ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات | بی جے پی کا اردو زبان میں انتخابی منشور جاری | نوجوانوں کو 70ہزار نوکریاں دینے کا وعدہ

سرینگر// بی جے پی نے اتوار کے روز جموں کشمیر میں جاری ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کیلئے اردو میں اپنا انتخابی منشور جاری کیا۔ سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران  بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے جنرل سکریٹری اور کشمیر امور کے انچارج وبودھ گپتانے صوفی یوسف اور درخشاں اندرابی کی موجودگی میں منشور جاری کیا۔ پارٹی نیمنشور میں دعویٰ کیا  ہے بی جے پی نے دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے ملک کو متحد کردیا ہے جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کی تھی۔اس میں مزید کہا گیا کہ7 مین اسٹریم جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر مشتمل اتحاد ووٹ بینک سیاست کیلئے قومی مفاد کے خلاف کام کر رہی تھیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ تنظیم نو کے بعد جموں و کشمیر کو ترقی اور امن کی راہ پر گامزن کردیا گیا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ پتھراؤ ختم کیا گیا اور انتہا پسندی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے۔منشور میں ، بی جے پی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مرکزی زیر انتظام خطے کے باشندوں کے لئے 100 فیصد سرکاری ملازمتیں محفوظ رکھیں ہیںاور ایسی پالیسی وضع کی جس سے صنعتی ترقی ہو گی۔پارٹی نے کہا کہ اس نے مرکزی زیر انتظام علاقے میں بدعنوانی اور زمینوں پر قبضے کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ہے۔منشور میں کہا گیا ہے مرکزی زیر انتظام والے خطے میں بجلی ، پانی کی فراہمی اورسڑک روابط جیسی بنیادی سہولیات کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔بی جے پی نے ایس آر او 202 کو ختم کرنے کا سہرا بھی اپنے سر باندھا۔یہ پالیسی پی ڈی پی،بی جے پی حکومت نے 2015 میں لائی تھی ، جس کے تحت جموں و کشمیر میں نئے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کو مکمل تنخواہ ادا کرنے سے پہلے سات سال تک معمولی معاوضہ ادا کیا جاتا تھا۔ اس موقعہ پروبودھ گپتا نے نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا’’بی جے پی جموں و کشمیر کے 70ہزار نوجوانوں کو روزگار دینے والی ہے، ان 70 ہزار میں سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 15ہزار نوکریوں کے لئے بھرتی عمل شروع کر دیا ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’عارضی ملازمین کی نوکریاں مستقل کی جائیں گی، یہ بھی بی جے پی کا ان ملازمین سے وعدہ ہے‘‘۔