ضلع کشتواڑ میں بارشوں سے ہنگامی صورتحال

 کشتواڑ//تین روز کی مسلسل بارشوں نے خطہ چناب میں ہنگامی صورتحال پیدا کی ۔ جہاں ندی نالوں میں طغیانی آئی ہے وہیں دریائے چناب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے جبکہ سڑکوں نے نالوں کی صورت اختیار کر رکھی ہے جس کے سبب لوگ کافی پریشان ہیں۔ اگر چہ جموں۔ کشتواڑ و کشتواڑ۔ سنتھن شاہرہ آمدرفت کے لئے کھلی ہیںلیکن ضلع کے درودراز علاقہ جات کی سڑکیں جو ضلع ہیڈکوارٹر سے ملتی ہیں، کئی مقامات پر پسیاں و تودے گرآنے سے بند پڑی ہیں۔وہیں مسلسل بارشوں سے مکی کی کھڑی فصل گر کر تباہ ہوگئی ہے۔ اس دوران میوہ باغات کو بھی کافی نقصان ہوا ہے اور تیارشدہ میوہ گرگیا ہے جس سے زمیندار طبقہ کافی پریشانی میں مبتلا ہے۔تحصیل چھاترو کے علاقہ گورینال میں بادل پھٹنے سے علاقہ کی طرف جانے والی سڑک اس کی زد میں آگئی وہیں فصلوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیڈھ پیڑہ کے مقام پر بارشوں سے پانی سڑک پر بہہ رہا ہے جس کے سبب سڑک نے نالے کی شکل اختیار کرلی۔ علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ جب بھی کبھی بارش ہوتی ہے تو سارا پانی سڑک پر بہنا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ محکمہ کی طرف سے ڈرینج کا کوئی انتظام نہیں ہے جس سے انہیں کافی مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں۔ہووڈنہ دروبیل جبکہ دونددی بونجواہ سڑک بھی کی مقامات پر پسیوں کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کو چلنے میں کئی مشکلات اٹھانی پڑرہی ہیں،جبکہ علاقہ سگدی میں بڑے بڑے پتھر و مٹی کے تودوں سے علاقہ کی طرف جانیوالی سڑک کئی جگہوں پر بند ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوے کہا کہ سنگم بتی سے سگدی تک کی سڑک معمولی سی بارشوں سے ہر بار بند ہوجاتی ہیں اور علاقہ کے لوگ خود اس سڑک پر پسیاں ہٹاتے ہیں لیکن انتظامیہ کا کوئی بھی افسر یا مشینری موقعہ پر نہیں ملتی جس سے علاقہ کے لوگوں میں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کی کہ سڑک پر پڑی پسیاں ہٹائی جائیں اور تارکول بچھایاجائے ۔وہیں 200 سے زائد کلومیٹر دور علاقہ مڑواہ بھی ضلع ہیڈکوارٹر سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ علاقہ کی طرف جانے والی سڑک متعدر مقامات پر پسیوں کی زد میں آئی ہیں جس سے لوگ گھروں میں ہی درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں۔بھاری بارشوں سے زمین کھسکنے کا خطرہ بھی لاحق ہورہاہے جس سے بالائی علاقوں کے لوگ کافی خوفزدہ ہیں اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔ لوگوں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تمام تر سڑک رابطوں پر سے پسیاں ہٹائی جائیں اور بارشوں سے تباہ ہوئی فصلوں پر کسانوں کو معقول معاوضہ فراہم کیاجائے۔