طارق فتح کا فتنہ

 
اسلام کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ مختلف ادوار میں جنم لینے والے خوف ناک فتنے بر پا ہوئے ہیں؛ جن سے نہ صرف اسلام کے تئیں نفرت پھیلانے کی ناکام کوششیں کی گئیں بلکہ شریعت اور اسلامی قوانین و ضوابط پر انگلیاں اُٹھائی گئیں۔ خود پیغمبر کریم صلعم کے مبارک زمانے میں مسلیمہ کذاب اور اسود عنسی جیسے فتنہ پرور لوگ نمودار ہوئے، بعدازاں خوارج کا اظہار ہو ا ۔ان سب کی سر کوبیاں ہو ئیں اور مسلمانوں نے اپنے ایمان اور عمل سے اسلام کا دفاع کیا۔ اس کے بعد صلیبی جنگوں نے ا پنا پھن پھیلایا جن کے اثرات آج بھی تہذیبوں کے تصادم کی صورت میں جاری ہیں ۔ انیسویں صدی میں قادیانیت کا غلغلہ ہو اور پھر غلام جیلانی برق اور غلام احمد پروزی کے فتنے جاگ گئے مگر یہ سب وقت کے بہاؤ میں ختم بھی ہوئے ۔ بایں ہمہ عصر رواں میں یہ سلسلہ چل رہا ہے بلکہ ایک بڑا فتنہ تجدد پسندی اور فکری الحاد ابھی بھی اپنا پھن پھیلائے ہوئے مسلمانوں کے سر پرمنڈلا رہا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو اُن کے ماضی سے الگ کر دینا اور اسلام کی تقریباًساڑھے چودہ سو سالہ متفقہ شریعت کی متوارث سے محروم کر دینا ہے۔ دیکھا جائے تو آج بھی اسلام سے متعلق سوشل نیٹ ورکنگ ، انٹرنیٹ یا پھر ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے کئی پروگراموں میں اسلام اور اسلامی قوانین و ضوابط پروہ نام نہادروشن خیال طبقہ بحث کرتا ہوا دکھائی دے رہاہے جو بظاہر نام سے مسلمان ہیں مگر حقیقت میںفسطائی طاقتوں اورمغربیت کے ذہنی غلام بلکہ زر خریدبن چکے ہیں۔ ایسے الٹی کھوپڑیوں والے لوگوں کا مقصد خود کو اسلام کے تابع کرنا نہیں بلکہ اسلام کو اپنے تابع کر نا ہے، اسی لیے قرآن و حدیث کی ایسی من مانی تشریحات کی جاتی ہیں تاکہ شریعت کو اپنے تابع بنا سکے۔ اُن کے اذہان فسطائی طاقتوں اور اسلام دُشمن عناصر نے اُن کے ذہن وقلب کو اپنے بس میں کیا ہوا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ صرف اپنی ہی لن ترانی میں مگن رہتے ہیں اور حقیقت اور سچائی سے جان بوجھ کر منہ موڑلیتے ہیں۔ اسلام دشمن عناصر ایک طرف لیکن میڈیابھی ان کی پشت پناہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ جن نیم حکیموں اور کج فکر لوگوں نے شریعت اور اسلام کی پاکیزہ شبیہ کو مسخ کرنے میں اہم رول ادا کیا اُن میں جہاں سلمان رشدی اورتسلیمہ نسرین جیسے اسلام دشمن لوگ موجود ہیں،وہیں’ اب ایک اور نام’طارق فتح‘‘کا انڈین میڈیا کی مہربانی سے گشت کر رہا ہے ۔ یہ شخص اسلام بیزار بھی ہے  اور اسلام دُشمن طاقتوں کو کھلے عام ساتھ دینے میں جڑا ہوا ہے۔ جہل مرکب کا بناہوا یہ شخص تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے مسلمانوں کی کردارکشی ہی نہیں کرتا بلکہ اسلامی تاریخ کے درخشندہ تاروں کو بھی غلط سلط طریقے میں پیش کر رہاہے ۔
  بہ قول طارق فتح اس کے باپ دادا ہندو تھے، جن سے 20نومبر 1949ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوا۔کراچی یونی ور سٹی سے حیاتیاتی کیمیا (Bio Chemistry)کی تعلیم حاصل کی اورمختلف لادین اور اشتراکی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1960اور1970کے ہنگاموں میں جیل کی سیر بھی ہوئی۔1977ء میں اس پرغداروطن ہونے کا فرد جرم عائدہوااور پاکستان کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے پابندی لگادی گئی۔