ضلع ہسپتال گاندربل میں بنیادی سہولیات کا فقدان

گاندربل//ضلع ہسپتال گاندربل 52کروڑ روپے خرچ کرکے سال 2018میں عوام کے نام وقف کیا گیا تھا تاہم ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں کی من مانیاں عروج پر ہیں جس کے نتیجے میںگاندربل کی آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔2009میں اُس وقت کی حکومت نے دودرہامہ کے مقام پر 200بستروں والے ہسپتال کی تعمیر شروع کی جس پر پہلے مرحلے کے تحت 21کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم بعد میں ہسپتال 52کروڑ روپئے خرچ کرکے مکمل کیا گیا اور2018میں عوام کے نام وقف کیا گیا۔نئے ہسپتال کی تعمیر کے دوران ہسپتال میں تمام تر جدید سہولیات میسر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاہم کروڑوں روپے ہسپتال کی تعمیر پر خرچ کئے گئے لیکن ہسپتال میں آج بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔سونمرگ سے لیکر ناگہ بل اور صفاپورہ سے لیکر شالہ بگ تک ایک لاکھ سے زائد آبادی اسی ہسپتال پر منحصر ہے لیکن ہسپتال میں نہ بلڈ بینک پوری طرح جدید ٹیکنالوجی اور مشینری سے لیس ہے اور نہ ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین نصب کی جاسکی ہے جس کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہزاروں مریضوں کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کے دوران زخمیوں کو سکمز یا نجی ہسپتال یا لیبارٹریوں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دس سے پندرہ سالوں سے ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرہسپتال میں کم بلکہ نجی کلینکوں پر زیادہ نظرآتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ روز سالورہ میں پاگل کتے نے محکمہ تعلیم میں تعینات ایک لیکچرر کو حملہ کرکے زخمی کردیا  جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن یہاں تعینات ڈاکٹروں اوردیگر عملہ نے انہیںہاتھ لگانے کی زحمت گوارا نہیں کی جس کے بعد مذکورہ شہری کو سرینگر منتقل کرنا پڑا۔مقامی لوگوں نے اس سلسلے میں انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