ضلع مجسٹریٹ اننت ناگ کا فوج کے نام مکتوب

 اننت ناگ+جموں//  کل فوج کی 2آر آر کو بھیجے گئے  ایک مکتوب میں  انہوں نے فوج سے کہا گیا کہ وہ شمسی پورہ میں کیمپ سے انخلا عمل میں لائیں۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ علاقہ میں امن و قانون کی صورتحال بغرنے کا خدشہ ہے لہذا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کیمپ کو ہٹایا جائے ۔مقامی لوگوں نے کیمپ ہٹانے کیلئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر کیمپ کو نہیں ہٹایا گیا تو وہ احتجاجی مہم چھیڑ دیں گے ۔ادھر قانون ساز اسمبلی میں کل ہی حکومت نے فوجی کیمپ کے قیام پر وضاحت دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور سینئر سپر انٹنڈنٹ آف پولیس سے کہا ہے کہ اس معاملے کو حل کیا جائے۔ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ نے 2آر آر کے کمانڈنگ آفیسر کے نام  ایک مکتوب زیر نمبرDMA/PA/2017/1612-14بتاریخ 20جنوری بھیجا ہے جس میں کمانڈنگ آفیسر سے کہا گیا ہے ’’ بتایا گاتا ہے کہ آپکا یونٹ سپورٹس سٹیڈیم میں ایک کیمپ  قائم کررہا ہے، مقامی آبادی کیمپ کے قیام کیخلاف ہے کیونکہ اسکے ارد گرد آبادی رہائش پذیر ہے اور کیمپ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،لہٰذا امن و قانون کی صورتحال پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے اس لئے اس صورتحال کو پیدا ہونے سے قبل ہی آپ سٹیڈیم سے انخلاء عمل میں لائیں‘‘۔دریں اثناء قانون ساز اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ممبر اسمبلی ہوم شالی بک عبدالمجید لارمی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور سخت احتجاج  کرتے ہوئے چاہ ایوان میں پہنچ کر حکومت کی توجہ شمسی پورہ ہوم شالی بگ میں فوجی کیمپ قائم کرنے کی طرف دلائی ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس پر بیان دیگی، لیکن سرکار خاموش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار اس سنگین معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دے گی تو علاقے میں امن وقانون کی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور سینئر سپر انٹنڈنٹ آف پولیس سے کہا ہے کہ اس معاملے کو حل کیا جائے۔لیکن اس کے جواب سے حزب اختلاف کے ممبران مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی۔