پھر پاکستان سے فرار ہوکر 10سال سعودی عرب میں مقیم رہالیکن جب وہاں بھی عزت وعافیت سے ہاتھ دھو بیٹھا توکینڈا میں مستقل سکونت اختیارکرلی۔چوں کہ صحافت سے دل چسپی تھی اور کچھ متنازعہ کتابیں تصنیف کر ڈالیں۔اب طارق فتح پچھلے ڈھائی سال سے ہندوستان میں مقیم ہے اور ہندوستانی میڈیا کی بھینگی آنکھ کاتارا بن بیٹھاہے۔پاکستان میں اپنی پیدائش کو طارق بد قسمتی سے تعبیر کرتا ہے اور ہندوستان اور اس کی جمہوریت سے سچی محبت کا دعویٰ رکھتا ہے۔۔۔۔
 طارق فتح کا مقصداسلام دشمنی کوفروغ دینا اورمسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاناہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ مذہب اسلام پر نہایت ہی گھٹیا تنقید کرتا ہے۔ ایک پروگرام میں اپنی منفی سوچ اور فسطائی نظریات کا اظہار یوں کرتاہے۔ـ’’ آپ جانتے ہیں کہ سیکولرزم کیا ہوتی ہے؟سیکولرزم یہ ہے کہ ملک میں کسی طرح کی کوئی مذہبی علامت نہیں ہونی چاہیے۔ فرانس میں جس طرح کی جمہوریت ہے انہی کی طرح اپنی زندگی گذارنی چاہیے جہاں کوئی مذہبی علامت نہیں ہے۔ کوئی فرد اپنے اپنے مذہب پر عمل نہیں کرسکتاہے۔ سب شہریوں کے لئے یکساں قوانین ہیں۔ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا جیسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔بس ایک قانون ہونا چاہیے جو سب پر لاگو رہے۔ہندوستان کا ہر شہری کسی مذہب کو نہ مانے۔ مسلمان، ہندو اور دیگر مذاہب سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے یہاں آپس میں شادیاں کریں۔جس طرح میں نے اپنی بیٹی کی شادی ( بغیر کسی قانونی یا شرعی ضابطے ) کے غیر مسلم سے کی ہے۔‘‘ 
طارق فتح مسلم فکر کے نمایاں ترین ناقد کے طور پر ابھرا ہے۔اُس نے مختلف امور پر جارحانہ موقف اختیار کیا۔ حال ہی مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کی حمایت بھی کی۔طارق چار برس قبل بھارتی میڈیا میں نمایاں مبصر کے طور پر ابھرا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی 2014ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھارت کے دائیں بازو کی جانب بڑھ جانے اور عوامی دلچسپی کے موضوعات پر تبصروں کے باعث سماجی میڈیا کی اہمیت میں اضافہ ہوا جہاں طارق فتح پہلے ہی انتہائی مقبول ہو چکے تھے۔ 
طارق فتح اسلام کے بارے میں اپنی اس تنقید کے باعث بھارتی دائیں بازو یعنی سنگھ پریوار کا راتوں رات چہیتا بن گیا، یہی وجہ ہے کہ 2014ء میں نریندر مودی کی سیاسی جیت کے بعد بھارت میں علمی طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ اب بھارت میں دائیں بازو کی نمایاں ترین شخصیت بن چکا ہے۔ 2016ء میں اُسے دائیں بازو کے سیمیناروں جیسا کہ 'انڈیا آئیڈیاز کنکلیو'(India Ideas Conclave) میں مدعو کیا گیا جس کا انعقاد 'انڈیا فاؤنڈیشن' نے کیا تھا۔اس ادارے سے مودی حکومت کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔اس کے علاوہ اُس نے  'جے پور ڈائیلاگز' (Jaipur Dialogues)میں بھی شرکت کی جس کی میزبانی راجستھان میں بی جے پی کے لیے کام کرنے والے ایک سینئر بیوروکریٹ نے کی تھی۔طارق فتح نے 2016ء میں ہی بھوپال میں ہونے والی ایک تقریب 'لوک منتھن‘(Lok Manthan Bhopal) میں بھی شرکت کی جس کا انعقاد ایک ایسے گروہ نے کیا تھا جس کا آر ایس ایس سے گہرا تعلق تھا۔ سات جنوری کو کلکتہ میں کشمیر اور بلوچستان پر ہونے والی کانفرنس کی میزبانی سوادھیکار بنگلہ فاؤنڈیشن نے کی جس کے سربراہ بی جے پی کے مقامی رہنما تھے۔ اس کانفرنس میں بھی طارق فتح موجود تھا۔
