ضلع بڈگام میںسیلاب سے بچائو کیلئے اقدامات کا فقدان

بڈگام //ستمبرکا مہینہ کے آتے ہی ذہن میںسال2014  کے سیلاب کی  قہر سامانیاں نقش کرنے لگتی ہے لیکن  قہر انگیز سیلاب کے تین سال گزر جانے کے بعد بھی ضلع بڈگام کے بڑے اہم نالوں پرممکنہ سیلابی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے ضرورت کے مطابق اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔ریاست کے ا ری گیشن اور فلڈ کنٹرول محکمے کو فلڈ منیجمنٹ پروگرام کے تحت ضلع بڈگام میں3 بڑے  نالوں پرحفاظتی باندھ اور دوسرے ضروری کاموں کے لئے منصوبے بھیجے گئے لیکن آج تک صرف نالہ دودھ گنگا کے پروجیکٹ کو منظوری ملی ہے جبکہ نالہ شالی گنگا اور گوگل ڈارہ کا منصوبہ ہنوز التوا میں پڑا ہے اورنالہ سوکھناگ کے لئے ضلع انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی منصوبہ نہیں بھیجا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نالہ سوکھناگ میں 2014 میں آئے سیلاب کی زد میں آکر 3افرادہلاک اور کئی کنال کی زرعی زمین کو سیلاب نے اپنے ساتھ بہا لیا تھا ۔ذرائع کے مطابق ضلع انتظامیہ کی طرف سے تین اہم نالوں کے پروجیکٹس کا ڈی پی آر چیف انجینئر اری گیشن و فلڈ کنٹرول کو روانہ کیا گیا ہے ۔ ان میں نالہ دودھ گنگا کا 12کروڑ کا پروجیکٹ منظورہوا ہے لیکن اس پروجیکٹ پر صرف 2 کروڑ روپے کی رقم واگزار کی جاچکی ہے جبکہ اس نالے پر قریباَ5 کروڑ روپے کا کام مکمل کیا گیا ہے جبکہ کئے گئے کام کے مقابلے میں فنڈس کی عدم واگزاری کی وجہ سے اس منصوبے پر کام سست رفتاری سے چل رہا ہے ۔دوسری جانب فلڈ منیجمنٹ پروگرام کے تحت  نالہ گوگل ڈارہ کا منصوبہ جو حکام کے بقول گیار ہ کروڑ روپے کا ہے اور نالہ شالی گنگا کا منصوبہ جو 12 کروڑروہے کا ہے ،ابھی تک منظوری کے لئے التوا میں پڑا ہوا ہے جس وجہ ان نا لوں پر3سالوں سے کوئی بھی بڑا کام نہیں کیا جارہا ہے ۔ واضع رہے  موسلا دھار بارشوں کے ہوتے ہی ان نالوں کے کنارے آباد بستیوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے کیونکہ ان نالوں میں آنے والی تغیانی خطرناک سیلابی صورت ِ حال کو جنم دیتی ہے جو اب ہر سال تیز بارشوں کے دوارن اپنے ساتھ کئی کنال زراعی زمین کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔دری گام ، ناری پورہ ، آری گام ، آرم پورہ ، بانڈ پورہ ،حشرو ، ماشی باغ ، پانزن ، اور بچھرو نامی گاوں سے گزرنے والے نالہ شالی گنگا بارشوں کے دنوں میںپُر خطر بن جاتا ہے ۔ نالے سے مسلسل ریت اور باجری نکالے جانے کے سبب بارش ہوتے ہی اس نالے میں پانی کی سطح اور بہاو بڑھ جاتا ہے ۔دریگام کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال 2014 کے بعد سے انکی بستیوں کے پاس اس نالے کے کناروں پر کوئی بھی حفاظتی باندھ تعمیر نہیں کئے گئے جسکی وجہ سے بار بار نالے میں پانی کی سطح بڑتے ہی سیلابی پانی گاوں کے اندر داخل ہوجاتا ہے ۔مقامی لوگوں کا یہ بھی الزام تھا کہ سال 2014کے سیلاب میں ہوئے نقصان کے حوالے سے انکے کیسز بھی ابھی تک التوا میں پڑے ہوئے ہیں اور انکے حق میں ریلیف بھی واگزار نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح کا حال نالہ گوگل ڈارہ کا ہے،3 سال قبل ہمچی پورہ ، لبرتل ،دلواش، تراپے ، پٹھ شارن ، بن شارن ، الہ پورہ ، پالہ پورہ ، اور کاندہامہ نامی جگہوں پر کئی کنال کی اراضی سیلاب میں بہہ گئی تھی ۔ اس نالے پر ابھی تک حفاظتی باندھ تعمیر نہیں کئے گئے ہیں ۔نالہ سوکھناگ کے کناروں پر آباد بونہ زانی گام ، پٹھ زانی گام ، سیلا، کانگڑی پورہ ، ڈونکلی باغ رواتھ پورہ ، گوری پورہ ، گوہ لر ، بیروہ ، آرواہ ، رٹھسن ،مکہامہ ، نامی گاوں کی بستیاں بھی سیلابی صورت میں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ نالوں سے ہر سال مسلسل بنیادوں پر غیر قانونی طور سے ریت اور باجری نکالے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے جو ان نالوں کے آس پاس آبادی بستیوں کے مطابق انکے لئے خطرہ پیدا کرنے والا عمل ہے ۔جس پر روک لگانے کی ضرورت ہے ۔ضلع میں سیلابی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی اقدامات نہ کئے جانے کے حوالے سے ایگزیکٹیوانجینئر فلڈ سپل چنل ڈویژن ناربل سراج الدین شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ  فنڈس کی عدم دستیابی اور منصوبوں کی منظوری زیر التوا ہونے کے سبب ضلع میں محکمہ ان نالوں پر کام نہیں کر پارہا ہے تاہم انکے بقول محکمہ اپنے ضلعی بجٹ میں سے ہی نالوں پر چھوٹے موٹے کام کر رہا ہے ۔