ضلع ہسپتال پلوامہ میں ٹکٹ کائونٹر وں کی کمی | ٹکٹ کے حصول میں مریضوں کے قیمتی وقت کازیاں

مشتاق الاسلام

پلوامہ // ضلع ہسپتال پلوامہ میں ہزاروں مریضوں کے علاج کیلئے مناسب ٹکٹ کاؤنٹر نہ ہونے کے سبب مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیں۔لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کی سہولیات کیلئے مزید ٹکٹ کاؤنٹر کھولے جائیں۔ہسپتال کے مریضوں نے بتایا کہ ہسپتال میں مریضوں کی سہولیات کیلئے مزید ٹکٹ کاؤنٹر کھولے جانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ دوردراز علاقوں سے ہسپتال آنے والے اکثر بیماروں کو ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے گھنٹوں قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ضلع شوپیان سے آنے والے ایک مریض کا کہنا تھا کہ وہ صبح ساڑھے نو بجے ٹکٹحاصل کرنے کے انتظار میں کھڑا ہے، تاہم ساڑے گیارہ بجے تک وہ قطار میں ٹکٹ حاصل کرنے کے انتظار میں بیٹھا تھا اور تجزیہ کے مطابق اس مریض کو آدھے سے گھنٹہ تک کا مزید وقت درکار تھا تاکہ ٹکٹ حاصل ہوسکے۔کشمیر عظمیٰ کے مطابق روزانہ 4 ہزار سے زائد بیمار ضلع ہسپتال میں علاجِ کیلئے آتے ہیں تاہم گرمی کے موسم میں لمبی لمبی قطاروں مردوزن کوگھنٹوں کھڑے رہ کر اپنی باری کا انتظار کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔پلوامہ کے نزدیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کا کہنا تھا کہ وہ ہڈیوں کے علاج کیلئے ضلع ہسپتال پلوامہ آیا تھا لیکن یہاں ٹکٹ کا انتظار کررہے بیماروں کی لمبی قطار دیکھ کر بزرگ شہری غلام قادر شیخ واپس چلاگیا۔غلام قادر شیخ نامی شہری نے بتایا کہ وہ عمر کے لحاظ سے اتنے طاقتور نہیں کہ وہ لائن میں اپنی باری کا انتظار کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں درپیش مشکل کے بجائے نجی شفاخانے میں جاکر اپنا علاج کرواں گا۔متری گام پلوامہ کے تنویر احمد ڈار نے بتایا کہ وہ مستری کا کام کرتا ہے اور گزشتہ سال کمر درد میں مبتلاء ہونے کے بعد وہ ضلع ہسپتال میں اپنا علاج ایک ڈاکٹر سے کروارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع ہسپتال میں مناسب سہولیات دستیاب ہیں مگرٹکٹ کاؤنٹروں کی کمی ہسپتال کا اہم مسئلہ ہے جس حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ضلع ہسپتال میں موجود اکثر بیماروں نے بتایا کہ یہاں مناسب ٹکٹ کاؤنٹر نہ ہونے کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔دریں اثنا میڈکل سپرانٹنڈنٹ ضلع ہسپتال پلوامہ نے کہا کہ ہسپتال اس وقت 7 ٹکٹ کاؤنٹر موجود ہیں جو کہ بیماروں کیلئے مناسب بھی اور معقول بھی ہیں۔ڈاکٹر عبدالغنی ڈار کا کہنا تھا کہ ضلع ہسپتال میں مریضوں کی سہولیات کیلئے ’آبھا‘ ائپ بھی میسر ہے اور مریض بآسانی اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