! ضمنی انتخابات کے نتائج اور سیاسی جماعتیں

لوک سبھا کی 3اور ملک کی مختلف ریاستی اسمبلیوں کی 29نشستوں پر30؍ اکتوبر 2021کو منعقد ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان 2؍ نومبر کو ہوگیا ہے۔ ان انتخابات میں کا میابی کے لئے سیاسی پارٹیوں نے کافی شور و غوغا مچایا اور پیسہ کی ریل پیل بھی دیکھی گئی۔ لیکن نتائج بڑے حیران کن رہے۔ ضمنی انتخابات کے ان نتائج کو بی جے پی کے لئے ایک بڑاسیاسی جھٹکہ مانا جا رہا ہے۔ تین لوک سبھا نشستوں میں مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ،کھنڈوا پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی کا امیدوار کا میاب ہوا ہے۔ جب کہ ہماچل پردیش میں منڈی لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کو کا میابی ملی ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں شیو سینا نے اپنی بڑی جیت درج کرائی ہے۔ شیو سینا نے پہلی بار مہاراشٹرا سے باہر مرکزی علاقہ دادر اور نگر حویلی کی لوک سبھا نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان تین لوک سبھا نشستوں کے علاوہ 29اسمبلی حلقوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بھی غیر بی جے پی پارٹیوں کا مظاہرہ متاثر کن رہا۔ ہماچل پردیش میں تینوں اور راجستھان میں دونوں حلقوں میں اپنی کا میابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے کانگریس نے بی جے پی کو ہزیمت سے دوچار کر دیا۔ جب کہ ہماچل پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہےاور راجستھان میں کانگریس برسرِ اقتدار ہے لیکن ریاست میں گروپ بندیوں کی وجہ سے باور کیا جارہا تھا کہ کانگریس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن کانگریس قائدین نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو شکست دے دی۔ مغربی بنگال میں بر سرِ اقتدار ترنمول کانگریس نے چاروں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ آسام میں پانچ اسمبلی حلقوں میں انتخابات ہوئے، تمام نشستوں پر بی جے پی کا میاب ہوئی۔ آسام میں دوسری مرتبہ بی جے پی حکومت بنانے میں کا میاب ہوئی ہے۔ اس دوسری معیاد کے دوران ریاست میں جو فرقہ وارانہ فضاء آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما پھیلارہے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی اثر ہونا ضروری ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں بی جے پی اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ان بڑی کا میابیوں کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کا مظاہرہ بھی کہیں پر نمایاں رہا اور کہیں ان پارٹیوں کو سیاسی دھکچہ بھی لگا۔ بہار میں نتیش کمار کی پارٹی جنتا دَل یونائیڈڈنے اپنی گرفت بر قرار رکھی۔ انتخابات سے عین قبل لالو پرساد یادو کی بہار آمد سے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ پانسہ پلٹ سکتا ہے۔لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، لالو پرساد یادو، چارہ گھوٹالہ کیس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ سے جیل میں بند تھے۔ بہار کی سیاست سے کافی عرصہ سے ان کی دوری نے ان کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے نتائج بھی چونکا دینے والے رہے۔ کرناٹک میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، دو نشستوں پر اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہوئے۔ بی جے پی کو ایک حلقہ سے شکست ہو گئی وہاںکانگریس کو کا میابی ملی۔ کرناٹک میں حالیہ عرصہ میں ہی اقتدار کی تبدیلی عمل میں آ ئی ہے۔ ایدی یوراپاّ کو چیف منسٹر کے عہدے سے ہٹاکر بسواراج بومئی کو وزیرِ اعلی بنایا گیا۔ لیکن اب ان کے لئے خود بی جے پی قائدین مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔ہنگل اسمبلی حلقہ بی جے پی کا گڑھ مانا جاتا ہے وہاں سے کانگریس کی کامیابی ،بی جے پی کو ہضم نہیں ہوگی۔ آندھرا پردیش میں ایک اسمبلی حلقہ میں ضمنی الیکشن ہوا ، جس میں وائی ایس آر کانگریس کے امیدوار کو کامیابی ملی۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی ، جو آندھرا پردیش کے چیف منسٹر ہیں ، عوام کا اعتماد بر قرار رکھنے میں کا میاب ہوئے ہیں۔
سب سے سنسنی خیز نتیجہ تلنگانہ کے حضورآباد اسمبلی حلقہ کا رہا۔ یہاں سے برسرِ اقتدار پارٹی تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا امیدوار بی جے پی کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔اس کامیابی کو پارٹی کی کا میابی سے زیادہ امیدوار کی شخصیت سے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے کے سی آر کا ہر مرحلہ پر ساتھ دیاتھا۔ لیکن 2018کے اسمبلی الیکشن میں ٹی آر ایس کی دوبارہ کا میابی کے بعد سے ان دونوں قائدین کے درمیان سرد جنگ چلتی رہی اور با لاخر ایٹالہ راجندر کو وزارت سے اچانک برطرف کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی سیاسی بقاء کے لئے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور ٹی آریس سے اپنا حساب کتاب چکانے کا فیصلہ کرلیا۔ حضورآباد ان کا روایتی حلقہ ہے جہاں سے وہ 2004سے مسلسل منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔  2004سے 2018تک وہ ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر رکنِ اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہوتے رہے۔ اب پہلی مرتبہ وہ بی جے پی امیدوارکی حیثیت سے کا میاب ہوئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے۔ چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ عوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے۔ تلنگانہ کا حصول کسی ایک شخصیت یا خاندان کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس کے لئے سماج کے تمام طبقوں نے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن حصولِ تلنگانہ کے بعد کے ۔چندر شیکھر راؤ ریاست کو اپنی جاگیر بنا چکے ہیں۔ اپنے بیٹے اور بیٹی کو اقتدار پر دیکھنے کی آرزو میں وہ ٹی آر ایس قائدین کو بھی نظرانداز کرنے لگے۔ اسی لئے ان کے ساتھ انتہائی اہانت آمیز رویہ اختیار کر تے ہوئے انہیں ٹی آر ایس چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ حضورآباد کے رائے دہندوں نے ان کی ان باتوں پر بھروسہ کر تے ہوئے ان کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ ای۔ راجندر کی حضورآباد میں کا میابی ٹی آر یس  کے لئے وارننگ ہے۔ 
ان ضمنی انتخابات میں کانگریس اور دیگر غیر بی جے پی پارٹیوں کا مظاہرہ کچھ حد تک بہتر رہا۔ ہماچل پردیش میں کانگریس نے ایک لوک سبھا اور تینوں اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے بی جے پی کو ایک بھی حلقہ میں کامیاب ہونے نہیں دیا۔ اسی طرح راجستھان میں دونوں سیٹوں پر کانگریس کی جیت ہوئی۔ لیکن ملک کے دیگر حلقوں میں کانگریس کا بدترین مظاہرہ سامنے آ یا۔ آسام، بہار اور تلنگانہ میں کانگریس کی بُری دُرگت بن گئی۔ بہار میں آر جے ڈی اور کانگریس میں ووٹوں کی تقسیم سے جے ڈی یو کو دونوں حلقوں میں کا میابی مل گئی۔ آسام ایک زمانے میں کانگریس کا گڑھ مانا جا تا تھا، لیکن ضمنی انتخابات میں پانچوں حلقوں میں کانگریس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کو اپنا احتساب کرنا لازمی ہے کہ ان حلقوں میں جہاں بڑی تعداد میں اس کے چاہنے والے تھے اب کیوںپارٹی سے دور ہو تے جا رہے ہیں۔ مسلمان ، دلت اور دیگر پسماندہ طبقات ، کانگریس کا طویل عرصہ سے ووٹ بینک رہے۔ ان کی تائید سے ہی کانگریس مرکز اور ریاستوں میں حکومت کر تی رہی۔ لیکن اب صور ت حال بدل گئی ہے۔ جب تک کانگریس زمینی حقیقت کو قبول کرتے ہوئے سنجیدگی سے اپنی کارکردگی کا جائزہ نہیں لے گی وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتی۔ کانگریس کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ ملک کے سلگتے ہوئے مسائل پر اپنے موقف کو کھل کر ظاہر کرے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے خلاف ابھی تک کانگریس نے کوئی ٹھوس موقف اختیارنہیں کیا۔ تری پورہ میں مسلمانوں کے مکانات اوردکانات کے علاوہ مساجد کو جلا دیا گیا، اس پر سابق صدر کانگریس نے محض ایک ٹوئٹ کر تے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ملک کی ایک اہم اپوزیشن پارٹی کا کام صرف یہی ہے کہ کسی دلخراش واقعہ پر سوشیل میڈیا پر اپنی ناراضگی ظاہر کردے؟ کیوں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی یا کوئی لیڈر تری پورہ کا دورہ کر تے ہوئے مظلوموں کی داد رسی کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ ملک میں ماب لینچگ کے واقعات پر کیوں کانگریس سختی سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ نہیں کرتی۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کے خلاف کانگریس دھرنے دینے اور احتجاج کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی۔ کانگریس ملک کی سب سے بڑی اور قدیم پارٹی ہونے کے دعویٰ کو کچھ عرصہ کے لئے بھول جائے۔ کانگریس کا ماضی شاندار رہا ہے لیکن اب ملک کے کئی علاقوں میں اپنا اثر کھو چکی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں علاقائی پارٹیوں کا اثر بڑھ گیا ہے۔ کانگریس کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اب اکیلے بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسے علاقائی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ کانگریس اب سیاسی بیساکھیوں کے سہارے ہی اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کر سکتی ہے۔ لیکن کانگریس کے بعض قائدین اب بھی اس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ ملک کی دیگر سیکولر پارٹیوں کو کانگریس کی قیادت میں چلنا ہوگا۔ جس پارٹی کا سیاسی وجود داؤ پر لگ چکا ہے وہ دوسروں کو اپنے پیچھے آ نے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ ان ضمنی انتخابات نے کانگریس کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں دیگر سیکولر پارٹیوں سے اتحاد کرتے ہوئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی ترتیب دے۔ آئندہ سال اترپردیش کے ساتھ اور چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ اس کے بعد عام انتخابات کی تیاری شروع ہوجائے گی۔ اس لئے بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک عظیم سیکولر اتحاد کی ضرورت ہے تا کہ آئندہ مرکز میںایک مضبوط سیکولر حکومت قائم ہو سکے۔
رابطہ۔9885210770