ضلع گاندربل میں رنگ روڑ کی تعمیر | کاشتکاروں کا سروے رپورٹ پر غور وغوص کرنے کا مطالبہ

گاندربل//گاندربل کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مقامی شہریوں نے رنگ روڈ کی سروے رپورٹ پر سوال اٹھائے ہیں ۔مقامی لوگوں نے سروے رپورٹ کو من مانے طریقے سے مرتب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ سروے سے رنگ روڈ بچی کھچی ملکیتی اراضی سے بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔گالندر سے نارہ بل اور نارہ بل سے گاندربل منیگام تک 60 کلو میٹر پر مشتمل 2100 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی رنگ روڈ کے خلاف، تولہ مولہ ،لار سن، کھرانیہامہ،ریپورہ،واتل باغ سے تعلق رکھنے والے مقامی شہریوں نے احتجاج کیا ،اور موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ رنگ روڈ تعمیر کا منصوبہ یا تو بند کردیا جائے یا پھر اسے نالہ سندھ کے کناروں سے ہوتے ہوئے منیگام بائی پاس سے منسلک کردیا جائے۔لارسن کے مقامی شہری محمد مقبول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ’’رنگ روڑ بننے سے مکینوں کی ایک بڑی تعداد کو بے گھر ہونے کا خدشہ ہے ،کیونکہ رنگ روڈ کیلئے سروے اُن جگہوں سے کی گئی ہے جہاں سے دھان اور باغات کی آراضی موجود ہے، ساتھ ہی کچھ علاقوں سے درجنوں مکانات اور کئی مساجد بھی اس کی ذد میں آتی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ حیرانی اس بات کی ہے کہ سمبل منیگام بائی پاس کیلئے جو آراضی تب حاصل کی گئی تھی ابھی اس میں سڑک کے دونوں کناروں سے 40 فٹ زمین موجود ہے اگر ٹریفک کا دباؤ کو کم کرنا ہے تو اس خالی زمین پر سڑک کو کشادہ کیا جائے لیکن حکام نے اس کے بجائے رنگ روڈ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے گاندربل کے درجنوں دیہات میں 2341 کنال دھان اور میوہ باغات کی آراضی ختم ہورہی ہے، انہوں نے دھمکی دی ہے کہ سڑک اگر اس سڑک کی سروس ٹھیک ڈھنگ سے نہ کی گئی تو وہ اہل خانہ سمیت سڑکوں پر نکل آئیں گئے ۔