طارق فتح میں بھارت کے دائیں بازو کی دلچسپی اس وقت مزید بڑھی جب اُس نے ذی نیوز(Zee News) جس پر پہلے سے ہی یہ الزام ہے کہ یہ چینل بی جے پی کے انتہا پسنادنہ وفرقہ پرستانہ نظریات کو فروغ دیتا ہے، پر پروگرام کی میزبانی شروع کی۔طارق فتح ذی نیوز پر پروگرام 'فتح کا فتویٰ' کی میزبانی کرتے ہیں جس میں بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے درپیش مسائل پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔اُس نے بھارتی مسلمانوں کی مذمت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔اُس نے نئی دہلی کی ایک اہم شاہراہ اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرنے کی حمایت بھی کی ہے اور مسلمانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مغل شہنشاہ بابر کو پوجنے کی حد تک چاہتے ہیں۔ اس طرح کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کی تحریک کی بازگشت کرتا ہے۔سماجی میڈیا پر چل رہے ایک اورسازشی نظریہ جس کے مطابق العیاذباللہ کعبہ کبھی ہندوؤں کی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی، کو بھی طارق فتح من و عن قبول کر لیتا ہے۔
دسمبر2016ء میں طارق فتح کے لیے اس وقت مسائل پیدا ہو گئے جب اُس نے اختلاف رائے پر مسلمان اور سکھ طلبہ کو 'پاکستانی' اور 'خالصتانی' قرار دے ڈالا تھا۔اس موقع پر طلبہ نے اُس کی خوب مرمت بھی کی تھی۔طارق فتح نے حال ہی میں اداکار جوڑے سیف علی خان اور کرینہ کپور پر اپنے بیٹے کا نام 'تیمور رکھنے پر بھی کڑی تنقید کی۔ اُس کا کہنا تھا کہ سیف اور کرینہ کو اپنے بیٹے کا نام ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے اُس تاتاری شہنشاہ کے نام پر نہیں رکھنا چاہیے تھا،حالاں کہ اُس کا اپنا نام بھی مسلم ہے جس پر سماجی میڈیا میں اُس پر کڑی تنقید ہوئی۔ اس کے باعث اُس نے لفظ 'طارق کا غلط مطلب پیش کیا۔اُس نے اس سلسلے میں ٹویٹ بھی کیا تھاکہ ’’طارق سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اگر آپ کسی پر کوئی الزام عائد کرنا ہی چاہتے ہیں تو وہ میرے والدین ہیں جنہوں نے میرے لیے یہ نام منتخب کیا۔‘‘اب خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ اپنی کج فکری اور فسطائی ذہن کی بدولت وہ آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل کرنے کے لیے اپنے والدین تک کو الزامات سے بری نہیں کرتا ہے۔
طارق فتح آر ایس ایس کے لیے ایک نئی دریافت ہے جو مسلمان ہونے کا دعویدار بھی ہے اور بہت سے معاملات پر ہندوتوا کے نقط نظر سے متفق بھی ہے۔ جس کے باعث بی جے پی کے لیے اپنے پرجوش ہندوتوا کارکنوں کی مدد کے بغیر ہی مسلمانوں تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ہندوستان میں اُسے شدت پسندوں کی میزبانی نے اس کے قیام کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ اسلام اور عقائد مخالف بیانات ونظریات کی تشہیر کے لیے بھی اس کی پیٹھ تھپتھپائی جارہی ہے۔چناں چہ ذی ٹیوی نے طارق کے انہی گندے مقاصد کے لیے اس کا ایک پروگرام’’فتح کافتویٰ‘‘ شروع کر دیا جس میں کچھ ٹی وی کے شوقین مولویوں نے ذلت ورسوائی بٹورنے اور ملت کی جگ ہنسائی کے لیے مذکورہ مباحثہ میںحصہ لیا۔ مذکورہ پروگرام کے ویڈیوز یو ٹیوب پر دستیاب ہیں جس میںطارق گستاخِ رسولؐ،  اسلام کا باغی، اولیاء کرام اور علماء دین کا دشمن دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ڈرامائی انداز میں مسلمانوں کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ایک ویڈیو میں وہ کہتا ہے کہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کو آگ لگی ہوئی ہے کہ میں یہاں بیٹھ کر پاکستانیوں کو کیوں برا کہہ رہا ہوں، کیوں کہ وہ آئی ایس آئی ایس اور پاکستان نوازہیں، وہ تین طلاقیں دیتے ہیں۔ وہ چار بیویاں رکھتے ہیں۔ بابر اورنگ زیب اور اور محمود غزنوی جیسوں کو ہندوستانی مسلمان اپنا رہبر مانتے ہیں۔ہندوستان میں ملاؤں کا اسلام چل رہا ہے اللہ کانہیں۔میں تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کو دوست رکھتا ہوں۔ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے لڑتا ہوں۔ہندوستان کے مولوی حکومت اور سیاست دانوں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ میں مدرسوں کی تعلیم کا مخالف ہوں۔ مدرسوں میں کیا ہوتا ہے مجھے سب معلوم ہے۔مسجدوں میں ہر جمعہ کو کافروں کے خلاف دعائیں ہوتی ہیں۔‘‘
 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت میں کوئی بھی شخص ہندو مذہب یا پھر ہندوستان کے خلاف بولتا ہے تو اُسے ’’دیش دروہی‘‘ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے لیکن طارق لگاتار مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کھلے عام بھارتی میڈیا کا سہارا لے کر بک رہا ہے تو کیا بھارتی آئین میں اس کے لیے کوئی سزا مقرر نہیں ہے؟ اگر مساوات اور قانون کی حکمرانی کی بات ہے تو اسے کوئی لیبل اب تک کیوں نہیں لگی؟ دراصل اسے بھارت کی حکومت کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی آشیر واد حاصل ہے۔ بھارتی چینل اسے غیر ضروری اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟یہ اپنے آپ میں ایک بڑا اور اہم سوال ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بھارت کو تو ایک ایسے بھونکنے والے کی ضرورت رہتی ہے جومسلمانوں کے خلاف بات کرے اور اگر بھونکنے والا مسلمان ہو تو اُس کے لیے بَلے ہی بَلے۔  
طارق فتح نے اپنے پروگرام ــ’’فتح کا فتویٰ‘‘ میں مسلمان، دین اسلام اور قرآن وحدیث پر خاکم بدہن کیچڑ اُچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔حالاں کہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ کے قومی کنوینر مہدی حسن عینی قاسمی کے مطابق مذکورہ پروگرام کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں اس پروگرام کے پانچ شوز میں مدرسوں،خانقاہوں،اسلامی کتابوں،علماء کرام اور صحابہ کرام بالخصوص سیدنا عمر بن الخطاب ؓ پر طارق فتح کے ذریعہ کیے گئے نازیبا تبصروں کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ۔قاسمی صاحب کے بہ قول ماہر وکیل حفظ الرحمن خان نے خود عرضی گزار بن کر سپریم کورٹ کے ہی دوسرے وکیل فرحان خان اور فرح ہاشمی کے ذریعہ ذی نیوز کے متنازعہ پروگرام’’ فتح کا فتویٰ‘‘ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی جس میں’’ فتح کا فتویٰ‘‘ پروگرام کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کی بات کہی گئی ۔
 نوٹ :مضمون نگارریسرچ اسکالریونی ورسٹی آف حیدرآباد ہیں
فون8686810506
ای میل [email protected]
بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں