ضلع ہسپتال راجوری بنا جنگ کا میدان

 پولیس کا لاٹھی چارج ،واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم  

 
راجوری //خطہ پیر پنچال کا سب سے اہم طبی مرکز ضلع ہسپتال راجوری جنگ کا میدان بن گیا جہاں تیمارداروں اور ڈاکٹروں کے درمیان عوام کے سامنے لڑائی ہوئی جس پر پولیس کو مداخلت کرکے لاٹھی چارج کرناپڑی۔اس واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے اس کی عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کیاہے جبکہ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے ۔بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے دو روز قبل تھنہ منڈی میںپیش آئے ٹیمپو حادثے کے زخمیوں کے تیمارداروں نے ضلع ہسپتال کے مین گیٹ کے باہر دھرنا دیا اور انہوںنے اس بات کا الزام عائد کیاکہ ہسپتال کے ڈاکٹر زخمیوں کے علاج پر کوئی توجہ نہیں دے رہے اور انہیں ایسے ہی چھوڑ دیاگیاہے ۔اس دوران میڈیکل سپرانٹنڈنٹ اور دیگر افسران موقعہ پر پہنچے اوروہ مظاہرین کو خاموش کروانے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک سرجن ڈاکٹر اور مظاہرین کے درمیان بول چال شروع ہوگئی ۔اس دوران مظاہرین نے الزام عائد کیاکہ ڈاکٹر نے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ہے جبکہ ڈاکٹر نے مظاہرین پر مار پیٹ کا الزام لگایا۔اس واقعہ کے فوری بعد ہسپتال کا پورا عملہ بشمول ڈاکٹر ہسپتال کے پارکنگ زون میں دھرنے پر بیٹھ گئے اور الزام لگایاکہ مظاہرین نے سرجن ڈاکٹر پر حملہ کیاہے ۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیر سنگھ اور تحصیلدار راجوری محمود خان موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے حالات قابو کرنے کی کوشش کی تاہم معاملہ تب بگڑ گیا تیمارداروں میں سے ایک شخص اس جگہ پہنچاجہاں ڈاکٹر دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔اس دو ران ہسپتال عملے نے اس تیماردار کی پٹائی کردی جس پر دیگر تیماردار بھی دوڑ کر وہاں پہنچے اور آپسی لڑائی شروع ہوگئی اور یہ تماشہ سماجی روابط کی سائٹوں پر وائرل ہوگیا۔ وائرل ہوئی ویڈیومیں یہ دیکھاجاسکتاہے کہ تین ڈاکٹرجن میں سے ایک کے ہاتھ میں چھڑی ہے ، ایک تیماردار کو پیٹ رہے ہیں اور ایک ڈاکٹر نے اسے کئی مرتبہ لاتیں ماریں جبکہ اس پر چھڑی کا استعمال بھی کیاگیا۔اس واقعہ کو دیکھ کر افراتفری کا عالم پیداہوا اور ہسپتال میں موجود لوگ دوڑ کریہ واقعہ دیکھنے پہنچے جہاں ڈاکٹر تیماردار وںکی پٹائی کررہے تھے ۔ایک عینی شاہد نے بتایاکہ صورتحال کو قابو کرنے کیلئے ہسپتال میں موجود پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا اورڈاکٹروں کے حملے سے تیماردار وں کو بچایا ۔دریں اثناء ہسپتال عملے کی طرف سے تیمارداروں پر حملے کے اس واقعہ کے بعد کھیورہ روڈ پرہسپتال کے سامنے بڑے پیمانے پر احتجاج کیاگیا جس میں دیگر لوگوں کے ہمراہ مار پیٹ کا شکار بننے والے تیماردار بھی شامل ہوئے ۔اس دوران تیمارداروں نے الزام عائد کیاکہ کچھ ڈاکٹروںنے ان پر عوام کے سامنے حملہ کیا۔وہیں دوسری طرف ہسپتال کے عملے نے کام کاج سے بائیکاٹ کرتے ہوئے اوپی ڈی سیکشن کے باہر دھرنادیا۔دھرنے پر بیٹھے عملے کا الزام ہے کہ تیمارداروں نے کچھ ڈاکٹروں پر حملہ کیا اور ہسپتال کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔عملے کی ہڑتال کے باعث ہسپتال میں تمام تر خدمات معطل رہیں اور لوگوں کو بے یارومددگار پریشان حال دیکھاگیا۔حالات کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد اور ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے ہسپتال عملے واحتجاج کررہے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کی ۔ تاہم ساڑھے تین گھنٹے تک ڈیڈ لاک برقرار رہا جس کے بعد ضلع انتظامیہ کسی طرح سے پہلے لوگوں اور پھر ہسپتال عملے کودھرنا ختم کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئی ۔دونوں طرف سے کی گئی مانگ پر ضلع انتظامیہ نے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کیاہے اور ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ شیر سنگھ کو انکوائری افسر مقرر کیاگیاہے ۔
 
 
 
 

تحقیقات 72گھنٹوںمیں مکمل ہوگی

راجوری //ہسپتال واقعہ پرتحقیقات کی تکمیل کیلئے بہتر گھنٹوں کا وقت مقرر کیاگیاہے۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازا سد نے بتایاکہ انہوںنے اس واقعہ پر عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کیاہے اور یہ انکوائری بہتر گھنٹوں میں مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے گی ۔وہیں ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے کہاکہ پولیس نے اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیاہے اور شواہد جمع کئے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہسپتال کی کچھ املاک کو بھی نقصان پہنچاہے اور پولیس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے ۔
 

