ضلع اسپتال شوپیان کا معائینہ

سرینگر//ڈپٹی کمشنر شوپیان نے ضلع کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کا اچانک معائینہ کرتے ہوئے یہاں بیماروں کو فراہم کی جارہی سہولیات کا جائزہ لینے کے علاوہ 55غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت وجہ بتائو نوٹس جاری کردئے ہیں۔ شوپیان میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کی خاطر منگلوار کو ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر اُویس احمد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شبیر حسین بٹ کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ہسپتال شوپیان کا اچانک معائینہ کرتے ہو ئے یہاں کام کاج کا جائزہ لیا۔معلوم ہوا کہ ضلع انتظامیہ سے وابستہ اعلیٰ افسران کی خصوصی ٹیم جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر اُویس احمد کررہے تھے کی قیادت میں ایک ٹیم ضلع بھر میں بیماروں کو فراہم کی جارہی طبی سہولیات کا جائزہ لینے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچے۔ ٹیم نے اس موقعے پر ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے علاوہ یہاں بیماروں کو فراہم کی جارہی طبی سہولیات سے آگاہی حاصل کی۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقعے پر یہاں موجود طبی و نیم طبی عملے سے بیماروں کو فراہم کی جارہی سہولیات سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے علاوہ یہاں دیگر اُمور کا بھی جائزہ لیا۔کے این ایس کے مطابق ڈی سی شوپیان نے اس موقعے پر ہسپتال انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بیماروں کے لیے بہتر اور مناسب انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ہسپتال میں بسروں کی فراہمی، گرمی کا معقول انتظام، کمروں کی صفائی کے علاوہ دیگر طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔معائینے کے دوران ڈی سی اُویس احمد نے طبی و نیم طبی عملے کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بیماروں اور مریضوں کو خدمت میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں اور خلوص دل سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں تاکہ مریض اور بیمار لوگوں کوتشخص اور ملاحظے کے دوران کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس موقعے پر اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہتر اور معقول طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ وعدہ بند ہے۔ اس دوران ضلع انتطامیہ نے ہسپتال میں غیر حاضر 55ملازمین کے خلاف سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کے نام وجہ بتائو نوٹس اجرا کی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ غیر حاضرملازمین میں سے 11ڈاکٹر صاحبان اور 44نیم طبی عملے سے وابستہ ملازمین شامل ہیں جو بلااجازت ڈیوٹیوں سے غیر حاضر رہے ہیں۔اس موقعے پر ڈی سی نے غیر حاضر ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ڈیوٹیوں سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کی تاناشاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ (کے این ایس )