کی چربی کس جانور کی چربی ہوتی ہے ،گائے بھینس کی یا بھیڑ بکری کی یا کسی اور جانور کی؟یہود اس سوال کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکے ،اس لئے اُن تمام مسلم ممالک نے مال کی ،مختلف ضرورت کی چیزوں کی سپلائی روک دی اور اس طرح سے یہود کے لالے پڑگئے ایک تو اُن کی آمدن رُک گئی ، دوسرے بنا ہوا مال بھی خراب ہونے لگا ،تیسرے جو وہ من چاہا دام وصول کرتے تھے وہ ناجائز منافع خوری بھی رُک گئی ۔اس پر یہود بوکھلا گیا کیونکہ یہود کی معیشت کا دارومدار عرب ممالک پر ہی ہے ۔ جو اُن دنوں بھی تھا اور آج بھی ہے ۔مسلمان یعنی خاص طور پر عرب دنیا کے مسلمان اپنے آپ اور دنیا کے دیگر مسلمانوں کو مروانے ،قتل عام کروانے اور اسلام کی شبیہ کو زک پہنچانے کے لئے یہود کی کھلے عام مدد اور اعانت کررہے ہیں حالانکہ اب عرب ممالک خود بھی ادویات اور بہت ساری ضروریات زندگی کی چیزیں بنانے میں خودکفیل ہوگئے مگر کوکا کولا ،پیپسی ،ڈونالد کا برگر اور فلپ مورس کمپنی کے سگریٹ اُسی شدو مد سے عرب دنیا میں استعمال ہوتے ہیں جس طرح آج سے بیس برس قبل استعمال ہوتے تھے ۔عرب کے مست ملنگ لوگ خود کیا بتائیں گے، البتہ ایک بار امریکہ کی سی آئی اے نے یہ چونکا دینے والا بم پھوڑا تھا کہ عرب ممالک یہود کمپنیوں کی تیار کردہ چیزیں جیسے کولڈ ڈرنک ،برگر ،سگریٹ وغیرہ جو روز کے روز استعمال کرتے ہیں ،اُس آمدنی سے نفع کا دس فی صد اور کچھ کمپنیوں سے بارہ فی صد حصہ اسرائیل کو جاتا ہے، گویا عرب دنیا کے لوگ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے لئے اسرائیل کو یومیہ یعنی ہر دن لگ بھگ ساٹھ ہزار کروڑ روپیہ سے مدد کررہی ہے ۔ان انکشافات سے آپ حیران تو ضرور ہوئے ہوں گے مگر حقیقت بہر حال حقیقت ہی ہے ۔
ہاں تو میں عرض کررہا تھا کہ جب یہودؔ اس بات کا یعنی کس حیوان کا فیٹ مختلف اشیا ء میں استعمال ہوتا ہے کو خاطر خواہ جواب نہ دے سکے تو انہوں نے پینترا بدلا ۔۔۔۔۔۔۔
(باقی حصہ اگلے ہفتے انشاء اللہ)
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995