تیمارداروں پر حملے کی ویڈیو وائرل 

راجوری //ہسپتال عملے کی طرف سے تیمارداروں پر کئے گئے حملے کی متعدد ویڈیوز سماجی روابط کی سائٹ پر وائرل ہوگئی ہیں ۔ان ویڈیوز کو دیکھنے والوں نے ہسپتال حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پورے واقعے کو ناقابل برداشت عمل قرار دیاہے ۔وائرل ہوئی ویڈیوز میں یہ دیکھاجاسکتاہے کہ ایک ڈاکٹر اور ہسپتال عملے کا ایک رکن نوجوان تیماردار کو باربار لاتیں ماررہاہے جبکہ ڈاکٹر نے ہاتھ میں ایک چھڑی اٹھارکھی ہے جس سے وہ اس تیماردار کی پٹائی کرنے میں مصروف ہے ۔
 

ڈاکٹروں کے حملے سے 4افراد زخمی ہوئے:تیماردار

راجوری //ضلع ہسپتال میں ڈاکٹروں کے حملے کاشکار بننے والے تیمارداروں نے اس بات کا دعویٰ کیاہے کہ ڈاکٹروں نے چار افراد کو زخمی کردیاہے ۔ایک تیماردار نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ خالق حسین، خالد حسین ، خلیل احمد اور محمد عمر کو ڈاکٹروں کے حملے کی وجہ سے چوٹیں آئی ہیں ۔انہوں نے الزام لگایاکہ ان کے رشتہ داروں کے علاج پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جو تین روز قبل تھنہ منڈی میں ٹیمپو حادثے کی وجہ سے زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ انہیں احتجاج کرنے کیلئے مجبور کیاگیاکیونکہ زخمیوں کا علاج نہیں کیاجارہاتھا۔انہوںنے بتایاکہ وہ احتجاج کررہے تھے کہ اسی دوران ایک ڈاکٹر نے وہاں پہنچ کر ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اوراس کے بعد دیگر عملہ اور ڈاکٹر بھی پارکنگ میں پہنچے جہاں انہوں نے بے رحمی سے تیمارداروں کی پٹائی کی ۔
 

تیمارداروں نے ڈاکٹر پر حملہ کیا:عملہ 

راجوری //ہسپتال عملے نے الزام لگایاہے کہ ہسپتال کے مین گیٹ پر تیمارداروںنے ایک ڈاکٹر پر حملہ کیا ۔عملے کاکہناہے کہ تیمارداربغیر کسی معقول وجہ کے احتجاج کررہے تھے اور اسی دوران انہوں نے ایک ڈاکٹر پر حملہ کیا ۔عملے نے مزید بتایاکہ تیمارداروں نے ہسپتال کی املاک کو بھی نقصان پہنچایااور ہسپتال احاطے میں افراتفری کا ماحول پیدا کیا۔انہوں نے کہاکہ وہ اس سلسلے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہسپتال میں ان کی حفاظت کیلئے انتظامات کئے جائیں ۔
 

تھنہ منڈی کے لوگ برہم 

طارق شال
تھنہ منڈی // ضلع ہسپتال راجوری میں پیش آئے واقعہ پر تھنہ منڈی کے لوگوںنے سخت برہمی کا اظہار کیاہے ۔ مقامی سیاسی، سماجی و غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان نے کہاکہ اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کی جائے ۔بیو پار منڈل تھنہ منڈی، ہمدرد فائونڈیشن، فلاح ملت، مغل روڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے علاوہ دیگرتنظیموں کے عہدیداران نے کہاکہ ضلع شفا خانہ راجوری میں ٹیمپو حادثے میں زخمیو ں کے ورثا نے ڈاکٹروں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کو منظر عام پر لانے پر احتجاج کیاجسکے رد عمل پر ڈاکٹروں اور ہسپتال کے طبی عملے نے ورثا کو تشدد کا نشانہ بنایاجس کی ویڈیوز سوشل میڈیاپر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ گنڈ ہ گردی ہے جسے برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے ڈاکٹروں ا ور طبی عملے کی کارروائی پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے علاج معالجہ کے بجائے مریضوں پر ڈنڈے برسائے ہیں۔ تھنہ منڈی کی تنظیموں نے کہا کہ ضلع ہسپتال راجوری کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو محکمہ صحت سے منتقل کر کے محکمہ پولیس میں بھرتی کردیاجاناچاہئے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ اگر اس واقعہ پر کارروائی نہ کی گئی تو تھنہ منڈی میں بڑے پیمانے پر احتجا ج ہوگا۔
 

ملوثین کیخلاف کارروائی کی جائے:ڈار

راجوری //پی ڈی پی کے نوجوان لیڈر تعظیم ڈار نے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے ۔واقعہ کے بعد کھیورہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈا رنے کہاکہ احتجاج پرامن طریقہ سے ہورہاتھا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے صورتحال کو قابو بھی کرلیا لیکن اسی دوران ہسپتال عملے کا ایک رکن وہاں پہنچا جس نے تیمارداروں کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسی کی وجہ سے ساری صورتحال پیش آئی ۔انہوں نے کہاکہ اس دوران ضلع انتظامیہ نے بھی موقعہ پر پہنچنے کیلئے وقت لگایا جس سے افراتفری کا عالم پیداہوا۔انہوں نے کہاکہ اس واقعہ میں ملوثین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ہسپتال کو میدان جنگ نہ بنایاجائے ۔